نوجوانی میں تعلیم کیوں ضروری ہے؟
(نوجوانوں کی حصول تعلیم کیلئے غلط اہداف انہیں تعلیم سے دور کررہے ہیں، حل کیا ہے ؟)
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔
تحریر : سید جہانزیب عابدی
جدید دور کے ٹین ایجرز ایک ایسی دنیا میں جی رہے ہیں جو غیر معمولی حد تک تیز رفتار، پرکشش اور ڈیجیٹل کشش سے بھرپور ہے۔ وہ دنیا جہاں مصنوعی ذہانت (AI)، انفارمیشن ٹیکنالوجی (IT)، سوشل میڈیا، گیمنگ اور یوٹیوب جیسے پلیٹ فارمز نے نوجوانوں کے ذہنوں اور دلوں میں یہ خیال راسخ کر دیا ہے کہ کامیابی صرف پیسہ کمانے، شہرت حاصل کرنے یا ‘وائرل’ ہونے کا نام ہے۔ ایسے میں جب وہ دیکھتے ہیں کہ ایک گیمر یا سوشل میڈیا انفلوئنسر لاکھوں روپے صرف چند ویڈیوز یا لائیکس کے بدلے کما رہا ہے، تو ان کے ذہن میں فطری طور پر یہ سوال ابھرتا ہے کہ پھر تعلیم کا فائدہ کیا ہے؟ یہ سوچ بہت خطرناک شکل اختیار کر لیتی ہے جب تعلیم صرف ڈگری حاصل کرنے، امتحان پاس کرنے یا والدین کو خوش کرنے کا ذریعہ بن جائے اور اس کے اندر جو روح، بصیرت اور کردار سازی کا پہلو ہے وہ دھندلا جائے۔ اگرچہ پیسہ کمانا زندگی کا ایک اہم پہلو ہے اور اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا، مگر اس کو زندگی کا واحد مقصد سمجھ لینا انسان کو نہ صرف تعلیم بلکہ زندگی کے اصل مقصد سے بھی دور کر دیتا ہے۔ بچوں کے دلوں میں تعلیم کی رغبت پیدا کرنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ پیسے کے تصور کو تعلیم سے جوڑ کر اس انداز میں پیش کیا جائے جو صرف دنیاوی فوائد تک محدود نہ ہو بلکہ شخصیت سازی، مہارت، خدمت، اور عزتِ نفس سے بھی متعلق ہو۔
ہمیں بچوں کو یہ سمجھانے کی ضرورت ہے کہ پیسہ خود کوئی برائی نہیں، لیکن بغیر علم کے حاصل کیا گیا پیسہ اکثر انسان کو خودغرض، غیر ذمہ دار، یا گمراہ کر دیتا ہے۔ تعلیم انسان کو صرف روزگار کے لیے ہی تیار نہیں کرتی، بلکہ وہ اسے سیکھنے، سمجھنے، مسائل کو حل کرنے، دوسروں کے ساتھ حسنِ سلوک سے پیش آنے، اور خود کو بہتر بنانے کا شعور عطا کرتی ہے۔ ایک بچہ جب دیکھتا ہے کہ تعلیم یافتہ لوگ نہ صرف بہتر پیسہ کماتے ہیں بلکہ معاشرے میں ان کی عزت بھی ہوتی ہے، ان کے فیصلے سنے جاتے ہیں، اور وہ دوسروں کی زندگیوں کو بہتر بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں، تو اس کی سوچ تبدیل ہونے لگتی ہے۔
آج تعلیم کے خلاف جو غیر محسوس بغاوت نوجوانوں کے اندر پیدا ہو رہی ہے، اس کی ایک بڑی وجہ یہی ہے کہ وہ تعلیم کو زندگی کے حقیقی مسائل سے کٹا ہوا محسوس کرتے ہیں۔ وہ محسوس کرتے ہیں کہ اسکول میں جو کچھ پڑھایا جا رہا ہے، اس کا ان کی عملی زندگی سے کوئی تعلق نہیں۔ جب بچے الجبرا کے فارمولے، سائنس کی اصطلاحات یا تاریخ کی تاریخیں یاد کرتے ہیں، لیکن یہ نہیں جان پاتے کہ ان چیزوں کا ان کی روزمرہ کی زندگی، ان کے جذبات یا ان کے خوابوں سے کیا تعلق ہے، تو وہ قدرتی طور پر علم سے دور ہونے لگتے ہیں۔
