عبادات اور دینی احکام: وسیلہ یا مقصد؟
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔
تحریر: سید جہانزیب عابدی
صراط ٹائمز: اسلام میں عبادات اور احکام کو ایک وسیلہ قرار دیا گیا ہے، جو انسان کو اس کے حقیقی مقصد یعنی قربِ الٰہی اور رضائے الٰہی تک پہنچاتے ہیں۔ اگر ان وسیلوں کو ہی مقصود بنا لیا جائے تو انسان اپنے اصل ہدف سے بھٹک جاتا ہے اور شرک میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں واضح طور پر فرمایا: “يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَابْتَغُوا إِلَيْهِ الْوَسِيلَةَ وَجَاهِدُوا فِي سَبِيلِهِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ” (المائدہ: 35)۔ اس آیت میں وسیلے کو مقصد نہیں بلکہ ذریعہ قرار دیا گیا ہے، جس کے ذریعے انسان فلاح تک پہنچ سکتا ہے۔
نماز، روزہ، حج، زکات، خمس، جہاد، امر بالمعروف، نہی عن المنکر، تولا اور تبرا جیسے احکام فروع دین میں شامل ہیں، جو انسان کی روحانی، سماجی اور اخلاقی ترقی کے لیے وضع کیے گئے ہیں۔ امام جعفر صادقؑ فرماتے ہیں: “الصَّلَاةُ قُرْبَانُ كُلِّ تَقِيٍّ” یعنی نماز ہر متقی کے لیے قربِ الٰہی کا ذریعہ ہے۔ اس حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ نماز بذاتِ خود مقصد نہیں بلکہ اللہ سے قربت کا وسیلہ ہے۔ اسی طرح، امام علیؑ فرماتے ہیں: “إِنَّكُمْ إِنْ لَمْ تَعْمَلُوا لِلْآخِرَةِ لَمْ تَكُنْ دُنْيَاكُمْ تَمُرُّ بِكُمْ عَلَى خَيْرٍ” یعنی اگر تم آخرت کے لیے عمل نہ کرو تو تمہاری دنیا بھی تمہارے لیے خیر و برکت والی نہیں ہوگی۔ اس قول میں عبادات اور دینی احکام کو اس نظر سے دیکھنے کی ترغیب دی گئی ہے کہ ان کا نتیجہ صرف دنیاوی فوائد تک محدود نہ ہو، بلکہ آخرت میں کامیابی کا ذریعہ بنے۔
ان عبادات کا نفسیاتی پہلو بھی بہت اہم ہے۔ نماز انسان کے شعور میں ایک مسلسل خود احتسابی اور بندگی کی کیفیت پیدا کرتی ہے، جو اسے غرور و تکبر سے محفوظ رکھتی ہے۔ روزہ نفس کی تربیت کرتا ہے، خواہشات پر قابو پانے کی قوت عطا کرتا ہے اور صبر و استقامت سکھاتا ہے۔ حج اجتماعیت کا درس دیتا ہے اور انسان کو مساوات و اخوت کی عملی مشق سکھاتا ہے۔ زکات اور خمس مالی ایثار اور سماجی عدل کی بنیاد فراہم کرتے ہیں، جو معاشرے میں طبقاتی تقسیم کے خاتمے اور اجتماعی فلاح کے لیے ضروری ہیں۔ جہاد ایک وسیع مفہوم رکھتا ہے، جو صرف جنگ تک محدود نہیں بلکہ ہر وہ جدوجہد جو حق کے قیام اور باطل کے خاتمے کے لیے ہو، اس میں شامل ہے۔ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ایک ذمہ داری ہے، جو معاشرتی اصلاح کے لیے ناگزیر ہے۔ تولا اور تبرا قلبی اور عملی سطح پر حق و باطل کے درمیان امتیاز کو واضح کرتے ہیں، تاکہ انسان اپنے عقائد و نظریات میں کسی شک و شبہ کا شکار نہ ہو۔
