بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم۔
تحریر : سید جہانزیب عابدی
صراط ٹائمز: اسلام کو دینِ فطرت کہا گیا ہے، یعنی اس کی تعلیمات انسانی سرشت سے ہم آہنگ ہیں اور کسی خارجی جبر کی محتاج نہیں۔ اگر کوئی چیز واقعی فطری ہو تو اسے مسلط کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی، بلکہ انسان خودبخود اسے قبول کرتا ہے۔ اس کے برعکس، جہاں سختی اور جبر کی ضرورت پڑے، وہاں اس بات کا اشارہ ملتا ہے کہ وہ چیز انسانی طبیعت کے خلاف ہے، اور اسے قبول کرانے کے لیے بیرونی دباؤ درکار ہے۔
قرآن مجید اسی اصول کو واضح کرتے ہوئے کہتا ہے: “لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ” (دین میں کوئی جبر نہیں)۔ یہ اعلان اس حقیقت کو بیان کرتا ہے کہ دین دلیل اور بصیرت کا مطالبہ کرتا ہے، نہ کہ جبر اور سختی کا۔ اگر ہدایت کا راستہ حقیقتاً روشن اور واضح ہو، تو کسی کو مجبور کرنے کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ جو چیز عقل اور فطرت کے مطابق ہو، وہ انسان کے ذہن و دل میں ازخود اتر جاتی ہے، جبکہ جو چیز غیر فطری ہو، اس پر سختی کرنی پڑتی ہے، اور سختی عموماً مزاحمت کو جنم دیتی ہے۔
انسانی نفسیات یہ بتاتی ہے کہ جبر سے قبول کیا گیا عقیدہ دیرپا نہیں ہوتا، بلکہ دل میں بغاوت پیدا کرتا ہے۔ بچے کی مثال لے لیجیے، اگر کسی چیز کو محبت، وضاحت اور دلیل سے سمجھایا جائے تو وہ اسے بہ آسانی قبول کر لیتا ہے، لیکن اگر کسی چیز کو سختی اور زبردستی کے ذریعے مسلط کیا جائے تو وہ ظاہری طور پر مان بھی لے، تب بھی اندرونی طور پر وہ اس کے خلاف ہوتا ہے۔ یہی اصول دین اور عقیدے پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ دین کا معاملہ فطری کشش اور اندرونی تسلیم سے جڑا ہوا ہے، اور اگر یہ کشش ختم ہو جائے یا اس پر جبر کا سایہ پڑ جائے، تو دلوں میں دین کے خلاف بے زاری پیدا ہو جاتی ہے۔
جہاد اور سختی کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ جہاد میں سختی ایک دفاعی نوعیت کی چیز ہے، جو فکری نہیں بلکہ عملی ہے۔ جب باطل کھلے دل و دماغ سے حق کو سننے اور سمجھنے سے انکار کر دے اور ہٹ دھرمی پر اتر آئے، جب حق کے راستے میں طاقت سے رکاوٹیں کھڑی کی جائیں، تو پھر جہاد لازم آتا ہے۔ لیکن یہ سختی، علمی مکالمے میں نہیں بلکہ ظلم اور جبر کو مٹانے کے لیے ہے۔ قرآن میں اکثر مقامات پر پہلے دلیل، حکمت اور بصیرت کی دعوت دی گئی، اور جب مخاطب اپنی ہٹ دھرمی پر اتر آیا، تب جہاد کا حکم دیا گیا۔ اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اسلام پہلے مرحلے میں ذہنوں کو روشن کرنا چاہتا ہے، لوگوں کو قائل کرنا چاہتا ہے، اور اگر کوئی علم کی روشنی میں بھی جان بوجھ کر باطل پر اصرار کرے اور حق کو دبانے کے لیے ظلم کا سہارا لے، تو پھر عملی اقدام کیا جاتا ہے۔
