حقیقت کو مسخ کرنے 1کے شیطانی طریقے
تحریر: سید جہانزیب عابدی
لاحول ولاقوۃ الاباللہ
صراط ٹائمز: بعض اوقات لوگوں کی توجہ کسی اہم حقیقت سے ہٹانے، انہیں گمراہ کرنے یا کسی مخصوص ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے مختلف نفسیاتی اور حربی تکنیکیں استعمال کی جاتی ہیں۔ یہ تکنیکیں سیاست، میڈیا، کاروبار اور سماجی معاملات میں عام طور پر دیکھنے کو ملتی ہیں۔ ایک باشعور انسان کے لیے ان حربوں کو پہچاننا ضروری ہوتا ہے تاکہ وہ حقیقت اور دھوکہ دہی میں فرق کر سکے۔
ایک عام تکنیک یہ ہے کہ کسی غیر متعلقہ یا گمراہ کن موضوع کو نمایاں کر کے اصل مسئلے سے توجہ ہٹا دی جائے۔ جیسے اگر کسی سیاستدان پر کرپشن کے الزامات لگیں تو وہ قومی سلامتی یا کسی اور حساس معاملے پر بحث چھیڑ دیتا ہے تاکہ لوگ اس پر توجہ نہ دیں۔ اسی طرح بعض اوقات دو بالکل مختلف چیزوں کو برابر ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، حالانکہ حقیقت میں ان کے درمیان کوئی مماثلت نہیں ہوتی۔ مثال کے طور پر، اگر کوئی کہے کہ ایک عام شہری کو ٹیکس چوری پر سزا ملتی ہے لیکن ایک امیر شخص بچ نکلتا ہے، تو یہ دلیل اس حقیقت کو نظر انداز کر دیتی ہے کہ امیر افراد اکثر قانونی طریقے سے ٹیکس بچاتے ہیں، جو تکنیکی طور پر چوری نہیں ہوتا۔
کبھی کبھار کسی کی اصل بات کو توڑ مروڑ کر ایک کمزور شکل میں پیش کر کے اس کا رد کیا جاتا ہے، جیسے اگر کوئی ماحولیاتی تحفظ پر زور دے تو جواب میں کہا جائے کہ وہ چاہتا ہے کہ تمام گاڑیاں اور فیکٹریاں بند کر دی جائیں، حالانکہ اس نے ایسا کچھ نہیں کہا ہوتا۔ بعض اوقات احساسِ جرم پیدا کر کے بھی کسی خاص نظریے یا عمل کو قبول کروانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اگر کوئی حکومت کی پالیسی پر تنقید کرے تو اس پر حب الوطنی کے خلاف ہونے کا الزام لگا دیا جاتا ہے، حالانکہ تنقید کرنا وطن سے محبت کے خلاف نہیں ہوتا۔
کچھ مواقع پر دلیل کے اندر ہی نتیجہ پہلے سے فرض کر لیا جاتا ہے، جیسے اگر کوئی کہے کہ ایک دوا سب سے بہترین ہے کیونکہ ڈاکٹر ایسا کہتے ہیں، حالانکہ اس بات کا کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا ہوتا۔ اسی طرح جب کسی پر تنقید کی جاتی ہے تو بجائے جواب دینے کے، دوسرے لوگوں کی غلطیوں کا ذکر کر کے موضوع بدل دیا جاتا ہے، جیسے اگر کسی حکومت پر مہنگائی بڑھانے کا الزام لگے تو وہ کہے کہ پچھلی حکومت میں بھی ایسا ہی تھا، حالانکہ اس سے موجودہ حکومت کا جواز نہیں بنتا۔
