29

جھوٹ کی زنجیر: ایک سیاسی منصوبے کے پوشیدہ ستون

  • نیوز کوڈ : 2838
  • 21 April 2026 - 2:06
جھوٹ کی زنجیر: ایک سیاسی منصوبے کے پوشیدہ ستون

جھوٹ کی زنجیر: ایک سیاسی منصوبے کے پوشیدہ ستون

جھوٹ کی زنجیر: ایک سیاسی منصوبے کے پوشیدہ ستون

ڈاکٹر محمد علی رنجبر

ہر سیاسی نظام اپنی بقا کے لیے کسی نہ کسی بیانیے کا محتاج ہوتا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ کچھ بیانیے حقیقت کے ستونوں پر کھڑے ہوتے ہیں، جبکہ کچھ ایسے بھی ہیں جو من گھڑت دعوؤں کی باہم جڑی ہوئی اینٹوں سے تعمیر کیے جاتے ہیں—اور وقت گزرنے کے ساتھ یہی جھوٹ ایک ایسی ’’مصنوعی حقیقت‘‘ کا روپ دھار لیتے ہیں جسے چیلنج کرنا خود ایک جرم سمجھا جانے لگتا ہے۔ 

سیاسی صہیونیت کا منصوبہ اسی دوسری قسم کی ایک کلاسیکی مثال ہے: ایک ایسا منصوبہ جو تاریخ، قانون اور انسانی تجربے سے زیادہ تسلسل کے ساتھ گھڑی گئی دروغ گوئی پر قائم ہے۔

۱۔ پہلی کڑی: مذہب کو قوم میں تبدیل کرنے کا فریباس زنجیر

اس زنجیر کی پہلی کڑی ایک ’’دین‘‘ کو ’’قوم‘‘ میں تبدیل کرنا ہے۔ 

یہودیت، اسلام اور مسیحیت کی طرح، ایک مذہبی شناخت ہے جو مختلف نسلی اور جغرافیائی پس منظر میں پروان چڑھی ہے۔ 

لیکن صہیونی بیانیہ میں اس تنوع کو نظرانداز کرتے ہوئے یہود کو ایک ’’واحد قوم‘‘ کے طور پر پیش کیا گیا، تاکہ سرزمین پر حاکمیت کے دعوے کی بنیاد رکھی جا سکے۔  یہ مفہومی جابجائی اس پورے منصوبے کی بنیادی ترین تحریف اور جعل سازی ہے۔

۲۔ دوسری کڑی: ’’ارضِ موعود‘‘ کا سیاسی استعمال

اس کے بعد اس ’’تشکیل شدہ قوم‘‘ کو ایک مخصوص سرزمین سے جوڑنے کا دعویٰ سامنے آتا ہے۔  مذہبی متون کی دل خواہ تعبیرات کو جدید سیاسی مقاصد کے ساتھ اس طرح ملایا گیا کہ گویا دوسروں کی زمین پر قبضہ کوئی الٰہی حق ہو۔حالانکہ ایسا دعویٰ نہ بین الاقوامی قانون کے مطابق قابلِ دفاع ہے اور نہ ہی تاریخی حقائق سے ہم آہنگ۔

۳۔ تیسری کڑی: انسانی المیے کا سیاسی ہتھیار بن جانا

تیسری کڑی ایک انسانی المیے کے سیاسی استعمال سے متعلق ہے۔ ہولوکاسٹ ایک  تاریخی واقعہ ہے، مگر اسے ایک اخلاقی ڈھال میں تبدیل کر دیا گیا اور ہر قسم کی تنقید کو روکا گیا۔  یوں ہر تنقید کو ایک انسانی المیہ کے ’’انکار‘‘ کے مترادف بنا کر فکری مکالمے کے دروازے بند کر دیے گئے۔  سوال اٹھانا جرم، اختلاف رائے تعصب، اور تحقیق نفرت کے مترادف ٹھہری۔

۴۔ چوتھی کڑی: قبولیت کی دروغ گوئیاں

اس کے بعد ’’قبولیت کی دروغ گوئیاں‘‘ سامنے آئیں یعنی:

– عالمی قبولیت 

– عربوں کی جانب سے قبولیت 

– فلسطینیوں کی رضامندی 

– حتیٰ کہ عالمِ اسلام کی تائید 

ان دعوؤں کا مقصد یہ تاثر دینا تھا کہ مسئلہ ختم ہو چکا ہے اور ہر قسم کی مزاحمت محض حاشیہ اور بے بنیاد ہے۔  حالانکہ زمینی اور سماجی حقیقتیں ہمیشہ اس سادہ تصویر سے کہیں زیادہ پیچیدہ اور متضاد رہی ہیں۔

۵۔ منظم بیانیہ: جہاں ہر جھوٹ دوسرے کو سہارا دیتا ہے

اہم بات یہ ہے کہ یہ دروغ الگ الگ کام نہیں کرتے؛ بلکہ ایک بیانیاتی نظام تشکیل دیتے ہیں جس کا ہر جز دوسرے کو مضبوط کرتا ہے۔ اگر ’’قوم‘‘ ہونے کا تصور مان لیا جائے تو ’’حقِ سرزمین‘‘ خودبخود معنی پیدا کرتا ہے۔  اگر یہ حق تسلیم کر لیا جائے تو ’’عالمی قبولیت‘‘ کا دعویٰ آسان ہو جاتا ہے۔  اور جب یہ قبولیت راسخ ہو جائے تو ہر مزاحمت ’’غیر منطقی‘‘ دکھائی دینے لگتی ہے۔

یہی وہ مقام ہے جہاں جھوٹ ایک خودکار حقیقت بن جاتا ہے۔

۶۔ اصل ضرورت: بیانیے کی جڑ پر ضرب

اسی لیے اس منصوبے کا مقابلہ صرف سیاسی یا عسکری سطح پر کافی نہیں بلکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ بیانیاتی زنجیر کی ہر کڑی کو فکری سطح پر توڑا جائے۔ 

جب تک یہ مفروضے بدیہی سچائیوں کے طور پر قبول کیے جاتے رہیں گے، ہر تجزیہ—چاہے وہ کتنا ہی غیر جانب دار کیوں نہ ہو—اسی غالب بیانیے کے دائرے میں قید رہے گا۔

۷۔ حقیقت کی طرف واپسی

بالآخر مسئلہ حقیقت کی جانب لوٹنےکا ہے— وہ حقیقت جو تاریخ، قانون اور انسانی تجربے کی روشنی میں سامنے آتی ہے، نہ کہ پروپیگنڈا کی دھند میں۔ جھوٹ کی اس زنجیر کو توڑنا صرف ایک سیاسی ضرورت نہیں،  بلکہ ایک فکری ذمہ داری ہے—  حقیقت اور بیانیے کے درمیان حد کو دوبارہ واضح کرنے کی ذمہ داری۔

مختصر لنک: https://www.siraat-times.com/?p=2838

ٹیگز

تبصرے