علم کے معاملے میں سختی کو ہمیشہ ناپسندیدہ سمجھا گیا ہے، کیونکہ علم کا تعلق تفکر اور دلیل سے ہے، نہ کہ جبر سے۔ جو علم زبردستی دیا جائے، وہ ذہن میں مستقل نہیں رہتا۔ یہی وجہ ہے کہ رسول اکرم (ص) نے ہمیشہ نرمی، حکمت اور محبت کے ذریعے دین کی تعلیم دی۔ حضرت علی (ع) کا یہ قول اس حقیقت کو مزید واضح کرتا ہے: “لَا تَكْرَهُوا أَوْلَادَكُمْ عَلَى آثَارِكُمْ فَإِنَّهُمْ مَخْلُوقُونَ لِزَمَانٍ غَيْرِ زَمَانِكُمْ” (اپنی اولاد کو اپنے طور طریقوں پر مجبور نہ کرو، کیونکہ وہ ایک الگ زمانے کے لیے پیدا ہوئے ہیں)۔ اس فرمان میں نہ صرف وقت کی تبدیلی کو تسلیم کیا گیا ہے، بلکہ یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ جبر سے کوئی بھی چیز مؤثر ثابت نہیں ہو سکتی۔
عملی معاملات میں سختی کی نوعیت مختلف ہوتی ہے۔ جب کسی چیز کی حقیقت سمجھ میں آ جائے، عقل اور دلیل اسے تسلیم کر لے، تو پھر اس پر عمل کی سختی کی جا سکتی ہے۔ لیکن یہ سختی بھی درحقیقت خود پر قابو پانے اور نظم و ضبط کو اپنانے کی ہوتی ہے، نہ کہ کسی پر جبر کرنے کی۔ نماز، روزہ، اور دیگر اسلامی فرائض کا تقاضا یہی ہے کہ جب انسان حقیقت کو جان لے، تو اس پر استقامت بھی اختیار کرے۔ البتہ، یہاں بھی سختی کا مفہوم جبر نہیں بلکہ ذمہ داری کی سنجیدگی ہے۔
دینِ اسلام ایک ایسا نظام حیات پیش کرتا ہے جو فطرت کے اصولوں کے مطابق ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ فکری معاملات میں نرمی، وضاحت اور حکمت کو اختیار کرتا ہے اور جب کوئی شعوری طور پر باطل پر ڈٹ جائے اور راہِ حق میں روڑے اٹکائے، تب سختی اور مزاحمت کا مرحلہ آتا ہے۔ اس لیے اگر کسی جگہ سختی کی جا رہی ہو، تو یہ سوچنا چاہیے کہ آیا وہ سختی علم و دلیل کے بغیر کسی نظریے کو مسلط کرنے کے لیے ہے یا ظلم کے خلاف مزاحمت کے طور پر۔ یہی فرق انسان کو سمجھنا چاہیے تاکہ وہ دین کی اصل روح کو پہچان سکے اور اس کی تعلیمات کو بہتر انداز میں اپنے اور دوسروں کے لیے قابلِ قبول بنا سکے۔
انسان کی سب سے بڑی دولت اس کا علم ہے، اور سب سے بڑی محرومی جہل۔ جو شخص کسی چیز کو نہیں جانتا، وہ گویا روشنی سے محروم ہے اور راہِ عمل میں بے یقینی کا شکار ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے ہمیشہ علم کی جستجو کو عبادت کے درجے پر رکھا ہے۔ نبی اکرم (ص) نے فرمایا: “طلب العلم فريضة على كل مسلم ومسلمة” (علم کا حاصل کرنا ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض ہے)۔ اس فرمان میں یہ واضح کیا گیا کہ علم کا حصول ایک اختیاری عمل نہیں، بلکہ ایک ذمہ داری ہے۔
محرومی دو طرح کی ہوتی ہے: ایک وہ جو قدرتی ہے، یعنی ایک شخص کسی چیز سے واقف نہیں لیکن وہ سیکھنا چاہتا ہے، وہ اس کے لیے جستجو رکھتا ہے۔ ایسے شخص کو محروم نہیں کہا جا سکتا بلکہ وہ ایک متلاشی ہے، ایک سیکھنے والا ہے۔ قرآن مجید نے ایسے لوگوں کے لیے ہمیشہ دروازے کھولے اور انہیں سیکھنے کے مواقع دیے، کیونکہ ہدایت اس کے نصیب میں ہوتی ہے جو اسے چاہتا ہو۔