کسی کی دلیل کو رد کرنے کے بجائے اس کی ذات پر حملہ کرنا بھی ایک عام حربہ ہے۔ مثال کے طور پر، اگر کوئی عالم دین کسی مسئلے پر اپنی رائے دے تو بجائے اس کے دلائل پر بات کرنے کے یہ کہا جائے کہ یہ تو مولوی ہیں، ان کی بات مت سنو۔ اسی طرح بعض اوقات کسی معاملے کو اس طرح پیش کیا جاتا ہے کہ جیسے صرف دو ہی راستے ہوں، حالانکہ حقیقت میں کئی اور امکانات بھی ہو سکتے ہیں، جیسے اگر کہا جائے کہ یا تو تم ہمارے ساتھ ہو یا ہمارے دشمن، حالانکہ اختلافِ رائے کی بھی گنجائش ہوتی ہے۔
کاروباری دنیا میں لوگوں کو جھانسہ دینے کے لیے بھی خاص طریقے اپنائے جاتے ہیں۔ جیسے کسی چیز پر بڑی رعایت کا اشتہار دیا جائے، لیکن جب گاہک خریدنے آئے تو بتایا جائے کہ وہ ماڈل ختم ہو گیا ہے اور انہیں مہنگی چیز خریدنے پر مجبور کیا جائے۔ بعض اوقات طاقتور ادارے خود ہی ایک مصنوعی اپوزیشن کھڑی کر دیتے ہیں تاکہ ایسا لگے کہ تنقید ہو رہی ہے، حالانکہ اصل مسئلہ نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔
اسی طرح ایک اور نفسیاتی حربہ یہ ہے کہ کسی حقیقت کو چھپانے کے لیے غیر متعلقہ یا جذباتی معاملات کو نمایاں کر دیا جائے۔ اگر کسی حکومت پر کرپشن کے الزامات ہوں تو وہ عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے قومی سلامتی یا مذہبی معاملات کو بڑھا چڑھا کر پیش کر سکتی ہے۔ میڈیا میں بھی ایسا ہوتا ہے، جیسے کسی بڑے مالیاتی اسکینڈل کے وقت کسی مشہور شخصیت کی شادی یا طلاق کو بڑی خبر بنا دیا جائے۔ کاروباری دنیا میں، اگر کسی کمپنی پر ماحولیاتی نقصان کا الزام لگے تو وہ فوراً کسی فلاحی مہم کا اعلان کر دیتی ہے تاکہ عوام کی توجہ اصل مسئلے سے ہٹ جائے۔
یہ تمام حربے بظاہر عام سے محسوس ہوتے ہیں لیکن درحقیقت بہت چالاکی سے رائے عامہ کو قابو میں رکھنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔ ایک باشعور اور سمجھدار شخص کے لیے ضروری ہے کہ وہ ان چالاکیوں کو پہچانے اور حقیقت کو دھوکہ دہی سے الگ کر سکے۔
شیعہ تاریخ میں دشمنانِ تشیع نے ہمیشہ مختلف نفسیاتی اور حربی تکنیکوں کا استعمال کیا تاکہ اہلِ بیتؑ کے حقیقی پیغام کو دبایا جا سکے، مسلمانوں کو گمراہ کیا جا سکے اور اپنے سیاسی و ذاتی مفادات کی تکمیل کی جا سکے۔ ان حربوں میں سب سے عام طریقہ یہ تھا کہ غیر متعلقہ یا گمراہ کن موضوعات کو نمایاں کر کے اصل حقیقت سے لوگوں کی توجہ ہٹا دی جائے۔ اس کی ایک نمایاں مثال واقعۂ کربلا کے بعد یزید اور اس کے حواریوں کی کوششیں تھیں کہ وہ اس سانحے کو محض ایک سیاسی بغاوت کے طور پر پیش کریں۔ جب امام حسینؑ کی شہادت نے لوگوں میں بے چینی پیدا کی، تو یزید نے مختلف حربے اپنا کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ یہ ایک سازش تھی جس میں امام حسینؑ خود ملوث تھے اور یزید کو مجبوراً یہ قدم اٹھانا پڑا۔