دوسری جانب والدین اور اساتذہ اکثر تعلیم کی اہمیت پر زور تو دیتے ہیں، لیکن اس انداز میں کہ جس میں محبت کم اور دباؤ زیادہ ہوتا ہے۔ مثلاً یہ کہنا کہ “پڑھائی نہ کی تو کچھ نہیں بنو گے” یا “آج کل تو پڑھا لکھا انسان ہی کامیاب ہوتا ہے”—یہ جملے شاید نیت کے لحاظ سے درست ہوں، لیکن بچے کے ذہن پر یہ دباؤ ڈالتے ہیں، اسے خوف دلاتے ہیں، جبکہ آج کا نوجوان صرف خوف سے متحرک نہیں ہوتا، بلکہ وہ سمجھنا چاہتا ہے، دلیل مانگتا ہے، اور خود اپنی اہمیت کا ادراک چاہتا ہے۔
ایسے میں ہمیں تعلیم کے مفہوم کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں بچوں کو یہ سمجھانا ہوگا کہ تعلیم صرف ایک ذریعہ معاش نہیں بلکہ ایک ذریعہ حیات ہے۔ تعلیم صرف روزگار کی سیڑھی نہیں، یہ شعور کی کھڑکی بھی ہے، کردار کی تعمیر بھی ہے، اور انسانی معاشرت کو بہتر بنانے کا ذریعہ بھی۔ ایک تعلیم یافتہ انسان صرف کمانے کے لیے نہیں جیتا، بلکہ سوچنے، محسوس کرنے، سوال کرنے، سچائی کو تلاش کرنے اور زندگی کو باوقار طریقے سے گزارنے کا سلیقہ سیکھتا ہے۔
اگر ہم تعلیم کو بچوں کے سامنے صرف امتحانات کی تیاری، گریڈز کے حصول یا نوکری کی دوڑ کے تناظر میں پیش کریں گے، تو وہ اس سے بدظن ہوں گے۔ لیکن اگر ہم علم کو ایک تخلیقی تجربہ، ایک خود شناسی کا ذریعہ، اور اپنے شوق کو مقصد میں ڈھالنے کا راستہ بنا کر پیش کریں، تو بچے خود بخود اس کی طرف مائل ہوں گے۔ تعلیم کو خشک اور الگ تھلگ نظریاتی معلومات کی بجائے بچوں کی دلچسپی، سوالات، مشاہدات اور زندگی کی حرارت سے جوڑنا ہوگا۔
بچوں کو چاہیے کہ وہ اس بات پر غور کریں کہ آج کے دور میں ٹیکنالوجی، طب، انجینئرنگ، بزنس، اور یہاں تک کہ آرٹس اور لسانیات جیسے شعبے بھی اُن لوگوں کے ہاتھ میں ہیں جنہوں نے محنت سے تعلیم حاصل کی، مہارتیں سیکھیں، اور علم کی بنیاد پر اپنے راستے بنائے۔ چاہے وہ یوٹیوب ہو یا پروگرامنگ، گرافک ڈیزائن ہو یا ڈیجیٹل مارکیٹنگ، ہر جگہ تعلیم اور تربیت کی ضرورت ہے۔ اگر بچے پیسہ کمانا چاہتے ہیں، تو ان کو یہ بات سکھائی جانی چاہیے کہ بغیر علم اور مہارت کے کمائی کا سلسلہ عارضی، غیر محفوظ، اور کم سطحی ہوتا ہے، جبکہ علم کے ذریعے کمائی جانے والی دولت پائیدار، بابرکت، اور خود اعتمادی بخش ہوتی ہے۔
