45

تفسیر قرآن / سورہ نور آیت 55

  • نیوز کوڈ : 1585
  • 20 April 2025 - 1:10
تفسیر قرآن / سورہ نور آیت 55

جس طرح اللہ نے سابقہ اقوام میں انبیاء یا اولیاء کو خلیفہ بنایا، ویسے ہی یہ وعدہ امت محمدیہ کے لیے ہے، جس کا حقیقی مصداق امام مہدیؑ کی حکومت ہے۔

وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُم فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ

ترجمہ: اللہ نے وعدہ کیا ہے ان لوگوں سے جو تم میں سے ایمان لائے اور نیک عمل کیے کہ وہ ان کو ضرور زمین میں خلیفہ بنائے گا، جیسے وہ ان سے پہلے لوگوں کو خلیفہ بنا چکا ہے، اور ان کے لیے ان کے دین کو ضرور غالب کرے گا جسے اس نے ان کے لیے پسند کیا ہے، اور ان کے خوف کو ضرور امن سے بدل دے گا۔ وہ میری عبادت کریں گے اور میرے ساتھ کسی کو شریک نہیں کریں گے۔

:تفسیر المیزان

علامہ طباطبائیؒ اس آیت کو ظہور امام مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ کی طرف اشارہ سمجھتے ہیں۔ ان کی تشریح کے اہم نکات درج ذیل ہیں:

:وعدہ الٰہی کا عمومی اطلاق
یہ وعدہ ان تمام مؤمنین سے ہے جو حقیقی ایمان اور عمل صالح رکھتے ہیں۔ لیکن اس کا کامل اور آخری ظہور امام مہدیؑ کے زمانے میں ہوگا، جب زمین عدل و انصاف سے بھر جائے گی۔

:خلافت فی الارض
جس طرح اللہ نے سابقہ اقوام میں انبیاء یا اولیاء کو خلیفہ بنایا، ویسے ہی یہ وعدہ امت محمدیہ کے لیے ہے، جس کا حقیقی مصداق امام مہدیؑ کی حکومت ہے۔

:امن کا قیام
امام مہدیؑ کے ظہور کے بعد دنیا میں ظلم و ستم کا خاتمہ ہوگا، اور مؤمنین کو حقیقی امن نصیب ہوگا۔

دین کا غلبہ
امام مہدیؑ کے ذریعہ دین اسلام تمام ادیان پر غالب آئے گا جیسا کہ دوسرے مقامات (جیسے سورہ توبہ:33) پر بھی وعدہ ہے۔

مختصر لنک: https://www.siraat-times.com/?p=1585

ٹیگز

تبصرے