اسی طرح، دشمنانِ تشیع نے ہمیشہ جھوٹے تقابل اور غلط موازنوں کا سہارا لیا تاکہ حق اور باطل کو ایک جیسا ثابت کیا جا سکے۔ جب خلافت کے مسئلے پر بحث ہوئی، تو اہلِ بیتؑ کے حق کو نظر انداز کرنے کے لیے کہا گیا کہ اگر حضرت ابوبکر کو منتخب کر لیا گیا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہی درست طریقہ تھا، جبکہ اہلِ بیتؑ کی نامزدگی کو خاندانی حکمرانی کی خواہش قرار دے دیا گیا۔ حالانکہ یہ دونوں چیزیں برابر نہیں تھیں، کیونکہ رسول اللہؐ نے خود امیرالمؤمنینؑ کو خدا کے حکم کے مطابق امت کا رہبر مقرر فرمایا تھا۔
ایک اور حربہ یہ تھا کہ کسی کی اصل دلیل کو توڑ مروڑ کر پیش کیا جائے اور پھر اس کمزور شکل کو رد کر دیا جائے۔ امیرالمؤمنین علیؑ کے خلاف سب سے زیادہ استعمال ہونے والا حربہ یہی تھا کہ ان کے عدل اور حکمت کو منفی رنگ دے کر پیش کیا گیا۔ جب آپؑ نے خلافت سنبھالی اور حکومتی انصاف کو بحال کرنا چاہا، تو ان پر یہ الزام لگایا گیا کہ وہ سیاسی بصیرت نہیں رکھتے اور امورِ حکومت کو درست طریقے سے نہیں چلا سکتے، حالانکہ آپؑ نے عدلِ الٰہی کو برقرار رکھنے کے لیے ہر ممکن جدوجہد کی۔ یہی تکنیک امام جعفر صادقؑ کے دور میں بھی استعمال کی گئی، جب عباسی خلافت نے امامؑ کے علمی مرکز کو کمزور کرنے کے لیے کہا کہ دین کے نام پر صرف فقہ اور ظاہر پرستی کافی ہے، جبکہ امامؑ کے فلسفیانہ اور سائنسی علوم کو بدعت قرار دیا گیا۔
کئی بار ایسا بھی ہوا کہ کسی پر تنقید کرنے کی بجائے اسے جذباتی بلیک میلنگ میں مبتلا کر دیا گیا۔ جب امام زین العابدینؑ نے دربارِ یزید میں خطبہ دیا اور حقائق کو آشکار کیا، تو یزیدی درباریوں نے فوراً اہلِ بیتؑ پر الزام لگایا کہ وہ امت میں تفرقہ ڈال رہے ہیں۔ یہی حربہ تاریخ میں بارہا دہرایا گیا، جیسے امام موسیٰ کاظمؑ کو قید میں ڈال کر یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی گئی کہ وہ حکومت کے خلاف بغاوت کر رہے تھے، جبکہ حقیقت میں وہ دینِ اسلام کی اصل اقدار کی حفاظت کر رہے تھے۔
کچھ مواقع پر دلیل کے اندر ہی نتیجہ فرض کر لیا گیا اور بغیر کسی ثبوت کے بات کو سچ تسلیم کروا دیا گیا۔ جب خلافتِ بنی امیہ کو مضبوط کرنے کے لیے حکومت کی طرف سے خطبوں میں یہ مشہور کر دیا گیا کہ جو بھی حکومت کے خلاف ہو، وہ دین سے خارج ہے، تو اس کا مطلب یہی تھا کہ بنی امیہ کی حکومت کو ہی دین کا معیار بنا دیا گیا۔ اسی لیے امام حسینؑ نے اپنی شہادت سے پہلے واضح کیا تھا کہ دین کو ایک ظالم حکومت کے تابع کرنے کی یہ سازش درحقیقت اسلام کی بنیادوں کو کھوکھلا کر دے گی۔
اپنی کوتاہیوں پر جواب دہ ہونے کے بجائے دوسروں کو بھی اس عمل میں شامل کرکے خود کو معمول کے مطابق ظاہر کیا گیا۔۔ جب اہلِ بیتؑ پر ظلم ڈھائے گئے اور ان کے حقوق سلب کیے گئے، تو بجائے اس ظلم کو تسلیم کرنے کے، کہا گیا کہ دیگر صحابہ پر بھی مظالم ہوئے تھے، اس لیے یہ کوئی انوکھا واقعہ نہیں۔ اس دلیل کا مقصد یہ تھا کہ اہلِ بیتؑ کے ساتھ ہونے والے جبر کو معمول کی ایک بات بنا دیا جائے تاکہ لوگ اس پر غور نہ کریں۔