اسی طرح تلاوتِ قرآن، دعا، توسل، عزاداری اور دیگر اسلامی ثقافتی رسمیں اور شعائر بھی وسیلہ ہیں جو انسان کو دین کی روح تک پہنچنے اور واجباتِ دین کی انجام دہی کی طرف رغبت دلانے کے لیے مقرر کیے گئے ہیں۔ قرآن کی تلاوت اللہ کے کلام سے جُڑنے اور ہدایت کے نور کو اپنے قلب میں جگہ دینے کا ذریعہ ہے۔ دعا بندے اور خدا کے درمیان ایک روحانی پل ہے، جو اللہ پر مکمل بھروسے اور اس کی رحمت کی امید کو مضبوط کرتا ہے۔ توسل اہلِ بیتؑ کی سیرت اور ان کے وسیلے سے اللہ کے قرب کو طلب کرنے کا ایک ذریعہ ہے، جو انسان کے اندر اخلاص اور توکل کی کیفیت پیدا کرتا ہے۔ عزاداری سید الشہداء امام حسینؑ کی قربانی کو یاد رکھنے اور ظلم کے خلاف قیام کے عزم کو زندہ رکھنے کا ایک عظیم ذریعہ ہے، جو ایمان کی تازگی اور روحانی بیداری پیدا کرتی ہے۔
تھوڑا کھلے الفاظ میں دینی حکومت کیلئے فروع دین کو سبب کے طور پر دیکھا جائے تو سمجھ آتا ہے کہ کس طرح یہ فروعات حکومت دینی اور پھر الہٰی رضا کے حصول میں معاون ہے۔ فروعِ دین، جو اسلام کے عملی پہلو کو بیان کرتے ہیں، نہ صرف فرد کی ذاتی اصلاح کا ذریعہ بنتے ہیں بلکہ ایک مضبوط، باشعور اور بیدار معاشرہ تشکیل دینے میں بھی بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ جب ایک مسلمان ان فرائض کو شعوری طور پر اپناتا ہے تو اس کی نفسیات ایسی تربیت حاصل کرتی ہے جو اسے دشمن کی سازشوں سے محفوظ رکھتے ہوئے ایک عالمی عادلانہ نظامِ حکومت کے قیام کے لیے جدوجہد کا اہل بناتی ہے۔
نماز فرد کے اندر خود احتسابی، ضبطِ نفس اور روحانی بیداری پیدا کرتی ہے، جس کے ذریعے وہ کسی بھی باطل نظریے یا فکری یلغار کا شکار ہونے سے بچتا ہے۔ روزہ انسان کو خواہشات پر قابو پانے اور مشکلات میں صبر و استقامت اختیار کرنے کی تربیت دیتا ہے، جو دشمن کی سازشوں اور آزمائشوں میں ثابت قدم رہنے کے لیے ضروری ہے۔ زکوٰۃ اور خمس جیسے مالی واجبات ایک فرد کی ذہنیت کو ایثار و قربانی کی طرف مائل کرتے ہیں، جس سے وہ اجتماعی بہبود اور ایک ایسے اقتصادی نظام کے قیام کے لیے کام کرتا ہے جو ظلم و استحصال سے پاک ہو۔
امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا حکم ایک ایسی نفسیاتی اور سماجی مزاحمت پیدا کرتا ہے جو ظلم و ناانصافی کے خلاف جدوجہد کو ناگزیر بنا دیتی ہے۔ جب ایک قوم ان احکام پر عمل پیرا ہوتی ہے تو اس میں فکری بیداری اور اجتماعی شعور پیدا ہوتا ہے، جو کسی بھی استعماری یا طاغوتی قوت کی ذہنی و عملی غلامی قبول کرنے سے انکار کر دیتا ہے۔ اسی طرح جہاد، جو ہر قسم کی باطل قوتوں کے خلاف کھڑے ہونے کا درس دیتا ہے، افراد کے اندر خوف کو ختم کر کے انہیں ایک عادلانہ نظام کے قیام کے لیے متحرک اور بے باک بناتا ہے۔