لیکن دوسری قسم کی محرومی وہ ہے جو شیطانی فریب اور تکبر کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو نہ خود سیکھتے ہیں اور نہ دوسروں کو سیکھنے دیتے ہیں۔ قرآن مجید ایسے لوگوں کو سخت وعید سناتا ہے:
“إِنَّ الَّذِينَ يَكْتُمُونَ مَا أَنْزَلَ اللَّهُ مِنَ الْكِتَابِ وَيَشْتَرُونَ بِهِ ثَمَنًا قَلِيلًا أُوْلَئِكَ مَا يَأْكُلُونَ فِي بُطُونِهِمْ إِلَّا النَّارَ” (البقرہ 2:174)
(جو لوگ اس علم کو چھپاتے ہیں جو اللہ نے نازل کیا ہے اور اس کے بدلے معمولی قیمت لے لیتے ہیں، وہ اپنے پیٹ میں آگ بھر رہے ہیں۔)
یہاں علم کو چھپانے اور تعلیم میں رکاوٹ ڈالنے والوں کو ایک مجرم کے طور پر پیش کیا گیا ہے، کیونکہ وہ اپنی جہالت کو دوسروں پر بھی مسلط کرنا چاہتے ہیں۔ ایسے افراد کو قرآن ظالم اور مجرم قرار دیتا ہے، کیونکہ وہ انسانی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہوتے ہیں۔
نفسیاتی طور پر، جو شخص خود سیکھنا نہیں چاہتا، وہ دوسروں کو بھی علم حاصل کرنے سے روکتا ہے تاکہ وہ برتری کا احساس برقرار رکھ سکے۔ یہ وہی نفسیاتی کیفیت ہے جس کا شکار شیطان تھا۔ اس نے خود حق کو تسلیم نہیں کیا اور نہ چاہا کہ کوئی اور اسے تسلیم کرے، بلکہ انسان کو بھی گمراہی میں دھکیلنا چاہا۔ یہی رویہ دنیا کے ظالم حکمرانوں، جابروں اور جہالت کو پھیلانے والوں کا ہوتا ہے کہ وہ عام لوگوں کو بھی تعلیم سے محروم رکھتے ہیں تاکہ ان پر اپنا تسلط قائم رکھ سکیں۔
اس لیے جو شخص علم سے محروم ہے لیکن سیکھنا چاہتا ہے، وہ مسکین اور قابلِ رحم ہے۔ اس کی مدد کی جانی چاہیے، اس پر سختی نہیں کرنی چاہیے، بلکہ اسے راستہ دکھانا چاہیے۔ لیکن جو شخص جان بوجھ کر تعلیم میں رکاوٹ بنے، دوسروں کو گمراہی میں ڈالے، یا حق کو چھپائے، وہ مجرم ہے اور ایسے شخص کی گوشمالی ضروری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن اور سنت میں جاہلوں کو تعلیم دینے کی تلقین کی گئی، مگر متکبر اور علم کے دشمنوں کے ساتھ سختی کا رویہ اپنانے کا حکم دیا گیا۔
یہ اصول نہ صرف دینی تعلیم بلکہ دنیاوی تعلیم پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ آج کے دور میں وہ قوتیں جو تعلیمی وسائل پر قبضہ جمائے بیٹھی ہیں، جو حقیقی علم کو عام لوگوں تک پہنچنے نہیں دیتیں، یا جو تعلیم کو مخصوص نظریات تک محدود رکھنا چاہتی ہیں، وہ سب اسی مجرمانہ رویے میں شامل ہیں۔ علم کو محدود کرنا، معلومات کو چھپانا، اور سچائی تک رسائی میں رکاوٹ ڈالنا ایک ایسا جرم ہے جو فرد اور معاشرے دونوں کو پستی میں دھکیل دیتا ہے۔
نتیجہ یہی ہے کہ جو محروم ہے، مگر سیکھنے کی خواہش رکھتا ہے، وہ تعاون اور شفقت کا مستحق ہے۔ لیکن جو علم کو دبانے والا اور تعلیم کا دشمن ہے، وہ مجرم ہے اور اسے اس جرم کا حساب دینا ہوگا۔
تعلیم و تربیت انسان کی شخصیت سازی کا بنیادی ذریعہ ہے، اور اگر یہ صحیح انداز میں انجام دی جائے تو کسی بھی معاشرے میں سختی، جبر اور حتیٰ کہ جنگ کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ اسی لیے اسلامی تعلیمات میں تعلیم کو سب سے زیادہ اہمیت دی گئی ہے اور اسے انسانی فطرت کے مطابق قرار دیا گیا ہے۔