اساتذہ اور والدین دونوں کا کردار یہاں بہت اہم ہے۔ والدین کو چاہیے کہ بچوں کے خوابوں کو سنیں، ان کی دلچسپیوں کو سمجھیں، اور ان کے شوق کو تعلیمی راہ میں ڈھالیں۔مثلاً جب کوئی بچہ سوشل میڈیا پر دلچسپی رکھتا ہے، تو اسے یہ سمجھایا جا سکتا ہے کہ سوشل میڈیا کے پیچھے جو نفسیات، جو کمیونیکیشن تھیوری، جو ٹیکنالوجی، جو معاشرتی اثرات اور جو اخلاقی سوالات ہیں—یہ سب تعلیم سے جُڑے ہوئے ہیں۔ اگر وہ یوٹیوب پر ویڈیوز بنانا پسند کرتا ہے تو اسے یہ دکھایا جا سکتا ہے کہ ایک کامیاب ویڈیو میں زبان کا کیا کردار ہوتا ہے (لینگویج آرٹس)، کس قسم کی روشنی اور زاویہ استعمال ہوتا ہے (فزکس)، مواد کی ترتیب میں نفسیات کا کیا دخل ہے، اور اس کے اثرات کس قسم کے سماجی رویے پیدا کرتے ہیں (سوشیالوجی)۔ اگر بچہ کمپیوٹر گیمز میں دلچسپی رکھتا ہے، تو اسے گیم ڈویلپمنٹ، گرافک ڈیزائن، یا کوڈنگ کی طرف راغب کیا جا سکتا ہے تاکہ وہ محسوس کرے کہ اس کا شوق تعلیم کے ذریعے ترقی پا سکتا ہے۔ اسی طرح اگر کوئی بچہ آرٹ میں دلچسپی رکھتا ہے، تو اسے سمجھایا جا سکتا ہے کہ وہ تعلیم کے ذریعے ایک کامیاب آرٹسٹ، اینی میٹر، یا کریئیٹو ڈائریکٹر بن سکتا ہے، جس سے وہ پیسہ بھی کما سکتا ہے اور عزت بھی پا سکتا ہے۔ تھوڑا تفصیل سے دیکھیں تو پرائمری سطح پر بچے جو بنیادی مضامین پڑھتے ہیں، جیسے ریاضی، زبان، سائنس، اور مطالعہ پاکستان، وہ بظاہر سادہ لگتے ہیں مگر دراصل یہ ہی بنیاد بنتے ہیں مستقبل کے کسی بھی پیشے یا مہارت کی۔ مثال کے طور پر ریاضی میں سیکھے گئے عددی تصورات، جمع تفریق، فی صد، اور پیمائش جیسے موضوعات بعد میں کاروبار، بینکنگ، اکاؤنٹنگ یا حتیٰ کہ آن لائن شاپنگ اور بجٹ بنانے تک میں کام آتے ہیں۔ زبان (اردو یا انگریزی) کے ذریعے بچے لکھنے، بولنے، اور سمجھنے کی مہارتیں حاصل کرتے ہیں جو بعد میں کسی بھی پیشے میں—چاہے وہ استادی ہو، صحافت، کانٹینٹ رائٹنگ، یا وکالت—میں بنیادی حیثیت رکھتی ہیں۔ سائنس بچوں کو مشاہدہ، تجربہ، اور تجسس کی طرف مائل کرتی ہے، جو انہیں مستقبل میں ڈاکٹر، فارماسسٹ، لیب ٹیکنیشن، یا کسی سائنسی میدان میں لے جا سکتی ہے۔ مطالعہ پاکستان اور اسلامیات انہیں تاریخ، ثقافت، اور اقدار سے جوڑتے ہیں، جو آگے جا کر کسی سوشل ورکر، استاد، محقق یا مصنف کے کام آ سکتے ہیں۔
سیکنڈری سطح پر آ کر مضامین تھوڑے تخصصی ہو جاتے ہیں اور بچوں کو ان کی عملی افادیت کا اندازہ ہونے لگتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر کوئی طالب علم کمپیوٹر پڑھتا ہے تو وہ بنیادی پروگرامنگ، ورڈ پراسیسنگ، اور ڈیزائننگ جیسے اسکلز سیکھتا ہے جنہیں بعد میں فری لانسنگ یا نوکری میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ریاضی کا مضمون الجبرا، جیومیٹری، اور ڈیٹا ہینڈلنگ جیسے شعبے سکھاتا ہے جو بعد میں انجینئرنگ، اکاؤنٹنگ، یا بزنس مینجمنٹ کے لیے ضروری ہوتے ہیں۔ سائنس کے مضامین بچوں کو فزکس، کیمسٹری اور بایولوجی جیسے شعبوں سے متعارف کرواتے ہیں جن سے وہ آگے چل کر میڈیکل، فارما، ریسرچ یا انوائرنمنٹل اسٹڈیز کی طرف جا سکتے ہیں۔ زبان کے مضامین جیسے اردو اور انگریزی، بچوں میں تخلیقی صلاحیت، تحریر کی خوبصورتی، اور اظہار کی مہارت پیدا کرتے ہیں جو انہیں مصنف، بلاگر، یوٹیوبر، ترجمہ نگار یا اسپیکر بننے کی راہ دکھاتے ہیں۔