تولّی اور تبرّی کی تعلیمات ایک ایسی نظریاتی بصیرت عطا کرتی ہیں جو فرد کو دوست اور دشمن کی پہچان عطا کرتی ہے۔ جب کوئی شخص اور معاشرہ حق کے حامیوں سے محبت اور باطل کے پیروکاروں سے بیزاری کو ایمان کا حصہ سمجھتا ہے تو اس میں استعماری قوتوں کی چالوں کو سمجھنے اور ان کا توڑ کرنے کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے۔
یہ تمام احکام ایک فرد اور سماج کی نفسیات کو اس انداز میں تیار کرتے ہیں کہ وہ دشمن کی ہر فکری اور عملی یلغار کا سامنا کرنے کے قابل ہو جاتا ہے۔ ساتھ ہی، وہ اپنے اندر ایک ایسا انقلابی شعور پیدا کرتا ہے جو اسلامی تعلیمات کی روشنی میں ایک عادلانہ نظام کے قیام کی جدوجہد کو ضروری سمجھتا ہے۔ یہی وہ بنیاد ہے جو اسلامی معاشروں کو ظلم، ناانصافی اور استبداد سے نجات دلا کر عدل و انصاف پر مبنی عالمی حکومت کی راہ ہموار کرتی ہے، جو امام مہدی (عج) کے عادلانہ نظام کی تیاری کا عملی مرحلہ بھی ہے۔
اگر ان عبادات کو محض رسمی اور روایتی اعمال کی حیثیت سے انجام دیا جائے تو یہ اپنی روحانی تاثیر کھو دیتی ہیں۔ امام حسینؑ نے فرمایا: “إِنَّمَا خَرَجْتُ لِطَلَبِ الْإِصْلَاحِ فِي أُمَّةِ جَدِّي، أُرِيدُ أَنْ آمُرَ بِالْمَعْرُوفِ وَأَنْهَى عَنِ الْمُنْكَرِ” یعنی میرا قیام صرف اس لیے ہے کہ میں امتِ محمدیہ میں اصلاح کروں، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر انجام دوں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دین میں عملی جدوجہد کا عنصر کتنا اہم ہے اور کس طرح اسلامی احکام کا اصل مقصد سماجی اصلاح اور اللہ کی رضا ہے، نہ کہ محض اعمال کا ظاہری پہلو۔
عقل بھی اس حقیقت کی گواہی دیتی ہے کہ وسیلہ کو مقصد بنا لینا ایک فکری مغالطہ ہے۔ اگر کوئی شخص طبی تعلیم حاصل کرے لیکن اس کا مقصد محض ڈگری کا حصول ہو، نہ کہ خدمتِ خلق، تو اس کا علم بیکار ہو جائے گا۔ اسی طرح، اگر کوئی عبادات کو محض ایک رسم کے طور پر انجام دے اور اس کے اثرات اس کی شخصیت میں ظاہر نہ ہوں، تو وہ اپنے مقصد سے محروم رہ جائے گا۔ امام زین العابدینؑ کی دعا میں ملتا ہے: “اللهم لا تجعل مصيبتي في ديني” یعنی اے اللہ! میرے دین میں مجھے مصیبت میں مبتلا نہ کرنا۔ اس دعا میں دین کے اصل مقصد کو کھونے کو سب سے بڑی مصیبت قرار دیا گیا ہے۔
