*جون ایلیاء اور استعماری مفادات*
*فکریات اسد اللہ خاں غالب اور اسلامی منظومہ فکری*
*خدائی منصوبہ اور طاغوتی چالیں*
*عبادت کے بغیر انقلاب: ایک خود فریبی*
امن یا فریب؟ حق و باطل کی پوشیدہ جنگ
*صلح و مذاکرات یا جنگ و قتال*
حدود کی غلط فہمیاں اور تعلقات کا توازن
*پیشہ ورانہ زندگی میں وقار، حدود اور اختیار*
اسلامی تاریخ میں 21 رمضان 40 ہجری ایک ایسا دن ہے جو صدیوں بعد بھی مسلمانوں کے دلوں میں درد اور غم کی کیفیت پیدا کرتا ہے۔ یہ وہ دن تھا جب امیر المؤمنین، فاتح خیبر، دامادِ رسولؐ، اور عدل و حکمت کے پیکر حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کوفہ کی مسجد میں نمازِ فجر کے دوران قاتلانہ حملے کے نتیجے میں شہید کر دیے گئے۔ یہ واقعہ بظاہر اسلامی حکومت کے ایک سنہری دور کے اختتام کی علامت لگتا ہے، لیکن حقیقت میں یہ ایک نئی فکری، روحانی اور انقلابی تحریک کا نقطہ آغاز تھا، جس کی روشنی آج بھی انسانیت کو راستہ دکھا رہی ہے
صراط ٹائمز / تاریخِ اسلام کی محقق فاطمہ میری طایفہ فرد نے صراط ٹائمز کی صحافی سے گفتگو میں امام حسنؑ کی شخصیت کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا: کہ اہل بیتؑ کی تربیتی تعلیمات کو اپنانا ہماری ذاتی اور سماجی زندگی کے لیے ضروری ہے۔ امام حسنؑ کی سیرت کا مطالعہ ہمیں خاندانی تربیت، برادرانہ تعلقات، اور معاشرتی اصلاح کے اصول فراہم کرتا ہے
شیخ آل یاسین فرماتے ہیں: امام حسنؑ اس سپہ سالار کی مانند تھے جو اپنے سپاہیوں کو ایک ایک کرکے بلاتا ہے اور ان پر ان کی ذمہ داری واضح کرتا ہے۔
سورہ نصر مدنی سورتوں میں سے ہے، اور اس میں اللہ تعالیٰ کی جانب سے فتح مکہ کی بشارت دی گئی ہے۔ اس سورت میں رسول اکرمؐ کو اللہ کی مدد اور دین کی تکمیل کی خوشخبری دی گئی، اور اس کے بعد شکرانے کے طور پر اللہ کی تسبیح اور استغفار کرنے کا حکم دیا گیا۔
حدیثِ معصومینؑ: “الدُّنْيَا سِجْنُ الْمُؤْمِنِ وَ جَنَّةُ الْكافِرِ” ترجمہ:“دنیا مؤمن کے لیے قید خانہ اور کافر کے لیے جنت ہے۔” (بحار الأنوار، ج 67، ص 309) صراط ٹائمز: وضاحت یہ حدیث نبی اکرمؐ سے منقول ہے اور اہل بیتؑ نے بھی اس کے معنی کی وضاحت فرمائی ہے۔ اس کا مفہوم بظاہر سادہ ہے، لیکن […]
دنیا میں کئی لوگ ایسے ہیں جو مغربی ممالک میں جا کر اپنی اسلامی شناخت کو کمزور کر لیتے ہیں اور جب انہیں کوئی مالی یا دنیاوی نقصان پہنچتا ہے تو وہ دین سے دور ہو جاتے ہیں۔ کچھ لوگ یہ دلیل دیتے ہیں کہ اگر نماز، روزہ اور دعا کے باوجود کاروبار میں نقصان ہو تو اس کا فائدہ کیا؟ جبکہ دوسری طرف ایسے لوگ بھی ہیں جو کسی خدا کو نہیں مانتے، جیسے بل گیٹس اور دیگر مغربی سرمایہ دار، اور وہ پھر بھی کامیاب نظر آتے ہیں
