37

قرآن اور سائنس: ایک ہم آہنگی کی تلاش

  • نیوز کوڈ : 1220
  • 15 March 2025 - 5:22
قرآن اور سائنس: ایک ہم آہنگی کی تلاش

قرآن اور سائنس: ایک ہم آہنگی کی تلاش تحریر : مولانا سید عمار حیدر زیدی قم صراط ٹائمز: یہ ایک بہت عام سوچ ہے کہ کچھ لوگ قرآن کو صرف ایک عبادت یا ثواب کے حصول کا ذریعہ سمجھتے ہیں، یا اسے محض ایک ثقافتی ورثہ سمجھ کر پڑھتے ہیں کیونکہ ان کے والدین مسلمان […]

قرآن اور سائنس: ایک ہم آہنگی کی تلاش

تحریر : مولانا سید عمار حیدر زیدی قم

صراط ٹائمز: یہ ایک بہت عام سوچ ہے کہ کچھ لوگ قرآن کو صرف ایک عبادت یا ثواب کے حصول کا ذریعہ سمجھتے ہیں، یا اسے محض ایک ثقافتی ورثہ سمجھ کر پڑھتے ہیں کیونکہ ان کے والدین مسلمان ہیں۔ ایسے لوگ یہ نہیں سمجھ پاتے کہ قرآن ایک زندہ کتاب ہے، جو نہ صرف روحانیت کی ہدایت دیتی ہے بلکہ اس میں اللہ کی تخلیق، کائنات کی حقیقتوں، اور انسان کی فطرت کے بارے میں وہ گہری حقیقتیں ہیں جو سائنس کی زبان میں بھی بیان کی جا سکتی ہیں۔ قرآن کی یہ حقیقتیں ایک طرف ایمان کی مضبوطی کے لئے ہیں، تو دوسری طرف علم کی سچی جستجو کے لئے بھی ہیں۔

آج کے دور میں، جہاں سائنس تیزی سے ترقی کر رہی ہے اور جدید ٹیکنالوجی ہر شعبے میں انقلاب برپا کر رہی ہے، ضروری ہے کہ ہم قرآن کو صرف ثواب کا ذریعہ نہ سمجھیں، بلکہ اسے ایک علم کا سرچشمہ اور ایک رہنمائی کی کتاب کے طور پر دیکھیں۔ آئیے، ہم قرآن اور سائنس کے تعلقات کو دیکھیں، تاکہ ان لوگوں کو ایک نیا نقطہ نظر ملے، جو قرآن کو صرف عبادت یا ایک رسم سمجھ کر پڑھتے ہیں۔

زمین کی تخلیق کا سائنسی مفہوم

قرآن میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
“اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ” (الاعراف: 54)

ترجمہ:
“اللہ ہی وہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا۔”

یہ آیت اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ زمین اور آسمانوں کی تخلیق میں ایک خاص ترتیب اور عمل تھا، جس کے بارے میں جدید سائنس بھی ہمیں بتاتی ہے کہ کائنات کی تخلیق ایک مخصوص وقت میں ہوئی اور اس میں مختلف مراحل شامل تھے جیسے بگ بینگ تھیوری۔ بگ بینگ کی تھیوری کو سب سے پہلے 20ویں صدی کے سائنسدان، جارج لیمیٹر نے 1927 میں پیش کیا تھا، اور اس کی مزید تحقیق ایڈون ہبل نے 1929 میں کی۔ بگ بینگ کی تھیوری کے مطابق، کائنات کی ابتدا ایک بہت بڑے دھماکے سے ہوئی، جو آج کے سائنسی تصور کے مطابق درست معلوم ہوتی ہے۔

قرآن اور سائنس کا موازنہ:
قرآن میں ذکر ہے کہ زمین اور آسمانوں کی تخلیق ایک خاص وقت اور ترتیب میں ہوئی۔ سائنس بھی آج ہمیں بتاتی ہے کہ یہ سب ایک خاص مرحلے میں وقوع پذیر ہوا تھا، جو بگ بینگ تھیوری کی حمایت کرتا ہے۔ قرآن 1400 سال پہلے اس حقیقت کو بیان کرتا ہے، اور سائنس نے ابھی حال ہی میں اس حقیقت کا پتا چلایا۔

انسان کی تخلیق

قرآن میں انسان کی تخلیق کے بارے میں فرمایا گیا:
“وَخَلَقْنَا الْإِنسَانَ مِنْ نُطْفَةٍ” (الإنسان: 2)

ترجمہ:
“ہم نے انسان کو ایک نطفے سے پیدا کیا۔”

یہ آیت حیاتیاتی عمل کی حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ جدید سائنسی تحقیق نے اس حقیقت کو تسلیم کیا ہے کہ انسان کی تخلیق ایک نطفے سے ہوتی ہے۔ اس بارے میں مائیکل ڈیوسن، جو ایک معروف حیاتیات دان ہیں، نے 1950 کی دہائی میں انسانی نطفے اور تخلیق کے عمل پر تحقیقات کی تھیں۔ انسان کی تخلیق کے ابتدائی مراحل کی سائنسی تفصیل بھی آج کی جینیاتی سائنس میں موجود ہے۔

قرآن اور سائنس کا موازنہ:
قرآن نے اس بات کو 1400 سال پہلے ذکر کیا کہ انسان کی تخلیق نطفے سے ہوتی ہے، جبکہ سائنس نے حال ہی میں اس حقیقت کو دریافت کیا ہے۔ یہ ایک اور مثال ہے کہ قرآن کی آیات نے سائنس کے کئی گہرے اصولوں کو پیش گوئی کی تھی۔