اسلام دینِ فطرت ہے، اور فطرت ہمیشہ نرمی، تدریج اور حکمت کے ساتھ آگے بڑھتی ہے۔ کوئی بھی فطری عمل زبردستی کے ساتھ مسلط نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ جو چیز انسان کے اندر پہلے سے موجود ہو، وہ خودبخود ابھر کر سامنے آتی ہے اگر اسے صحیح مواقع اور ماحول ملے۔ یہی وجہ ہے کہ سیکھنے اور حق کی دعوت دینے کے مرحلے میں جبر و سختی غیر فطری ہے۔
رسول اکرم (ص) اور آئمہ معصومین (ع) نے ہمیشہ حکمت، شفقت اور بصیرت کے ذریعے تعلیم و تربیت کو فروغ دیا۔ ان کی مجالس میں آنے والا جاہل، دانا بن کر اٹھتا تھا، اور جو شخص ہدایت سے دور تھا، وہ خود اپنی طلب کے ذریعے راہِ راست پر آتا تھا۔ یہی تعلیم و تربیت کا اثر ہے کہ جب ایک شخص حقیقی طور پر سیکھ لیتا ہے، تو وہ اپنی شخصیت اور کردار کو خدائی نظام کے مطابق ڈھال لیتا ہے۔
حدیث میں ہے کہ “اگر تعلیم و تربیت درست انجام دی جائے تو جہاد کی ضرورت ہی نہیں رہتی”۔ اس فرمان کا گہرا مفہوم یہ ہے کہ جنگ اور سختی دراصل اس وقت ضروری ہوتی ہے جب معاشرے میں جہالت، ناانصافی اور غیر منصفانہ رویے پنپنے لگیں۔ لیکن اگر ابتدا ہی سے انسان کی شخصیت کو حکمت، اخلاق اور ذمہ داری کے ساتھ سنوار دیا جائے، تو وہ خودبخود ایک صالح شہری بن جاتا ہے اور معاشرے میں کسی قسم کی سختی یا جبر کی ضرورت نہیں پڑتی۔
نفسیاتی لحاظ سے دیکھا جائے تو وہ انسان جو تربیت کے بغیر بڑا ہوتا ہے، اکثر اپنی خواہشات کا غلام بن جاتا ہے، اور جب اسے کسی ضابطے یا قانون کے تحت لانے کی کوشش کی جاتی ہے، تو وہ مزاحمت کرتا ہے۔ اس کے برعکس، اگر بچپن سے ہی اسے محبت، دلیل اور سمجھ بوجھ کے ساتھ تعلیم و تربیت دی جائے، تو وہ فطری طور پر ایک ذمہ دار اور معاشرے کا فائدہ مند فرد بن جاتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ اسلام نے ہمیشہ اصلاحِ نفس، تربیتِ کردار اور تعلیم کو ترجیح دی، اور جنگ کو ایک آخری حل کے طور پر رکھا۔ قرآن ہمیں انبیاء کے قصے سناتا ہے، جہاں انہوں نے اپنی قوموں کو صبر، حکمت اور نرمی کے ساتھ حق کی دعوت دی۔ جب تک قوموں میں سیکھنے اور اصلاح کی گنجائش موجود رہی، تب تک انہیں موقع دیا گیا، لیکن جب وہ ہٹ دھرمی اور سرکشی پر اتر آئیں اور سچ کو دبانے لگیں، تب ان کے خلاف سخت اقدامات کیے گئے۔
یہ اصول ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ اگر کسی فرد یا معاشرے میں اصلاح کرنی ہے، تو سب سے پہلا اور مؤثر راستہ تعلیم اور تربیت ہے۔ اگر ہم کسی بھی قوم یا فرد میں حقیقی تبدیلی چاہتے ہیں، تو اسے جبر سے نہیں بلکہ فطری طور پر اس سمت میں لے جانا ہوگا جسے وہ اپنی عقل اور دل سے قبول کرے۔ یہی تعلیم و تربیت کی طاقت ہے، جو کسی بھی سختی سے زیادہ مؤثر ثابت ہوتی ہے اور حقیقی تبدیلی پیدا کرتی ہے۔
