امام محمد تقی علیہ السلام کی شہادت پر آیت اللہ العظمیٰ شبیری زنجانی کا بیان: “علم و تقویٰ کا درخشاں
صراط ٹائمز، رپورٹ: امام محمد تقی علیہ السلام (امام جواد علیہ السلام) کی شہادت کی مناسبت سے آیت اللہ العظمیٰ شبیری زنجانی نے اپنے تحریری بیان میں اس عظیم ہستی کی علمی اور عملی سیرت کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ امام جوادؑ نہ صرف علم و حکمت کے خزانے کے وارث تھے بلکہ زہد، تقویٰ اور معنویت میں بھی ایک بے مثال نمونہ تھے۔ آیت اللہ شبیری زنجانی نے اپنے بیان میں ایک تاریخی واقعے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: “محمد بن ریان روایت کرتے ہیں کہ خلیفہ مأمون نے امام جواد علیہ السلام کو دنیا پرست اور لہو و لعب میں مشغول ظاہر کرنے کی بھرپور کوشش کی، لیکن ہر سازش میں ناکامی اس کا مقدر بنی۔ مأمون نے حتیٰ امامؑ کی شادی کی شب بھی ایک منصوبہ ترتیب دیا۔ دو سو حسین و جمیل کنیزیں، جن کے ہاتھوں میں قیمتی جواہرات سے بھرے جام تھے، اس غرض سے سامنے لائی گئیں کہ جیسے ہی امام جلوہ افروز ہوں، وہ دل لبھانے والی اداؤں سے استقبال کریں، لیکن امامؑ نے ان کی طرف نگاہ تک نہ کی۔” انہوں نے مزید بیان کیا: “اسی مجلس میں مأمون نے ‘مُخارق’ نامی ایک سازندے کو بلایا جو موسیقی میں مہارت رکھتا تھا۔ اس کا مقصد امام جواد علیہ السلام کو لہو و لعب میں مشغول کرنا تھا۔ مخارق نے محفل میں بیٹھ کر بلند آواز میں گانا شروع کیا اور عود بجانے لگا۔ لیکن امام علیہ السلام نے کسی قسم کی توجہ نہ دی۔ کچھ دیر بعد امامؑ نے سر اٹھایا اور بس اتنا فرمایا: «اتَّقِ اللَّهَ یَا ذَا الْعُثْنُونِ» (اے لمبی داڑھی والے! خدا سے ڈر۔) بس امامؑ کے یہ الفاظ تھے کہ مخارق پر لرزہ طاری ہوگیا۔ اس کے ہاتھ سے ساز گر گیا اور وہ ایسی حالت کو پہنچا کہ دوبارہ اس ہاتھ سے کچھ نہ بجا سکا۔” جب مأمون نے مخارق سے اس کی کیفیت پوچھی تو اس نے کہا: “جس لمحے امام جواد علیہ السلام نے مجھ پر جلال سے فریاد کی، ایسی وحشت میں مبتلا ہوا کہ آج تک نہیں سنبھل سکا۔” (بحوالہ: الکافی، ج۱، ص۴۹۴، ح۴) آیت اللہ العظمیٰ شبیری زنجانی نے اپنے بیان کے اختتام پر فرمایا: “امام محمد تقی علیہ السلام کی حیاتِ مبارکہ نوجوان نسل کے لیے ایک کامل رہنمائی ہے کہ کس طرح کم عمری میں بھی انسان علم، تقویٰ اور کردار کے اعلیٰ مرتبے تک پہنچ سکتا ہے۔”
