بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔
تحریر: سہد جہانزیب عابدی
قرآن فہمی ایک نہایت لطیف، دقیق اور ہمہ گیر عمل ہے جس کے لیے صرف زبان دانی یا ترجمہ کافی نہیں ہوتا، بلکہ ایک بیدار دل، متدبر عقل، اور روحانی حساسیت کی ضرورت ہوتی ہے۔ قرآن کو سمجھنے کے بنیادی اصولوں میں سب سے پہلے یہ شعور ضروری ہے کہ یہ محض الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ خدا کا زندہ کلام ہے جو ہر دور، ہر فرد اور ہر سماج کو خطاب کرتا ہے۔ اس لیے اسے فہم کے کسی جامد سانچے میں قید نہیں کیا جا سکتا۔
قرآن میں استعارہ، کنایہ، تمثیل، اور علامات کی بھرپور موجودگی ہے۔ یہ سب نہ صرف فصاحت و بلاغت کے تقاضوں کو پورا کرتے ہیں بلکہ ایک گہرے روحانی اور فکری معنی کی طرف رہنمائی بھی کرتے ہیں۔ مثلاً “نور” صرف روشنی نہیں بلکہ معرفت، ہدایت، اور ولایت کا استعارہ ہے۔ “ظلمات” صرف اندھیرا نہیں بلکہ جہالت، گمراہی اور ظلم کی علامت بھی ہے۔ جب قرآن کہتا ہے کہ “اللہ آسمانوں اور زمین کا نور ہے”، تو یہ فقرہ صرف ایک تشبیہ نہیں بلکہ کائناتی حقیقت کی طرف اشارہ ہے۔
تمثیلی اسلوب میں قرآن روزمرہ کی چیزوں کے ذریعے بلند روحانی نکات بیان کرتا ہے، جیسے مکھی، مکڑی، پانی، آگ، بیج، درخت، پہاڑ، اور بارش وغیرہ کی مثالیں۔ ان تماثیل کو سمجھنے کے لیے انسان کو نہ صرف اس چیز کی طبعی ماہیت سے واقف ہونا چاہیے بلکہ اس کے پیچھے پوشیدہ روحانی مفہوم کو بھی محسوس کرنا چاہیے۔
کنایہ کی مثال میں، جب قرآن کسی قوم کے دلوں پر “تالے” لگنے کی بات کرتا ہے، تو یہ محض دل کے عضو کی بات نہیں، بلکہ باطن کی ایک ایسی کیفیت کی طرف اشارہ ہے جو حق کو قبول کرنے سے انکاری ہو چکی ہو۔
قرآن کی تطبیقی فہم کے لیے زمان و مکان کی نزاکتوں کو سمجھنا بھی نہایت ضروری ہے۔ ہر آیت ایک خاص سیاق و سباق میں نازل ہوئی، مگر اس کا پیغام صرف اسی وقت کے لیے محدود نہیں۔ اس لیے ایک طرف اس کے نزولی پس منظر (شانِ نزول) کو سمجھنا ضروری ہے، تاکہ مفہوم کی جڑیں سیاق میں رہیں، اور دوسری طرف اس پیغام کو آج کے حالات پر منطبق کرنے کے لیے اصولی بصیرت بھی درکار ہے، تاکہ اس کے ابدی پیغام کو زمانی حدود سے آزاد کر کے زندہ رکھا جا سکے۔
قرآن کے بعض مقامات پر الفاظ کی ظاہری معنویت اور باطنی رمزیت دونوں کو بیک وقت سمجھنا ضروری ہوتا ہے۔ یہاں علم تفسیر کے ساتھ ساتھ عرفان، فلسفہ، اور احادیث اہل بیت علیہم السلام کی روشنی لازمی ہو جاتی ہے۔ مثلاً سورۂ مبارکہ توحید کی ہر آیت میں نہ صرف توحید کا فلسفہ ہے بلکہ عرفانی حقائق بھی چھپے ہوئے ہیں جنہیں صرف باطنی تربیت یافتہ دل ہی سمجھ سکتا ہے۔
قرآن کا ایک اصول “تفسیر القرآن بالقرآن” ہے یعنی ایک آیت کی تفسیر قرآن کی دیگر آیات سے کرنا، تاکہ اس کی زبان میں وحدت برقرار رہے۔ اس کے ساتھ “تفسیر بالحدیث” یعنی معصومینؑ کی احادیث سے استفادہ کرنا بھی ضروری ہے کیونکہ وہ قرآن کے خاموش رازوں کے ناطق شارحین ہیں۔
قرآن کی فہم میں نیت کی پاکیزگی، دل کی خشیت، اور ہدایت کی طلب بنیادی شرط ہے۔ خدا خود فرماتا ہے کہ یہ کتاب متقین کے لیے ہدایت ہے، یعنی وہی فائدہ اٹھاتے ہیں جن کے اندر طلبِ ہدایت اور خشیتِ الٰہی موجود ہو۔ جو شخص تعصب، خودپسندی، یا دنیاوی غرض کے ساتھ قرآن پڑھتا ہے، وہ اس کے انوار سے محروم رہتا ہے۔
