میں عزادار ہوں…
*عزاداری کیسی ہو؟ قرآن اور سیرتِ اہل بیتؑ کی روشنی میں*
امام حسینؑ پر رونا سعادت ہے، مگر امام حسینؑ کی تعلیمات پر چلنا نجات ہے۔
ولایت کی حفاظت میں خواتین کا کردار
جنابِ فاطمہ زہراء؛ مدافعِ ولایت و امامت
*فقہ سے ماوراء احکام*
*ظہورِ امام عج اور اُمت کی آمادگی*
*حکومت اسلامی اور جدید مسائل: نصِ خاص سے عقلی استنباط تک*
حجت الاسلام و المسلمین مولانا علی اصغر سیفی صراط ٹائمز / اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر ادا کرنا عقل و نقل دونوں کے مطابق واجب ہے، لیکن افسوس کہ اکثر نعمتیں ناشکری کا شکار ہوتی ہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ جتنی بڑی نعمت ہوتی ہے، اتنی ہی زیادہ اس کی ناقدری کی […]
جس طرح اللہ نے سابقہ اقوام میں انبیاء یا اولیاء کو خلیفہ بنایا، ویسے ہی یہ وعدہ امت محمدیہ کے لیے ہے، جس کا حقیقی مصداق امام مہدیؑ کی حکومت ہے۔
یہ نکات دعائے عہد کے گہرے مفاہیم کو واضح کرتے ہیں اور امام زمانہ (عج) سے حقیقی وابستگی اور عملی طور پر منتظر رہنے کی راہ دکھاتے ہیں۔
“شہیدہ آمنہ صرف ایک ادیبہ یا خطیبہ نہیں تھیں بلکہ وہ ایک مکمل انقلابی خاتون تھیں۔ ان کی حیات سے ہمیں یہ سیکھنا چاہیے کہ دین کی خدمت ہر میدان میں ممکن ہے، چاہے وہ تعلیم ہو، ادب ہو یا سیاسی شعور۔”
دل کبھی بہار جیسا ہوتا ہے اور کبھی خزاں جیسا، تو جب دل خزاں کی حالت میں ہو، اُسے اذیت نہ دو، اُسے رنجیدہ نہ کرو، اور واجبات پر اکتفا کرو
علم انسان کی حقیقی قیمت اور روحانی مقام کا معیار ہے۔جاہل اور عالم کبھی برابر نہیں ہو سکتے۔یہ قرآن کا اصول ہے کہ فضیلت کا دارومدار تقویٰ اور علم پر ہے، نہ کہ مال، نسل یا ظاہری حیثیت پر۔
انسان کی اصل قدر و قیمت اس کے علم، کردار اور مہارت میں ہے نہ کہ اس کے مال، حسب یا نسب میں۔
تقیہ فقط جان بچانے کا عمل نہیں، بلکہ ایک وسیع المعنٰی الٰہی حکمت ہے جس کے ذریعے اہلِ حق اپنی بقاء، اپنے دین، اور قیادت کی حفاظت کرتے ہوئے آنے والے وقت کے لیے راہ ہموار کرتے ہیں۔ یہ ظاہری کمزوری نہیں بلکہ باطنی بصیرت کا اظہار ہے