کتاب اور میزان کا مفہوم
تفسیر: المیزان
مترجم: تصور حسین
صراط ٹائمز: اللہ وہ ذات ہے جس نے کتاب کو حق کے ساتھ نازل کیا اور میزان کو بھی۔ کتاب سے مراد وہ وحی ہے جو شریعت اوردین پر مشتمل ہو، ایسا دین جو انسانی معاشرے میں نافذ ہو۔ جیسا کہ آیت “كانَ النّاسُ أُمَّةً واحِدَةً…” کی تفسیر میں ذکر کیا گیا کہ قرآن میں کتاب سے مراد شریعت اور دین ہے۔ اور “انزال بالحق” کا مطلب یہ ہے کہ یہ کتاب سراسر حق پر مبنی ہے، اور اس میں شیطانی اور نفسانی اختلافات کی آمیزش نہیں ہے۔میزان کا مطلب ہر وہ معیار یا پیمانہ ہے جس کے ذریعے اشیاء کو تولا یا پرکھا جاتا ہے۔ آیت کے آخری حصے اور اس کے بعد والی آیات کے تناظر میں یہاں میزان سے مراد وہی دین ہے جو کتاب میں موجود ہے۔ دین کو میزان کہنے کی وجہ یہ ہے کہ اسی کے ذریعے عقائد اور اعمال کو جانچا جاتا ہے، اور قیامت کے دن اسی کے مطابق حساب اور جزا دی جائے گی۔ لہٰذا میزان دین کے اصول و فروع پر مشتمل ہے۔ اس بات کی تائید اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد سے بھی ہوتی ہے: “لَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَيِّنَاتِ وَأَنْزَلْنَا مَعَهُمُ الْكِتَابَ وَالْمِيزَانَ”، کیونکہ یہاں “معهم” (ان کے ساتھ) کا ظاہر مطلب یہی ہے کہ میزان سے مراد دین ہے۔بعض مفسرین نے میزان کا مطلب “عدل” لیا ہے، کیونکہ میزان انصاف اور مساوات کے قیام کا ذریعہ ہے، اور عدل بھی ایسا ہی ہے۔ ان کی دلیل یہ ہے کہ آیت “وَأُمِرْتُ لِأَعْدِلَ بَيْنَكُمْ” میں عدل کا ذکر ہوا ہے، جو اس بات کی تائید کرتا ہے کہ میزان سے مراد عدل ہے۔لیکن یہ تفسیر درست نہیں ہے، کیونکہ آیت میں ایسا کوئی قرینہ موجود نہیں جو میزان کو عدل کے معنی میں لینے پر دلالت کرے۔ مزید برآں، آیت “لِأَعْدِلَ” میں عدل سے مراد یہ ہے کہ رسول اللہ (ص) تبلیغ رسالت اور احکامِ الٰہی کے نفاذ میں سب کے ساتھ یکساں برتاؤ کریں، یعنی طبقاتی تفریق کے بغیر مساوات قائم کریں، نہ کہ عدل بمعنی عدالتِ قاضی و حاکم۔
دیگر تفسیری آراء
بعض مفسرین کے نزدیک میزان سے مراد عام ترازو ہے جس سے چیزوں کا وزن کیا جاتا ہے، لیکن یہ تفسیر ناقابل قبول ہے۔ کچھ دیگر مفسرین نے میزان کو رسول اللہ (ص) قرار دیا ہے۔ اس قول کو اس طرح قابل قبول بنایا جا سکتا ہے کہ میزان دین کے اصول و فروع پر مشتمل ہے اور رسول اللہ (ص) اس کے کامل ترین مظہر ہیں۔ چونکہ امت کے ہر فرد کے دین کو انہی کی اتباع کے معیار پر پرکھا جائے گا، لہٰذا جو شخص نبی (ص) کے قریب تر ہوگا وہ زیادہ دیندار ہوگا، اور جو دور ہوگا اس کا دین کمزور ہوگا۔ تاہم، یہ تفسیر سورہ حدید کی آیت 25 کے ساتھ مکمل طور پر مطابقت نہیں رکھتی۔
قیامت کی نزدیکی کا انتباہ