اس لیے قرآن کی فہم میں ظاہری علم کے ساتھ ساتھ باطنی طہارت اور تسلیم و تواضع بھی لازم ہے۔ جب تک انسان “عبد” بن کر نہیں آتا، “کلام رب” اس پر نہیں کھلتا۔ قرآن ایک ایسا آئینہ ہے جو صرف اسی کو اپنی حقیقت دکھاتا ہے جو اس کے سامنے خود کو بے نقش و نیاز رکھتا ہے۔
اسی قرآن کو پڑھ کر گمراہ بھی ہوجاتے ہیں، قرآن پڑھ کر گمراہ ہونا بظاہر ایک حیران کن بات لگتی ہے، کیونکہ قرآن تو ہدایت کی کتاب ہے، نور ہے، شفا ہے، اور رب کا کلام ہے، جسے وہ خود “ھُدًی لِّلنَّاس” اور “ھُدًی لِّلْمُتَّقِین” کہتا ہے۔ مگر یہی قرآن بعض مقامات پر کہتا ہے کہ اللہ اس کتاب کے ذریعے بہتوں کو ہدایت دیتا ہے اور بہتوں کو گمراہ کرتا ہے، اور وہ صرف فاسقوں کو ہی گمراہ کرتا ہے۔ اس میں راز یہی ہے کہ قرآن کا اثر انسان کی نیت، ظرف، باطنی کیفیت، اور رجحان پر منحصر ہوتا ہے۔
اگر کوئی شخص قرآن کو صرف دلیل بازی، بحث و مباحثہ، یا ذاتی نظریات کی توثیق کے لیے پڑھے، تو وہ آیات کو اپنے تعصب کی عینک سے دیکھے گا، اپنی خواہشات کے مطابق معنی تلاش کرے گا، اور ہدایت کی جگہ گمراہی کا شکار ہو جائے گا۔ ایسا شخص قرآن کے ذریعے خود کو مطمئن تو کرے گا، مگر دراصل وہ اپنے دل کی گمراہی کو اس کے الفاظ میں لپیٹ کر پیش کر رہا ہوگا۔ قرآن خود کہتا ہے کہ بعض لوگ متشابہ آیات کے پیچھے پڑ جاتے ہیں تاکہ فتنہ پیدا کریں اور تاویل کی کوشش کریں حالانکہ ان کی تاویل اللہ اور راسخون فی العلم ہی جانتے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کے دلوں میں کجی ہوتی ہے، اور قرآن ان کے دل کی اسی کجی کو بڑھا دیتا ہے۔
قرآن پڑھ کر گمراہ ہونے کا ایک اور پہلو یہ ہے کہ اگر کوئی اس کے ظاہر پر اکتفا کرے اور اس کے باطن تک نہ پہنچے، یا اس کے ظاہری احکام کو بغیر فہم و حکمت کے نافذ کرنے کی کوشش کرے، تو وہ خود بھی گمراہ ہوگا اور دوسروں کو بھی گمراہ کرے گا۔ یہ وہی رویہ ہے جو خوارج کا تھا، جنہوں نے قرآن کے الفاظ کو تلوار بنا لیا، مگر روح کو نظر انداز کر دیا۔ امام علیؑ نے ان کے بارے میں فرمایا کہ “یہ کلامِ حق سے باطل کا ارادہ رکھتے ہیں۔”
اسی طرح قرآن سے گمراہی اس وقت بھی جنم لیتی ہے جب کوئی شخص اس کے اصل معلمین، یعنی رسول اللہ صل اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اہل بیتؑ کو چھوڑ کر خود ساختہ تفہیم پر اصرار کرے۔ جب انسان قرآن کو معصومینؑ کی روشنی کے بغیر پڑھتا ہے، تو وہ اس کی گہرائیوں میں بھٹک جاتا ہے، کیونکہ وہ اس نور کو صرف ظاہری آنکھ سے دیکھنے کی کوشش کر رہا ہوتا ہے۔
الغرض قرآن ایک ایسا آئینہ ہے جو ہر شخص کو وہی دکھاتا ہے جو اس کے اندر ہوتا ہے۔ جس کے دل میں طلبِ حق ہو، اسے ہدایت نصیب ہوتی ہے، اور جو ضد، تعصب، فریب یا خودپرستی کے ساتھ آئے، وہ اسی میں گم ہو جاتا ہے۔ یوں قرآن کی روشنی اس کے لیے راستہ نہیں بلکہ دھوکہ بن جاتی ہے، اور وہ کلامِ الٰہی سے وہی لیتا ہے جس کا وہ خود اہل ہوتا ہے۔ پس، قرآن سے ہدایت یا گمراہی کا تعلق خود انسان کی اندرونی کیفیت سے جڑا ہوا ہے، نہ کہ قرآن کے کلام سے، کیونکہ قرآن تو سراپا حق ہے، مگر آئینہ دیکھنے والے کی آنکھ پر پردہ ہو تو سورج بھی اندھیرا لگتا ہے۔
قرآن فہمی کا سفر ایک روحانی بیداری اور فکری پختگی کا تقاضا کرتا ہے، جہاں الفاظ سے آگے بڑھ کر معانی، اشارے، اور حقائق کو سمجھنا ضروری ہے۔ جو دل اخلاص، خشیت اور طلبِ ہدایت کے ساتھ قرآن سے رجوع کرتا ہے، وہی اس کے نور سے منور ہوتا ہے، اور جو تعصب، خواہش یا غرور کے ساتھ آتا ہے، وہ اسی نور میں گمراہی کا اندھیرا پالیتا ہے۔