لہٰذا یہ حقیقت سمجھنا ضروری ہے کہ فروع دین اور اسلامی شعائر وہ ذرائع ہیں جو ہمیں اللہ کی رضا اور آخرت کی کامیابی تک لے جانے کے لیے مقرر کیے گئے ہیں۔ اگر ان وسیلوں کو ہی مقصد بنا لیا جائے تو انسان دین کے اصل روحانی اور فکری پہلو کو نظر انداز کر بیٹھتا ہے۔ جو بھی وسیلے کو مقصد بنا لیتا ہے، وہ اپنے فکری اور عملی راستے میں بھٹک جاتا ہے اور حقیقی کامیابی سے محروم ہو جاتا ہے۔ وسیلے کو وسیلہ ہی رہنے دیں اور اصل مقصد یعنی قربِ الٰہی اور نظامِ عدل کے قیام کے لیے اپنی توانائیاں صرف کریں۔
اسلام میں عبادات اور دینی احکام کو وسیلہ قرار دیا گیا ہے، نہ کہ مقصد۔ انسان کی حقیقی منزل اللہ کا قرب اور اس کی رضا ہے، اور یہ تمام اعمال اس تک پہنچنے کے ذرائع ہیں۔ اگر یہ ذرائع ہی مقصد بن جائیں تو انسان اپنے اصل ہدف سے بھٹک جاتا ہے۔ قرآن مجید میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ اللہ سے ڈرو اور اس تک پہنچنے کے لیے وسیلہ تلاش کرو۔ اس کا مطلب ہے کہ وسیلہ محض ایک ذریعہ ہے، نہ کہ منزل۔
ہماری موجودہ صورتِ حال یہ ہے کہ ہم شعائر میں ہی مصروف رہتے ہیں، یا پھر عبادات کو ہی اپنا ہدف بنا لیتے ہیں۔ زیادہ سے زیادہ تقویٰ کے حصول کی کوشش کرتے ہیں، مگر یہ جامعیت نہیں رکھتے جو ظہور امامؑ کے لیے ضروری ہے۔ عالمی نظام عدل کے قیام کے لیے عملی کوشش ہونی چاہیے اور اس حکومت کو بھی رضائے الٰہی کے حصول کا ایک ذریعہ سمجھنا چاہیے۔ ہم چھوٹے چھوٹے مقاصد بنا کر وسیلوں کو ہی ہدف سمجھ لیتے ہیں اور مطمئن ہو جاتے ہیں۔ یہ سوچ بدلنی ہوگی تاکہ دین کے اصل مقصد، یعنی اللہ کی رضا اور عالمی نظامِ عدل کے قیام کی طرف سفر کیا جا سکے۔
اگر ہم دین کو اس کے اصل ہدف یعنی قربِ الٰہی اور نظامِ عدل کے قیام سے ہٹا دیں اور محض وسیلوں کو ہی ہدف بنا لیں، تو اس کے کئی سنگین نقصانات ہوں گے۔ سب سے پہلے، دین کی روحانی گہرائی ختم ہو جائے گی، اور عبادات محض رسمی اور روایتی اعمال کی صورت اختیار کر لیں گی، جن میں اخلاص اور اثر پذیری کی کمی ہوگی۔ یہ صورتحال انسان کو ایسی عبادات میں مشغول کر دے گی جو اس کی زندگی اور کردار میں حقیقی تبدیلی نہیں لاتیں، بلکہ صرف ایک مذہبی رسم کی حیثیت اختیار کر لیتی ہیں۔
اس رویے کا ایک اور نقصان یہ ہوگا کہ لوگ دین کے عملی اور سماجی پہلو سے غافل ہو جائیں گے، جس کے نتیجے میں معاشرتی عدل، اخلاقی اصلاح، اور حقیقی اسلامی طرزِ حیات پسِ پشت چلا جائے گا۔ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر جیسے فرائض نظر انداز ہو جائیں گے، اور امت محض ظاہری عبادات میں سکون تلاش کرے گی، جبکہ ظلم، ناانصافی، اور برائیوں کے خلاف جدوجہد ترک کر دی جائے گی۔ جب دین کا اصل ہدف بھلا دیا جائے تو امت جمود کا شکار ہو جاتی ہے اور عملی جدوجہد سے کترانے لگتی ہے، جس کے نتیجے میں ظلم کو ختم کرنے کے بجائے اس کے ساتھ سمجھوتہ کر لیا جاتا ہے۔
