*جون ایلیاء اور استعماری مفادات*
*فکریات اسد اللہ خاں غالب اور اسلامی منظومہ فکری*
*خدائی منصوبہ اور طاغوتی چالیں*
*عبادت کے بغیر انقلاب: ایک خود فریبی*
امن یا فریب؟ حق و باطل کی پوشیدہ جنگ
*صلح و مذاکرات یا جنگ و قتال*
حدود کی غلط فہمیاں اور تعلقات کا توازن
*پیشہ ورانہ زندگی میں وقار، حدود اور اختیار*
رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے آج سہ پہر کو یونیورسٹیوں کے ممتاز اور برگزیدہ طلباء سے ملاقات میں جوان نسل بالخصوص طلباء کی فعال اور با نشاط جد وجہد کو عقل و شعور کے ہمراہ انقلاب اسلامی کے چوتھے عشرے میں عدل و انصاف اور پیشرفت کے تحقق کے لئے سب سے بڑی اور اہم ذمہ داری قراردیتے ہوئے فرمایا: مسلم جوان نسل کو ہمت اور امید سے سرشار نگاہ اور صحیح پروگرام اور درست اصولوں کی بنیاد پر مسلسل جد رجہد کے ذریعہ نئی فکر اور ایسے اسلامی معاشرے تک پہنچنے کے لئے قدم اٹھانا چاہیے جو مادی اور معنوی پیشرفت کا آئینہ دار ہو
بعض اوقات لوگوں کی توجہ کسی اہم حقیقت سے ہٹانے، انہیں گمراہ کرنے یا کسی مخصوص ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے مختلف نفسیاتی اور حربی تکنیکیں استعمال کی جاتی ہیں۔ یہ تکنیکیں سیاست، میڈیا، کاروبار اور سماجی معاملات میں عام طور پر دیکھنے کو ملتی ہیں۔ ایک باشعور انسان کے لیے ان حربوں کو پہچاننا ضروری ہوتا ہے تاکہ وہ حقیقت اور دھوکہ دہی میں فرق کر سکے۔ ایک عام تکنیک یہ ہے کہ
اللہ وہ ذات ہے جس نے کتاب کو حق کے ساتھ نازل کیا اور میزان کو بھی۔ کتاب سے مراد وہ وحی ہے جو شریعت اور دین پر مشتمل ہو، ایسا دین جو انسانی معاشرے میں نافذ ہو۔ جیسا کہ آیت "كانَ النّاسُ أُمَّةً واحِدَةً..." کی تفسیر میں ذکر کیا گیا کہ قرآن میں کتاب سے مراد شریعت اور دین ہے۔ اور "انزال بالحق" کا مطلب یہ ہے کہ یہ کتاب سراسر حق پر مبنی ہے، اور اس میں شیطانی اور نفسانی اختلافات کی آمیزش نہیں ہے۔ میزان کا مطلب ہر وہ معیار یا پیمانہ ہے جس کے ذریعے اشیاء کو تولا یا پرکھا جاتا ہے۔ آیت کے آخری حصے اور اس کے بعد والی آیات کے تناظر میں یہاں میزان سے مراد وہی دین ہے جو کتاب میں موجود ہے۔ دین کو میزان کہنے کی وجہ یہ ہے کہ
صراط ٹائمز: اسلام میں عبادات اور احکام کو ایک وسیلہ قرار دیا گیا ہے، جو انسان کو اس کے حقیقی مقصد یعنی قربِ الٰہی اور رضائے الٰہی تک پہنچاتے ہیں۔ اگر ان وسیلوں کو ہی مقصود بنا لیا جائے تو انسان اپنے اصل ہدف سے بھٹک جاتا ہے اور شرک میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں واضح طور پر فرمایا: "يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَابْتَغُوا إِلَيْهِ الْوَسِيلَةَ وَجَاهِدُوا فِي سَبِيلِهِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ" (المائدہ: 35)۔ اس آیت میں وسیلے کو مقصد نہیں بلکہ
اسلام کو دینِ فطرت کہا گیا ہے، یعنی اس کی تعلیمات انسانی سرشت سے ہم آہنگ ہیں اور کسی خارجی جبر کی محتاج نہیں۔ اگر کوئی چیز واقعی فطری ہو تو اسے مسلط کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی، بلکہ انسان خودبخود اسے قبول کرتا ہے۔ اس کے برعکس، جہاں سختی اور جبر کی ضرورت پڑے، وہاں اس بات کا اشارہ ملتا ہے کہ وہ چیز انسانی طبیعت کے خلاف ہے، اور اسے قبول کرانے کے لیے بیرونی دباؤ درکار ہے
صراط ٹائمز / آیت اللہ العظمیٰ شیخ بشیر حسین نجفی کے مرکزی دفتر، نجف اشرف عراق کے وفد نے اسلامی جمہوریہ ایران کے شہر قم المقدسہ میں بنگلہ دیش میں رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای کے نمائندے، حجۃ الاسلام والمسلمین سید مہدی علی زادہ الموسوی سے ملاقات کی۔ […]
اسلامی تعاون تنظیم )او آئی سی( کا اجلاس 4 مارچ کو سعودی عرب کی سربراہی میں جدہ میں متوقع ہے جہاں مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ فلسطین کی موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال کریں گے۔ ذرائع کے مطابق پاکستان اس اجلاس میں خصوصی شرکت کرے گا اور فلسطینی عوام کی حمایت میں اپنا مؤقف پیش […]