کسی کی دلیل کو رد کرنے کے بجائے اس کی ذات پر حملہ کرنا بھی عام حربہ رہا۔ امام علیؑ کی شخصیت پر بے بنیاد الزامات لگائے گئے، حتیٰ کہ ان کے خلاف مساجد میں لعنت بھیجنے کو عام کر دیا گیا تاکہ لوگ ان کی فضیلتوں سے بے خبر رہیں۔ اسی طرح امام محمد تقیؑ اور امام علی نقیؑ کے علم و حکمت کو کمزور کرنے کے لیے ان پر حکومت نواز ہونے کے الزامات لگائے گئے، حالانکہ وہ ہمیشہ ظالم حکمرانوں کے خلاف برسرپیکار رہے۔
ایک اور چالاکی یہ تھی کہ مسئلے کو یوں پیش کیا جائے جیسے صرف دو ہی راستے ہوں، جبکہ حقیقت میں کئی حل موجود ہوں۔ جیسے امام حسنؑ کے صلح کے فیصلے کو یوں پیش کیا گیا کہ یا تو وہ لڑتے اور ختم ہو جاتے یا پھر معاویہ کی اطاعت کر لیتے، حالانکہ امامؑ نے اپنی امت کے تحفظ کے لیے صلح کو بہترین حکمتِ عملی کے طور پر اپنایا تھا۔
کئی مواقع پر لوگوں کو دھوکہ دے کر جھانسے میں بھی رکھا گیا۔ جیسے عباسی خلفاء نے اہلِ بیتؑ کے چاہنے والوں کو حمایت کا یقین دلایا، لیکن جب اقتدار ملا تو انہوں نے اہلِ بیتؑ اور ان کے ماننے والوں پر پہلے سے بھی زیادہ سختیاں مسلط کر دیں۔ مامون الرشید نے امام رضاؑ کو ولی عہد بنانے کا ڈرامہ رچایا تاکہ لوگوں کو یہ تاثر دیا جا سسکے کہ وہ اہلِ بیتؑ کا حامی ہے، مگر اصل حقیقت یہ تھی کہ وہ امامؑ کی شہرت اور اثر و رسوخ سے خوفزدہ تھا اور انہیں قابو میں رکھنا چاہتا تھا۔
طاقتور حکمرانوں نے ہمیشہ ایک مصنوعی اپوزیشن کھڑی کی تاکہ یہ ظاہر ہو کہ ان پر تنقید ہو رہی ہے، جبکہ اصل مسائل پر پردہ ڈال دیا گیا۔ جیسے بنی عباس کے دور میں کئی ایسے نام نہاد علما پیدا کیے گئے جو بظاہر اہلِ بیتؑ سے محبت کا اظہار کرتے تھے، مگر اصل میں حکمرانوں کے ایجنڈے کو ہی تقویت دیتے تھے تاکہ عوام کو کنفیوز رکھا جا سکے۔
ایک اور حربہ کسی حقیقت کو چھپانے کے لیے غیر متعلقہ یا جذباتی معاملات کو نمایاں کرنا تھا۔ جب اہلِ بیتؑ کے ماننے والوں نے واقعۂ کربلا کے بعد یزیدی مظالم کے خلاف آواز بلند کی، تو حکومت نے لوگوں کی توجہ ہٹانے کے لیے دوسرے فقہی مسائل کو نمایاں کرنا شروع کر دیا۔ آج بھی یہی حربہ استعمال ہوتا ہے، جہاں اہلِ بیتؑ کی تعلیمات پر بات کرنے کے بجائے دوسرے غیر متعلقہ امور کو اجاگر کر کے اصل پیغام کو دبانے کی کوشش کی جاتی ہے۔
یہ تمام حربے تاریخ میں بارہا دہرائے گئے اور آج بھی استعمال کیے جا رہے ہیں۔ ایک باشعور اور سمجھدار انسان کے لیے ضروری ہے کہ وہ ان چالاکیوں کو پہچانے، تاریخ سے سبق لے اور حقیقت اور دھوکہ دہی کے درمیان فرق کرنا سیکھے تاکہ وہ اپنے عقیدے اور تاریخ کے حوالے سے کسی سازش کا شکار نہ ہو۔