ہائی اسکول کی سطح پر مضامین مزید واضح راستے فراہم کرتے ہیں۔ اکنامکس، کامرس، بزنس اسٹڈیز، کمپیوٹر سائنس، بایولوجی، فزکس، سوشیالوجی، نفسیات—یہ سب مضامین ایسے شعبوں سے متعلق ہوتے ہیں جن سے بچے عملی دنیا میں داخل ہو کر روزگار حاصل کر سکتے ہیں۔ مثلاً بزنس اسٹڈیز اور اکاؤنٹنگ سیکھنے والے بچے اپنے کاروبار شروع کرنے کے قابل ہو جاتے ہیں یا بینکوں اور کمپنیوں میں نوکری کے اہل ہو جاتے ہیں۔ کمپیوٹر سائنس کے طلبہ ویب ڈویلپمنٹ، گرافک ڈیزائن، یا سافٹ ویئر انجینئرنگ میں مہارت حاصل کر کے گھر بیٹھے بھی کمائی کر سکتے ہیں۔ بایولوجی اور فزکس کے طالب علم میڈیکل اور انجینئرنگ کی فیلڈ میں جا سکتے ہیں، جہاں مہارت کے ساتھ ساتھ اچھی آمدنی بھی حاصل ہوتی ہے۔ سوشیالوجی یا نفسیات جیسے مضامین معاشرتی مسائل کو سمجھنے اور حل کرنے میں مدد دیتے ہیں، جن کی مانگ ناصرف تعلیمی اداروں بلکہ مختلف NGOs اور کونسلنگ سینٹرز میں بھی ہے۔
بچوں کو یہ بھی بتانا ضروری ہے کہ ہر مضمون میں علم کا ایک ایسا خزانہ چھپا ہوا ہے جو زندگی کے کسی نہ کسی پہلو میں کام آتا ہے۔ ریاضی دماغ کو منطقی بناتی ہے، اردو اور انگریزی زبان اظہارِ خیال کو بہتر بناتی ہیں، سائنس قدرت کے رازوں کو سمجھنے کا ذریعہ بنتی ہے، اور اسلامیات انسان کو روحانی بیداری عطا کرتی ہے۔ ان سب مضامین کا براہ راست یا بالواسطہ تعلق ایک کامیاب، باوقار اور مؤثر انسان بننے سے ہے، جو دنیا میں بھی کامیاب ہوتا ہے اور آخرت میں بھی۔
جب تعلیم کو بچوں کی دلچسپیوں، خوابوں، اور عملی زندگی سے جوڑ کر پیش کیا جائے، تو وہ نہ صرف تعلیم کو پسند کرنے لگتے ہیں بلکہ اس میں مقصد اور جذبہ بھی محسوس کرنے لگتے ہیں۔ یہ وہ وقت ہوتا ہے جب علم، دولت اور مقصدیت ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگ ہو جاتے ہیں، اور بچہ خود بخود اس راستے پر چلنے لگتا ہے جو اسے صرف پیسہ نہیں بلکہ عزت، اطمینان اور رضائے الہی عطا کرتا ہے۔ اس طرح تعلیم ایک مردہ مضمون نہیں، بلکہ جیتی جاگتی دنیا بن جاتی ہے۔
اسی طرح، جب بچے دیکھتے ہیں کہ تعلیم انہیں صرف پیسے کے بارے میں سکھاتی ہے، تو وہ پیسہ ہی کو حتمی مقصد سمجھنے لگتے ہیں۔ لیکن اگر انہیں بتایا جائے کہ تعلیم ہمیں پیسہ کمانے کا سلیقہ ہی نہیں بلکہ خرچ کرنے، بچانے، بانٹنے، اور حلال و حرام کی تمیز سکھاتی ہے، تو ان کے اندر ایک اخلاقی معیار پیدا ہونے لگے گا۔ وہ صرف امیر بننے کے لیے نہیں، اچھا انسان بننے کے لیے بھی علم حاصل کرنا چاہیں گے۔