ایسی سوچ کا ایک اور نقصان یہ ہے کہ افراد اور معاشرے میں ایک قسم کی خود ساختہ دینداری پروان چڑھتی ہے، جس میں انسان عبادات کی ظاہری ادائیگی کو ہی اپنی نجات کے لیے کافی سمجھنے لگتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ معاشرتی ذمہ داریوں، حقوق العباد، اور عدل و انصاف کے قیام جیسے بنیادی دینی اصول پسِ پشت چلے جاتے ہیں۔ اس رویے کے تحت لوگ اپنے کردار کی اصلاح سے زیادہ عبادات کی کثرت پر توجہ دینے لگتے ہیں، حالانکہ قرآن اور احادیث بارہا یہ واضح کرتے ہیں کہ اصل کامیابی اللہ کی رضا کے مطابق زندگی گزارنے میں ہے، نہ کہ محض رسمی عبادات کے انبار لگانے میں۔
جب وسیلوں کو ہی مقصد بنا لیا جائے تو امت میں فرقہ واریت، تعصبات اور غیر ضروری اختلافات جنم لیتے ہیں، کیونکہ لوگ دین کے حقیقی پیغام پر غور کرنے کے بجائے ظاہری اعمال اور عبادات کے طریقوں پر الجھ جاتے ہیں۔ نتیجتاً، دین ایک عملی نظام کے بجائے محض رسومات اور عقائد کی بحثوں میں محدود ہو جاتا ہے، اور مسلمان آپس میں الجھ کر اپنی اجتماعی قوت کھو بیٹھتے ہیں۔
اس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ امام زمانہ عج کے ظہور کے لیے جو فکری، روحانی، اور سماجی تیاری درکار ہے، وہ متاثر ہوتی ہے۔ اگر امت ظہورِ امامؑ کے عالمی مشن کو سمجھنے کے بجائے صرف ظاہری عبادات میں مصروف رہے گی، تو وہ اس عظیم الہی انقلاب کے لیے مطلوبہ عملی اقدامات نہیں کر سکے گی۔ نتیجتاً، مسلمانوں کی اجتماعی کوششیں بکھر جائیں گی اور وہ اپنے حقیقی ہدف، یعنی عدل و انصاف کے قیام سے غافل ہو جائیں گے۔
لہٰذا ضروری ہے کہ دین کو اس کے اصل مقصد، یعنی قربِ الٰہی، نظامِ عدل کے قیام، اور انسان کی فکری و عملی اصلاح کی طرف واپس لایا جائے۔ وسیلوں کو ان کے اصل مقام پر رکھا جائے اور انہیں منزل سمجھنے کی غلطی سے بچا جائے، تاکہ دین کی حقیقی روح برقرار رہے اور امت ایک جامع اسلامی طرزِ حیات کی طرف سفر کر سکے۔
تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ جب بھی وسیلوں کو ہدف بنا لیا گیا اور دین کے اصل مقصد کو پسِ پشت ڈال دیا گیا، امتِ مسلمہ کو ناقابلِ تلافی نقصانات اٹھانے پڑے۔ ایک واضح مثال جنگِ صفین کی ہے، جہاں لشکرِ امام علیؑ حق پر تھا، مگر جب دشمن نے قرآن کے اوراق نیزوں پر بلند کیے تو بعض کمزور فہم افراد نے وسیلے کو اصل ہدف سمجھ لیا۔ وہ اس حقیقت کو نہ سمجھ سکے کہ اصل ہدف قرآن کی تعلیمات اور اس کا عدل و انصاف پر مبنی نظام ہے، نہ کہ محض کاغذ کے صفحات۔ نتیجتاً، وہ فریب میں مبتلا ہو گئے، امام علیؑ کی حکمت کو چھوڑ کر جنگ روک دی، اور پھر تحکیم کے فریب میں آ کر نہ صرف اپنی ہی حکومت کو نقصان پہنچایا بلکہ امت کی اجتماعی قوت کو بھی پارہ پارہ کر دیا۔
