59

زندگی نامۂ حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا

  • نیوز کوڈ : 1634
  • 29 April 2025 - 1:37
زندگی نامۂ حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا

جو شخص خلوصِ نیت کے ساتھ حضرت فاطمہ معصومہ کی زیارت کرے، اس کے لیے جنت واجب ہو جائے گی

زندگی نامۂ حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا

تحریر: سید عابد رضا رضوی

حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا یکم ذی القعدہ 173 ہجری قمری کو مدینۂ منورہ میں پیدا ہوئیں۔

آپ کے والد گرامی حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام اور والدہ محترمہ نجمہ خاتون تھیں۔
حضرت معصومہ کو یہ عظمت حاصل تھی کہ آپ بنتِ ولی اللہ اور نواسیٔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تھیں۔

ابتدائی زندگی اور تربیت

حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کم عمری ہی میں اپنے والدِ بزرگوار کے سایۂ عاطفت سے محروم ہو گئیں۔
اس سانحہ کے بعد آپ نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ اپنے بھائی حضرت امام علی رضا علیہ السلام کی سرپرستی میں بسر کیا۔
تقریباً اکیس برس تک آپ نے ان کی روحانی اور علمی تربیت میں رشد و ارتقا حاصل کیا۔

نام اور القاب

آپ کا اصل نام “فاطمہ کبریٰ” تھا۔
چونکہ امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کی تین صاحبزادیاں “فاطمہ” نام رکھتی تھیں اور آپ ان میں سب سے بڑی تھیں، اس لیے آپ کو “فاطمہ کبریٰ” کہا جاتا تھا۔

مختلف زیارت ناموں میں آپ کے درج ذیل القاب بیان ہوئے ہیں، جو آپ کی عظمت، طہارت اور روحانیت کے آئینہ دار ہیں:

طاہرہ، مرضیہ ، حمیدہ ، تقیہ، سیدہ، صدیقہ، راضیہ ، سیدہ ، رشیدہ ، محدثہ، صدیقہ ، عابدہ

لقبِ محدثہ

حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کو “محدثہ” کا عظیم لقب بھی حاصل تھا۔
آپ نے علومِ آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے گہرا رشتہ قائم رکھا اور کئی اہم احادیث کی روایت فرمائی۔
ان میں سے ایک مشہور حدیث جو علامہ امینی نے اپنی کتاب الغدیر میں نقل کی ہے، یہ ہے:

عن فاطمه بنت موسیٰ بن جعفر، حدثنی

“مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ”
(الغدیر، جلد 1، صفحہ 196)

مقام و منزلت

حضرت امام علی رضا علیہ السلام نے فرمایا:

مَنْ زَارَ الْمَعْصُومَةَ بِقُمٍّ كَأَنَّمَا زَارَنِي”

(ریاحین الشریعة، جلد 5، صفحہ 35)

ترجمہ:
“جو شخص قم میں حضرت معصومہ کی زیارت کرے، گویا اس نے میری زیارت کی۔”

مقامِ شفاعت
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا:۔
جنت کے آٹھ دروازے ہیں، جن میں سے تین قم کی طرف کھلتے ہیں۔
وہاں میری نسل سے ایک خاتون ہوں گی جن کا نام فاطمہ بنت موسیٰ ہوگا، اور ان کی شفاعت سے تمام شیعہ جنت میں داخل ہوں گے۔”
(جامع الاحادیث الشیعة، جلد 12، صفحہ 617؛ بحار الانوار، جلد 57، صفحہ 228)

اسی طرح امام رضا علیہ السلام سے مروی ایک دعا ہے:

یَا فَاطِمَةُ اشْفَعِي لِي فِي الْجَنَّةِ، فَإِنَّ لَكِ عِندَ اللَّهِ شَأْنًا مِّنَ الشَّأْنِ”
(مفاتیح الجنان، صفحہ 856)

عبادت و بندگی

قم میں قیام کے دوران حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا نے سترہ دن متواتر عبادت اور ریاضت میں گزارے۔
موسیٰ بن خزرج کے گھر میں آپ کا مصلیٰ آج بھی زائرین کے لیے زیارت گاہ کی حیثیت رکھتا ہے۔

ہجرت اور وفات

سنہ 200 ہجری قمری میں امام علی رضا علیہ السلام مامون عباسی کے بلاوے پر خراسان روانہ ہوئے۔
ان کی جدائی کے بعد، سنہ 201 ہجری قمری میں حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا بھی بھائی کی زیارت کی آرزو لیے مدینہ سے روانہ ہوئیں۔
سفر کے دوران جب آپ قم پہنچیں تو علالت نے آپ کو آ گھیرا۔
موسیٰ بن خزرج کے گھر قیام فرمایا اور آخرکار 10 یا 11 ربیع الثانی 201 ہجری قمری کو، محض اٹھائیس برس کی عمر میں وصال فرمایا۔
آپ کا روضۂ اقدس آج بھی اہل محبت و عقیدت کا مرکز ہے۔

زیارت نامہ

حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے بعد، حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا وہ واحد عظیم خاتون ہیں جن کا مخصوص زیارت نامہ نقل ہوا ہے۔

حضرت امام علی رضا علیہ السلام نے فرمایا:۔

جو شخص خلوصِ نیت کے ساتھ حضرت فاطمہ معصومہ کی زیارت کرے، اس کے لیے جنت واجب ہو جائے گی

(کامل الزیارات، صفحہ 536؛ بحار الانوار، جلد 57)

جشن ولادت با سعادت حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا بنتِ امام موسیٰ کاظم علیہ السلام 🌹🌹🌹🌹

آپکو اور تمام گھر والوں کو بہت مبارک ہو.

مختصر لنک: https://www.siraat-times.com/?p=1634

ٹیگز

تبصرے