میں عزادار ہوں…
*عزاداری کیسی ہو؟ قرآن اور سیرتِ اہل بیتؑ کی روشنی میں*
امام حسینؑ پر رونا سعادت ہے، مگر امام حسینؑ کی تعلیمات پر چلنا نجات ہے۔
ولایت کی حفاظت میں خواتین کا کردار
جنابِ فاطمہ زہراء؛ مدافعِ ولایت و امامت
*فقہ سے ماوراء احکام*
*ظہورِ امام عج اور اُمت کی آمادگی*
*حکومت اسلامی اور جدید مسائل: نصِ خاص سے عقلی استنباط تک*
*عزاداری کیسی ہو؟ قرآن اور سیرتِ اہل بیتؑ کی روشنی میں*
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ تحریر: سہد جہانزیب عابدی قرآن فہمی ایک نہایت لطیف، دقیق اور ہمہ گیر عمل ہے جس کے لیے صرف زبان دانی یا ترجمہ کافی نہیں ہوتا، بلکہ ایک بیدار دل، متدبر عقل، اور روحانی حساسیت کی ضرورت ہوتی ہے۔ قرآن کو سمجھنے کے بنیادی اصولوں میں سب سے پہلے یہ شعور […]
جو شخص خلوصِ نیت کے ساتھ حضرت فاطمہ معصومہ کی زیارت کرے، اس کے لیے جنت واجب ہو جائے گی
21 اپریل، وہ دن جب برصغیر کا ایک عظیم مفکر، شاعر، مصلح اور فلسفی ڈاکٹر علامہ محمد اقبال ہم سے جدا ہوا۔ مگر ان کے خیالات، ان کا کلام اور ان کی فکری روشنی آج بھی اہلِ ایمان کے دلوں کو منور کرتی ہے۔
تقیہ فقط جان بچانے کا عمل نہیں، بلکہ ایک وسیع المعنٰی الٰہی حکمت ہے جس کے ذریعے اہلِ حق اپنی بقاء، اپنے دین، اور قیادت کی حفاظت کرتے ہوئے آنے والے وقت کے لیے راہ ہموار کرتے ہیں۔ یہ ظاہری کمزوری نہیں بلکہ باطنی بصیرت کا اظہار ہے
یہ وقت ہے کہ ہم امام حسینؑ کی قربانی کو ایک جذباتی واقعہ نہیں، بلکہ ایک “نظامِ مزاحمت” کے طور پر اپنائیں۔
نوجوانی میں تعلیم کیوں ضروری ہے؟(نوجوانوں کی حصول تعلیم کیلئے غلط اہداف انہیں تعلیم سے دور کررہے ہیں، حل کیا ہے ؟) بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ تحریر : سید جہانزیب عابدی جدید دور کے ٹین ایجرز ایک ایسی دنیا میں جی رہے ہیں جو غیر معمولی حد تک تیز رفتار، پرکشش اور ڈیجیٹل کشش سے […]
درس مہدویت بروز جمعہمظلوم فلسطینی مسلمانوں کی کیسے مدد کریں بروز جمعہ، 11 اپریل 2025 استاد محترم قبلہ علامہ علی اصغر سیفی صاحب ۔۔’ ﷽’۔۔وَلَمْ يُهَاجِرُوا۟ مَا لَكُم مِّن وَلَـٰيَتِهِم مِّن شَىْءٍ حَتَّىٰ يُهَاجِرُوا۟ ۚ وَإِنِ ٱسْتَنصَرُوكُمْ فِى ٱلدِّينِ فَعَلَيْكُمُ ٱلنَّصْرُسورہ الانفال 72 اللھم صلی علی محمؐدﷺ وآل محمؑدﷺ موجودہ دور میں دنیا میں جو کچھ ہو […]
دنیا ایک بار پھر ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں ظلم و بربریت نے انسانیت کو روند ڈالا ہے۔ معصوم چہروں پر بموں کی راکھ، ماؤں کی آہوں سے لرزتا آسمان، اور خاموش تماشائی بنتی انسانیت… یہ سب کچھ گواہ ہے کہ ہم ایک عظیم امتحان سے گزر رہے ہیں۔
اس مومن کی کامیابی اس کے عمل میں بھی ظاہر ہوتی ہے۔ وہ علم حاصل کرتا ہے تاکہ بصیرت پیدا ہو، وہ زبان اور قلم سے حق کی بات کرتا ہے، لوگوں میں امید، اخلاص، اور انتظار کا شعور بیدار کرتا ہے۔
پس یہ فرض ہے کہ ہم قرآن کی روشنی میں دنیا کے حالیہ استعماری نظام کا تجزیہ کریں، طاغوتی سازشوں کو پہچانیں، ان کے خلاف علمی، اخلاقی، اور عملی سطح پر جہاد کریں، اور یقین رکھیں کہ انجام کار اللہ کا وعدہ سچا ہے، اور مکر و فریب کی بنیادوں پر قائم نظام فنا ہونے والا ہے۔ حق ہمیشہ غالب رہنے والا ہے، کیونکہ وہ رب کی سنت ہے جس میں کوئی تبدیلی نہیں آتی۔