ایک اور تاریخی مثال واقعہ کربلا ہے، جہاں یزیدی حکومت نے دین کو وسیلوں تک محدود کر دیا اور اسلام کے اصل مقصد، یعنی عدل، حق پرستی، اور انسانی وقار کے تحفظ کو ختم کر دیا۔ یزید کا دربار عبادات، اذان، اور ظاہری دینی علامات سے بھرا ہوا تھا، مگر اس کا نظام ظلم، جبر اور فسق و فجور پر مبنی تھا۔ امت کی ایک بڑی تعداد نے دین کو ظاہری رسوم میں قید کر کے حقیقی اسلامی جدوجہد سے کنارہ کشی اختیار کر لی، اور اسی رویے نے امام حسینؑ جیسے عظیم رہنما کو شہادت پر مجبور کر دیا۔ اگر لوگ سمجھتے کہ دین کا اصل مقصد حق کے قیام اور ظلم کا خاتمہ ہے، تو وہ یزیدی حکومت کے خلاف قیام میں امام حسینؑ کا ساتھ دیتے، مگر وسیلوں کو ہدف بنانے کی غلطی نے انہیں خاموش کر دیا۔
بعد کے ادوار میں بھی یہی غلطی جاری رہی۔ عباسی خلفاء، خاص طور پر ہارون الرشید اور مامون، بظاہر دینی شخصیات کو اپنے دربار میں رکھتے تھے اور اسلامی علوم و فنون کی سرپرستی کا ڈھونگ رچاتے تھے، مگر ان کا طرزِ حکومت ظلم و استبداد پر مبنی تھا۔ لوگوں کی توجہ اصل ہدف، یعنی عادلانہ نظامِ حکومت، سے ہٹا دی گئی اور دینی علوم کی سرپرستی اور مساجد کی تعمیر کو ہی کامیابی سمجھ لیا گیا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ علمی ترقی کے باوجود امت عملی طور پر زوال کا شکار رہی، کیونکہ دین کے سماجی اور عدالتی پہلو کو پسِ پشت ڈال دیا گیا تھا۔
اسی طرح برصغیر میں مسلمانوں کے زوال کا ایک بڑا سبب بھی یہی تھا کہ وہ دین کو صرف عبادات اور ظاہری رسوم میں محدود کر بیٹھے۔ ایک طرف انگریز سامراج پورے خطے پر قابض ہو رہا تھا، دوسری طرف علماء کی ایک بڑی تعداد مدارس، خانقاہوں، اور ذکر و اذکار کی محافل میں مصروف تھی۔ دین کا اصل ہدف، یعنی ظلم کے خلاف قیام اور مسلمانوں کے حقوق کا تحفظ، پسِ پشت چلا گیا۔ کچھ علماء اور رہنماؤں نے مزاحمت کی، مگر اکثریت نے عملی میدان کو ترک کر دیا، اور نتیجتاً مسلمان غلامی کی زنجیروں میں جکڑے گئے۔
اسی غیر منطقی رویے کی ایک اور مثال خلافتِ عثمانیہ کا زوال ہے۔ یہ خلافت بظاہر دین کا علمبردار تھی، مگر اصل میں اس کا نظام ملوکیت، ناانصافی، اور داخلی کمزوریوں کا شکار تھا۔ جب امت کو قیادت کی ضرورت تھی، تب خلافت محض ظاہری مذہبی علامات پر اکتفا کر رہی تھی، اور اسی وجہ سے یورپی استعمار نے آسانی سے اسے شکست دے دی۔ اگر خلافت نے اسلام کے اصل اصولوں پر عمل کرتے ہوئے عدل و مساوات کا نظام قائم کیا ہوتا، تو شاید یہ زوال اتنی تیزی سے نہ آتا۔
یہ تمام مثالیں یہی بتاتی ہیں کہ جب وسیلے کو اصل ہدف بنا لیا جائے اور دین کے بنیادی مقاصد یعنی عدل، اصلاح، اور قربِ الٰہی کو نظر انداز کر دیا جائے، تو امت کمزور، منتشر، اور زوال پذیر ہو جاتی ہے۔ یہی غلطی بار بار دہرائی گئی ہے، اور جب تک امت اپنی فکری غلطیوں کو درست نہیں کرتی، یہ نقصانات جاری رہیں گے۔