اس عمل میں والدین اور اساتذہ کا کردار نہایت حساس ہے۔ والدین صرف ڈانٹنے یا تقابل کرنے کے بجائے، بچوں کے ساتھ مکالمہ کریں، ان کے سوالات سنیں، ان کی دلچسپیوں میں شریک ہوں۔ والدین خود سیکھنے اور مطالعہ کرنے کا ماحول بنائیں تاکہ بچے انہیں رول ماڈل کے طور پر دیکھیں۔ اسی طرح اساتذہ بھی صرف نصاب پڑھانے والے نہ ہوں، بلکہ طلباء کے خوابوں اور الجھنوں کے ساتھی بنیں۔ وہ بچے کو صرف “کیا پڑھنا ہے” نہ بتائیں، بلکہ “کیوں پڑھنا ہے” اور “کیسے پڑھنا ہے” بھی سکھائیں۔
تعلیم کو صرف دنیاوی مفادات، روزگار یا شہرت کا ذریعہ سمجھنا آج کے نوجوانوں کا عمومی رجحان بنتا جا رہا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ انسان کی زندگی کا مقصد ان سطحی چیزوں سے کہیں زیادہ بلند، بامعنی اور الہٰی ہے۔ ایک مؤمن نوجوان کو چاہیے کہ وہ اپنی تعلیم کو محض ایک پیشہ ورانہ ضرورت نہ سمجھے بلکہ اسے ایک روحانی سفر، ایک الہٰی ذمہ داری اور اپنے امام زمانہ (عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف) سے وابستہ ایک دینی فریضہ جانے۔ یہ شعور کہ “میں اس دنیا میں کیوں آیا ہوں؟”، “میرا اصل مقصد کیا ہے؟” اور “مجھے اپنی زندگی کو کہاں لے جانا ہے؟” ہی وہ بنیادیں ہیں جو انسان کو عارضی فائدوں سے اٹھا کر ابدی فلاح کے سفر پر لے جاتی ہیں۔
اسلام ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ انسان محض کھانے، پینے اور کمانے کے لیے نہیں پیدا ہوا، بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت، بندگی، اور اس کی زمین پر اس کے دین کو قائم کرنے کی غرض سے پیدا کیا گیا ہے۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: “وَما خَلَقتُ الجِنَّ وَالإِنسَ إِلّا لِيَعبُدونِ” یعنی میں نے جن و انس کو صرف اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے۔ لیکن یہ عبادت صرف نماز اور روزہ تک محدود نہیں، بلکہ ہر وہ عمل جو اللہ کی رضا کے لیے کیا جائے، وہ عبادت بن جاتا ہے—چاہے وہ علم حاصل کرنا ہو، کسی بیمار کی خدمت ہو، یا اپنے سماج کی اصلاح کے لیے کام کرنا ہو۔
اسی تناظر میں تعلیم کو اگر ہم صرف دنیاوی ترقی یا مادی کامیابی کا ذریعہ سمجھیں، تو ہم اس کے اصل مقصد سے دور ہو جاتے ہیں۔ اسلام میں علم کا حصول نہ صرف دنیا کی بہتری کے لیے ہے، بلکہ آخرت کی کامیابی کے لیے بھی ناگزیر ہے۔ تعلیم ہی وہ ذریعہ ہے جس سے انسان حق و باطل کے درمیان فرق کرنا سیکھتا ہے، اپنی خواہشات پر قابو پانے کا ہنر پاتا ہے، اور دنیا کی ظاہری چمک کے پیچھے چھپے خطرات کو پہچانتا ہے۔ رسول اکرم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: “علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد و عورت پر فرض ہے۔” اور امام علی علیہ السلام نے فرمایا: “علم دولت سے بہتر ہے، علم تمہاری حفاظت کرتا ہے جبکہ دولت تمہیں اس کی حفاظت کرنی پڑتی ہے۔” یہ اقوال ہمیں یہ بتاتے ہیں کہ علم ایک روحانی سرمایہ ہے جو انسان کو اس کی اصل پہچان عطا کرتا ہے۔