چونکہ میزان کا ذکر حساب و جزا کی طرف اشارہ کرتا ہے، اس لیے آیت میں آگے چل کر لوگوں کو ان کے مستقبل کے بارے میں خبردار کیا گیا ہے۔ “وَمَا يُدْرِيكَ لَعَلَّ السَّاعَةَ قَرِيبٌ” یعنی اے نبی (ص)، تمہیں کیا معلوم، شاید قیامت کا آنا قریب ہی ہو؟ یہاں “یُدرِیکَ” کا مطلب آگاہ کرنا ہے، اور “السَّاعَة” کا مطلب قیامت کا وقوع ہے، اسی لیے “قریب” مذکر آیا ہے۔ اس خطاب کا ظاہری مخاطب رسول اللہ (ص) ہیں، مگر حقیقت میں تمام انسانوں کو تنبیہ کی گئی ہے۔
کافروں کی قیامت کے بارے میں استہزاء
“يَسْتَعْجِلُ بِهَا الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِهَا…” یعنی جو لوگ قیامت پر ایمان نہیں رکھتے وہ اس کے جلد آنے کا مطالبہ کرتے ہیں، لیکن یہ مطالبہ حقیقت میں نہیں بلکہ مذاق اور استہزاء کے طور پر ہوتا ہے، جیسا کہ قرآن میں دیگر مقامات پر ان کا یہ قول نقل ہوا: “مَتَى هَذَا الْوَعْدُ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ”۔“وَالَّذِينَ آمَنُوا مُشْفِقُونَ مِنْهَا” یعنی اہل ایمان قیامت سے ڈرتے ہیں۔ “اشفاق” ایسا خوف ہے جو محبت کے ساتھ جُڑا ہوتا ہے، جیسے کوئی اپنے محبوب کے لیے کسی نقصان یا بلا کے آنے سے ڈرے۔ قرآن میں جہاں “اشفاق” کے بعد “من” کا استعمال ہوا، وہاں خوف کا پہلو نمایاں ہوتا ہے، اور جہاں “فی” آیا وہاں محبت کا پہلو زیادہ نمایاں ہوتا ہے، جیسے “إِنَّا كُنَّا قَبْلُ فِي أَهْلِنَا مُشْفِقِينَ”۔
قیامت کا انکار کرنے والے گمراہی میں ہیں
“أَلَا إِنَّ الَّذِينَ يُمَارُونَ فِي السَّاعَةِ لَفِي ضَلَالٍ بَعِيدٍ” یعنی جو لوگ قیامت کے بارے میں جھگڑتے ہیں وہ گہری گمراہی میں ہیں۔ “یمارون” کا مطلب ہے شدت کے ساتھ جھگڑنا، اور یہاں اس سے مراد مشرکین کی طرف سے قیامت کا مسلسل انکار ہے۔ انہیں گمراہی میں “دور” ہونے کی صفت اس لیے دی گئی کہ انہوں نے زندگی کی حقیقت کو نظر انداز کر دیا اور اسے فنا ہونے والا سمجھ لیا، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ انسانی زندگی دائمی ہے اور آخرت میں جاری رہے گی۔ لیکن کفار نے اس حقیقت کو جھٹلا کر دنیاوی خواہشات میں ڈوبنا پسند کیا اور ہلاکت کے راستے پر چل پڑے۔
اللہ کی لطافت و قدرت
“اللَّهُ لَطِيفٌ بِعِبَادِهِ يَرْزُقُ مَنْ يَشَاءُ وَهُوَ الْقَوِيُّ الْعَزِيزُ” یعنی اللہ اپنے بندوں پر نہایت مہربان ہے، جسے چاہے رزق دیتا ہے، اور وہ زبردست قوت و عزت والا ہے۔”لطف” میں نرمی اور آسانی کا پہلو پایا جاتا ہے، اور کسی چیز کا لطیف ہونا اس کی باریکی و نزاکت کو ظاہر کرتا ہے۔ جیسے ہوا لطیف ہے کیونکہ یہ تمام اشیاء میں آسانی سے سرایت کر جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی لطافت کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے بندوں کی حالت سے پوری طرح باخبر ہے اور انہیں رزق دینے میں ان کی ضروریات و حالات کو مدنظر رکھتا ہے۔ وہ طاقتور بھی ہے اور زبردست غلبہ رکھنے والا بھی، اس لیے کوئی بھی اس کے فیصلے کو ٹال نہیں سکتا۔