عبادات کو مقصدِ حیات سمجھنے کی سوچ بظاہر نیکی اور قربِ الہی کا ذریعہ معلوم ہوتی ہے، مگر جب یہ سوچ عملی زندگی میں متوازن نہ رہے تو کئی نقصانات پیدا ہو سکتے ہیں۔ جدید دور میں، جہاں زندگی کے مختلف پہلوؤں میں توازن ضروری ہے، وہاں اگر عبادات کو مقصدِ حیات بنا کر دیگر ذمہ داریوں سے غفلت برتی جائے تو فرد اور معاشرہ دونوں متاثر ہو سکتے ہیں۔
اس طرزِ فکر کا ایک بڑا نقصان یہ ہے کہ انسان دنیاوی فرائض کو کمتر سمجھنے لگتا ہے اور اپنے معاشرتی، معاشی اور علمی فرائض سے کٹنے لگتا ہے۔ حالانکہ اسلام میں عبادات کا تصورظاہری طور پر اعمال انجام دے لینے تک محدود نہیں، بلکہ زندگی کے ہر پہلو میں توازن کا متقاضی ہے۔ اگر عبادات کو مقصد بنا لیا جائے اور دین کے دیگر شعبے نظر انداز ہو جائیں تو نتیجتاً فرد اپنی عملی زندگی میں کامیابی کے اصولوں سے دور ہو جاتا ہے، جو کہ اسلامی تعلیمات سے ہم آہنگ نہیں۔
اس سوچ کی اصلاح کے لیے سب سے پہلے عبادات کے حقیقی مفہوم کو سمجھنا ضروری ہے۔ عبادت محض چند مخصوص اعمال کا نام نہیں بلکہ زندگی کے تمام پہلوؤں میں اللہ کی رضا کو پیشِ نظر رکھنا ہی اصل بندگی ہے۔ جب کوئی شخص عبادات کو زندگی کی راہنمائی کا ذریعہ بناتا ہے، بجائے اس کے کہ انہیں مقصدِ حیات سمجھے، تو وہ دین اور دنیا کے درمیان ایک متوازن راستہ اختیار کرتا ہے۔ عبادات کا اثر زندگی میں عملاً نظر آنا چاہیے، جس کے لیے ضروری ہے کہ انسان اپنی ذمہ داریوں کو بھی اسی جذبے کے ساتھ ادا کرے جیسے نماز، روزہ یا دیگر عبادات کو ادا کرتا ہے۔
معاشرتی اصلاح کے لیے ضروری ہے کہ تعلیم و تربیت میں عبادات کے مقصود کو عملی زندگی سے جوڑا جائے۔ جب عبادت کی حقیقت کو اس کی اصل روح کے ساتھ سمجھا جائے گا تو فرد عبادت کو ایک ذریعہ سمجھ کر اپنی تمام تر توانائیوں کو خیر اور اصلاح کی راہ میں استعمال کرے گا، نہ کہ وہ ایک الگ دنیا بسائے جس میں باقی معاملاتِ زندگی بے معنی محسوس ہوں۔ عبادت کا مقصد اللہ کے قریب ہونا ہے، اور اللہ کے قریب وہی ہوتا ہے جو بندوں کے حقوق ادا کرے، علم حاصل کرے، سماج میں بہتری کے لیے کوشاں رہے اور دین کی روح کو عملی طور پر اپنائے۔
لہٰذا، عبادات کو مقصد بنانے کے بجائے ان کو ایک ذریعے کے طور پر اختیار کرنا ہی درست حکمتِ عملی ہے، جو انسان کو متوازن اور مکمل شخصیت بننے میں مدد دیتی ہے۔ اس سے فرد کی ذاتی زندگی، معاشرتی کردار اور دین سے تعلق سب مضبوط ہوتے ہیں اور عبادات حقیقی معنوں میں انسان کو اللہ کے قریب لے جاتی ہیں، نہ کہ اسے عملی دنیا سے کاٹ کر محض رسمی اعمال تک محدود کر دیتی ہیں۔