جب ہم امام زمانہؑ کے انتظار کی بات کرتے ہیں تو یہ انتظار محض جذباتی یا خیالی بات نہیں بلکہ ایک عملی ذمہ داری ہے۔ امام علیہ السلام کے ظہور کے لیے سب سے بڑی تیاری یہی ہے کہ ہم علمی، فکری اور اخلاقی طور پر اس قابل بنیں کہ ان کے ناصروں میں شامل ہو سکیں۔ امام کے ظہور کا خواب صرف وہی دیکھ سکتا ہے جو علم کے راستے پر ہے، جو دنیا کو عدل سے بھرنے کی سوچ رکھتا ہے، اور جو ظلم، جہالت، اور فتنہ کے خلاف کھڑا ہونے کی صلاحیت حاصل کر رہا ہے۔ اس لیے ایک نوجوان کو چاہیے کہ وہ اپنی تعلیم کو امام زمانہؑ کی نصرت کا ذریعہ بنائے۔ وہ انجینئر بنے تو اس نیت سے کہ ملت اسلامیہ کی خدمت کرے، وہ ڈاکٹر بنے تو امت کی جسمانی و روحانی صحت کا محافظ بنے، وہ استاد بنے تو آنے والی نسلوں کو بیداری، تقویٰ اور معرفت سے آراستہ کرے۔
تعلیم دنیا کے لیے اس لیے اہم ہے کہ ایک باشعور، باعلم، اور صاحبِ حکمت انسان ہی معاشرے کی اصلاح کر سکتا ہے۔ لیکن تعلیم آخرت کے لیے بھی ضروری ہے کیونکہ یہ انسان کے عمل کو نیت، خلوص اور ہدایت کے دائرے میں لے آتی ہے۔ علم کے بغیر عبادت اندھی، اور خدمت غیر مؤثر ہوتی ہے۔ صرف تعلیم ہی انسان کو یہ شعور دیتی ہے کہ کون سا عمل اللہ کی بارگاہ میں قبول ہوتا ہے اور کون سا رد کر دیا جاتا ہے۔
لہٰذا ایک مؤمن نوجوان جب یہ طے کر لیتا ہے کہ اس کی تعلیم کا مقصد صرف نوکری، دولت یا شہرت نہیں بلکہ اللہ کی رضا، انسانیت کی خدمت، امت کی بیداری، اور امام زمانہؑ کی نصرت ہے، تو اس کی نظر دنیا کے فریب سے بلند ہو جاتی ہے۔ تب وہ جو کچھ پڑھتا ہے، سیکھتا ہے، یا کرتا ہے—وہ سب اس کے لیے عبادت بن جاتا ہے، چاہے وہ ریاضی ہو یا تاریخ، سائنس ہو یا ادب۔ تب تعلیم اس کے لیے روشنی بن جاتی ہے جو دنیا میں اس کی رہنمائی کرتی ہے، اور آخرت میں نجات کا ذریعہ بنتی ہے۔
یہی وہ زاویہ نظر ہے جو نوجوان کو سطحی خواہشات سے نکال کر اعلیٰ مقصد کی طرف لے جاتا ہے، اور تعلیم کو ایک عظیم روحانی جہاد کا روپ دیتا ہے۔ تب علم ایک روحانی بیداری بن جاتا ہے، جو اسے دنیا میں عبدِ صالح اور آخرت میں نجات یافتہ بندہ بننے کے قابل بناتا ہے۔ تعلیم کو ایک سفر کی مانند سمجھنا اور سمجھانا ضروری ہے۔ ایک ایسا سفر جو انسان کو اپنے آپ سے، اپنے رب سے، اور اپنی کائنات سے جوڑتا ہے۔ جب علم کو اس زاویے سے پیش کیا جائے، تو بچے نہ صرف اس میں دلچسپی لیں گے، بلکہ اسے اپنی شخصیت کا حصہ بھی بنا لیں گے۔ تب تعلیم صرف کامیابی کا ذریعہ نہیں، بلکہ سعادت کا راستہ بن جائے گی۔