پہاڑوں کا کردار

قرآن میں پہاڑوں کو زمین کی توازن کے لئے ضروری قرار دیا گیا ہے:
“وَجَعَلْنَا فِيهَا رَوَاسِيَ أَنْ تَمِيدَ بِهِمْ” (النبا: 6)

ترجمہ:
“اور ہم نے زمین میں پہاڑ بنائے تاکہ وہ ان کو ہلا نہ سکے۔”

سائنسدانوں کی تحقیق:
الفریڈ ویگنر (Alfred Wegener) نے 1912 میں اپنے “ٹیکٹونک پلیٹ” تھیوری کو پیش کیا تھا، جس کے مطابق پہاڑ زمین کے ٹیکٹونک پلیٹ کی حرکت کو روکتے ہیں اور زمین کی سطح کی استحکام میں مدد دیتے ہیں۔ ان کا یہ نظریہ بعد میں ہاری ہس اور والٹر بورس کی تحقیقات سے مزید مضبوط ہوا۔

قرآن اور سائنس کا موازنہ:
قرآن میں ذکر ہے کہ پہاڑ زمین کی توازن کو برقرار رکھتے ہیں اور اسے ہلنے نہیں دیتے۔ سائنس نے حالیہ دور میں اس حقیقت کو دریافت کیا ہے اور یہ ثابت کیا ہے کہ پہاڑ زمین کے ٹیکٹونک پلیٹوں کی حرکت کو روکتے ہیں۔ قرآن کی یہ آیت سائنس کے دریافت ہونے سے پہلے ہی ایک سچی حقیقت کی نشاندہی کر رہی تھی۔

دریا اور سمندروں کی حدود

قرآن میں اللہ نے سمندر اور دریا کی حدود کا ذکر کیا:
“وَهُوَ الَّذِي مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ هَذَا عَذْبٌ فُرَاتٌ وَهَذَا مِلْحٌ أُجَاجٌ وَجَعَلَ بَيْنَهُمَا بَرْزَخًا وَحَجْرًا مَّحْجُورًا” (الفرقان: 53)

ترجمہ:
“اور وہی ہے جس نے دونوں دریا آپس میں ملا دیے، یہ میٹھا اور صاف ہے اور یہ نمکین اور کھار ہے، اور ان کے درمیان ایک آڑ ہے جو دونوں کو ملنے نہیں دیتا۔”

سائنسدانوں کی تحقیق:
رابرٹ وودل نے 1775 میں یہ دریافت کیا تھا کہ سمندر کے مختلف حصے مختلف نمکینیت رکھتے ہیں اور ان کے درمیان ایک فرق ہوتا ہے جسے Barzakh کہا جا سکتا ہے۔ یہ ایک “ایڈیٹیو” تہہ ہوتی ہے جو دونوں دریاؤں کو ایک دوسرے سے جدا کرتی ہے۔

قرآن اور سائنس کا موازنہ:
قرآن میں موجود اس آیت میں دونوں سمندروں کے مختلف نمکینیت کے فرق کا ذکر ہے، جو سائنس نے حالیہ تحقیق میں دریافت کیا۔ یہ ثابت کرتا ہے کہ قرآن نے 1400 سال پہلے اس حقیقت کو بیان کیا، جو جدید سائنسی تحقیق سے ثابت ہو چکی ہے۔

نیلگوں آسمان کا راز

قرآن میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
“وَجَعَلْنَا السَّمَاءَ سَقْفًا مَّحْفُوظًا” (الأنبياء: 32)

ترجمہ:
“اور ہم نے آسمان کو سقف محفوظ بنایا۔”

سائنسدانوں کی تحقیق:
آسمان اور فضا کی حفاظت کے بارے میں جدید تحقیق نے ثابت کیا ہے کہ ہماری فضا زمین کو تابکاری، شہابی مواد، اور دیگر خطرات سے بچاتی ہے۔ NASA اور دیگر اداروں کی تحقیقات سے معلوم ہوا کہ ہماری فضا میں ایک حفاظتی ڈھال ہے جو زمین کو خطرناک شعاعوں سے بچاتی ہے۔

قرآن اور سائنس کا موازنہ:
قرآن نے 1400 سال پہلے اس بات کو ذکر کیا کہ آسمان ایک محفوظ چھت کی مانند ہے جو زمین کی حفاظت کرتی ہے، اور یہ سائنسی تحقیق کے ذریعے آج ثابت ہو چکا ہے۔

نتیجہ:

قرآن اور سائنس کا رشتہ ایک گہرے اور ہم آہنگ تعلق کا حامل ہے۔ جہاں قرآن انسانوں کو ایمان اور اخلاق کی راہ پر چلنے کی ہدایت دیتا ہے، وہیں اس میں اللہ کی تخلیق کی نشانیوں کو بھی بیان کیا گیا ہے۔ ان آیات کو سائنسی تحقیق کے ذریعے دریافت کرنا انسان کی عقل اور فہم کے لیے ایک چیلنج ہے، جو قرآن کی حقیقت اور اللہ کی حکمت کو مزید کھولتا ہے۔ اس کی گہرائی کو سمجھ کر ہم اللہ کے قریب جا سکتے ہیں اور اس کی تخلیق کے مختلف پہلوؤں کو بہتر طور پر سمجھ سکتے ہیں۔ قرآن نے 1400 سال پہلے جو حقیقتیں بیان کیں، سائنس نے آج ان کو دریافت کیا اور یہ ثابت کیا کہ قرآن کا پیغام ہمیشہ انسانیت کے لیے رہنمائی فراہم کرنے والا تھا اور ہے۔

مختصر لنک: https://www.siraat-times.com/?p=1220

ٹیگز

تبصرے