رواں برس 2025 میں 18 اکتوبر کو 2015 میں ہونے والا عالمی جوہری معاہدہ ختم ہو جائے گا جس میں پانچ عالمی طاقتیں ضامن تھی اور ٹرمپ نے پہلے دور صدارت 2018 میں آکر اسے اکھاڑ پھینکا تھا ۔ جواب میں ایران نے ایٹمی اڈوں پر نصب عالمی جوہری ادارے کی نگرانی کرنے والی مشینوں اور سی سی ٹی وی کیمروں کو اکھاڑ پھینکا اور عالمی جوہری انسپکٹر کو اڈوں میں داخلے سے روک دیا ۔ اب ان کے پاس کوئی طریقہ نہیں جس سے وہ یہ جان سکیں ایران دنیا کا واحد ملک جس کے مخصوص پرامن شہری جوہری پروگرام میں افزودگی کی شرح 90 فیصد تک پہنچ چکی ہے حالانکہ عالمی طاقتوں نے معائدے میں ایران کو 5 فیصد تک محدود کردیا تھا ۔ ایران کے سینٹری فیوجز مشینوں کو 5 ہزار تک محدود کردیا تھا جبکہ 60 فیصد یورنیم افزودگی تک پہنچنے کیلئے سالوں سال کی محنت درکار ہوتی ہے لیکن کم از کم ایک ایٹم بم بنانے کیلئے 90 فیصد یورنیم افزودگی کی شرح درکار ہوتا ہے جو کہ 60 سے 90 فیصد تک پہنچنے کیلئے فقط چند ماہ کافی ہوتے ہیں
مِّنَ الْمُؤْمِنِيْنَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاهَدُوا اللّـٰهَ عَلَيْهِ ۖ فَمِنْـهُـمْ مَّنْ قَضٰى نَحْبَهٝ وَمِنْـهُـمْ مَّنْ يَّنْتَظِرُ ۖ وَمَا بَدَّلُوْا تَبْدِيْلًا (23( سورہ الاحزاب کی 23 نمبر آیت میں پروردگار فرما رہا ہے کہ ایمان والوں میں سے ایسے آدمی بھی ہیں جنہوں نے اللہ سے جو عہد کیا تھا اس پر ثابت قدم رہے، پھر ان میں سے بعض تو اپنا کام پورا کر چکے (جام شہادت پیا) اور بعض منتظر ہیں (شہادت کے) اور عہد میں کوئی تبدیلی نہیں کی۔ یعنی! یہ وہ سنت الہیٰ ہے جسے تبدیل نہیں کیا جاسکتا۔
اللہ کی عظمت اور اس کی حکمت کا کوئی ٹھوس مقابلہ نہیں کر سکتا۔ قرآن مجید اور روایات میں ہمیں ہمیشہ عدل و انصاف کی تعلیم دی گئی ہے، اور ظلم کی ہر صورت سے بچنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے کہ "یقیناً اللہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا" (آل عمران: 57)۔ یہی وجہ ہے کہ انسانوں کو ظلم سے بچنے، دوسرے کے حقوق کا احترام کرنے، اور ہر صورت میں اللہ کی رضا کی کوشش کرنے کی تعلیم دی گئی ہے۔ مگر پھر بھی بعض اوقات زندگی میں ایسے لمحات آتے ہیں جب ہمیں ایک پیچیدہ سوال کا سامنا کرنا پڑتا ہے:
قرآن اور سائنس: ایک ہم آہنگی کی تلاش تحریر : مولانا سید عمار حیدر زیدی قم صراط ٹائمز: یہ ایک بہت عام سوچ ہے کہ کچھ لوگ قرآن کو صرف ایک عبادت یا ثواب کے حصول کا ذریعہ سمجھتے ہیں، یا اسے محض ایک ثقافتی ورثہ سمجھ کر پڑھتے ہیں کیونکہ ان کے والدین مسلمان […]