70

یومِ وفات علامہ اقبال – ایک عہد ساز شخصیت کو خراجِ عقیدت

  • نیوز کوڈ : 1614
  • 21 April 2025 - 14:44
یومِ وفات علامہ اقبال – ایک عہد ساز شخصیت کو خراجِ عقیدت

21 اپریل، وہ دن جب برصغیر کا ایک عظیم مفکر، شاعر، مصلح اور فلسفی ڈاکٹر علامہ محمد اقبال ہم سے جدا ہوا۔ مگر ان کے خیالات، ان کا کلام اور ان کی فکری روشنی آج بھی اہلِ ایمان کے دلوں کو منور کرتی ہے۔

یومِ وفات علامہ اقبال – ایک عہد ساز شخصیت کو خراجِ عقیدت

21 اپریل، وہ دن جب برصغیر کا ایک عظیم مفکر، شاعر، مصلح اور فلسفی ڈاکٹر علامہ محمد اقبال ہم سے جدا ہوا۔ مگر ان کے خیالات، ان کا کلام اور ان کی فکری روشنی آج بھی اہلِ ایمان کے دلوں کو منور کرتی ہے۔
اقبال نے جس دور میں آنکھ کھولی، امت مسلمہ غلامی، فکری زوال، اور جہالت کے اندھیروں میں ڈوبی ہوئی تھی۔ ایسے میں انہوں نے نہ صرف مسلمانوں کو ان کی عظمتِ رفتہ یاد دلائی بلکہ “خودی” کا تصور دے کر انہیں اپنی اصل پہچان سے روشناس کرایا۔

اقبال — شاعر نہیں، پیامبرِ فکر تھا

اقبال محض ایک نغمہ سرا شاعر نہ تھے، وہ روحِ بیداری کے نقیب تھے۔ ان کے اشعار میں فکر، فلسفہ، سیاست، اور روحانیت ہم آہنگ ہو کر ایک ایسی صدا بن جاتے ہیں جو سوئی ہوئی قوموں کو جگا دیتی ہے۔

خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے، بتا، تیری رضا کیا ہے؟

خطبۂ الہٰ آباد — تاریخ کا سنگِ میل

1930 میں الہٰ آباد میں آل انڈیا مسلم لیگ کے اجلاس میں دیے گئے خطاب نے برصغیر کے مسلمانوں کی تاریخ بدل دی۔ یہاں اقبال نے واضح الفاظ میں ایک علیحدہ اسلامی ریاست کا تصور پیش کیا۔ یہ وہ بنیاد تھی جس پر تحریکِ پاکستان نے اپنا فکری و عملی سفر شروع کیا۔

:اقبال کی فکری وراثت

:اقبال کا کلام صرف شاعری نہیں بلکہ ایک فلسفہ حیات ہے۔ ان کی کتب

بانگِ درا — جذباتی ولولہ اور قوم پرستی

بالِ جبریل — روحانی بیداری اور عشقِ رسول

ضربِ کلیم — فکری انقلاب

ارمغانِ حجاز — اسلامی اخوت کا پیغام

یہ کتب نسلِ نو کے لیے روشنی کے مینار ہیں۔

یومِ وفات پر پیغام

اقبال کا یومِ وفات ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ

کیا ہم نے ان کے خواب کی تعبیر پائی؟

کیا ہم نے خودی، آزادی اور وحدت کے پیغام کو سمجھا؟

کیا ہماری نئی نسل اقبال کو محض ایک “نصاب کی شخصیت” سمجھتی ہے یا “قائدِ فکر” جانتی ہے؟

صراطِ نو کی تلاش میں

آج جب امتِ مسلمہ ایک بار پھر فکری، سیاسی اور اخلاقی بحرانوں کا شکار ہے، اقبال کے اشعار اور افکار ہمیں نیا عزم، نئی امید اور صراطِ مستقیم دکھا سکتے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ:

اقبال کی تعلیمات کو نصاب تک محدود نہ کریں

ان کے فلسفۂ خودی، عشقِ رسول، اجتہاد، اور ملت پر تحقیق کریں

نوجوانوں کو صرف اشعار یاد نہ کرائیں، مفہوم سے روشناس کرائیں

:اقبال کہا کرتے تھے

وجودِ ملتِ بیضا ہے ایک جسمِ زِندہ
کہ جس کے رُوح کو قائم ہے روحِ محمدی سے

آج ا دن ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ ایک فرد بھی، اگر وہ مخلص ہو، علم رکھتا ہو اور کردار میں مضبوط ہو، قوموں کی تقدیر بدل سکتا ہے۔

اقبال زندہ ہے، جب تک فکر زندہ ہے۔

مختصر لنک: https://www.siraat-times.com/?p=1614

ٹیگز

تبصرے