61
اکتوبر 2025 مںں ایرانی اییمن پروگرام پر امرییل و صہوانی حملہ کوئں اور کسےم ہوگا، دوران جنگ فرینمش کی اسٹریٹجی اور جنگ کے بعد ایران اور خطے کا کات مستقبل ہوگا ؟

اکتوبر 2025 میں ایرانی ایٹمی پروگرام پر امریکی و صیہونی حملہ کیوں اور کیسے ہوگا، دوران جنگ فریقین کی اسٹریٹجی اور جنگ کے بعد ایران اور خطے کا کیا مستقبل ہوگا ؟

  • نیوز کوڈ : 1243
  • 16 March 2025 - 3:45
اکتوبر 2025 میں ایرانی ایٹمی پروگرام پر امریکی و صیہونی حملہ کیوں اور کیسے ہوگا، دوران جنگ فریقین کی اسٹریٹجی اور جنگ کے بعد ایران اور خطے کا کیا مستقبل ہوگا ؟
رواں برس 2025 میں 18 اکتوبر کو 2015 میں ہونے والا عالمی جوہری معاہدہ ختم ہو جائے گا جس میں پانچ عالمی طاقتیں ضامن تھی اور ٹرمپ نے پہلے دور صدارت 2018 میں آکر اسے اکھاڑ پھینکا تھا ۔ جواب میں ایران نے ایٹمی اڈوں پر نصب عالمی جوہری ادارے کی نگرانی کرنے والی مشینوں اور سی سی ٹی وی کیمروں کو اکھاڑ پھینکا اور عالمی جوہری انسپکٹر کو اڈوں میں داخلے سے روک دیا ۔ اب ان کے پاس کوئی طریقہ نہیں جس سے وہ یہ جان سکیں ایران دنیا کا واحد ملک جس کے مخصوص پرامن شہری جوہری پروگرام میں افزودگی کی شرح 90 فیصد تک پہنچ چکی ہے حالانکہ عالمی طاقتوں نے معائدے میں ایران کو 5 فیصد تک محدود کردیا تھا ۔ ایران کے سینٹری فیوجز مشینوں کو 5 ہزار تک محدود کردیا تھا جبکہ 60 فیصد یورنیم افزودگی تک پہنچنے کیلئے سالوں سال کی محنت درکار ہوتی ہے لیکن کم از کم ایک ایٹم بم بنانے کیلئے 90 فیصد یورنیم افزودگی کی شرح درکار ہوتا ہے جو کہ 60 سے 90 فیصد تک پہنچنے کیلئے فقط چند ماہ کافی ہوتے ہیں

تحقیق و تجزیہ : ایسٹ فرنٹ مقاومتی میڈیا

تاریخ : 15 مارچ 2025

تحریر: سید جہانزیب عابدی

صراط ٹائمز: رواں برس 2025 میں 18 اکتوبر کو 2015 میں ہونے والا عالمی جوہری معاہدہ ختم ہو جائے گا جس میں پانچ عالمی طاقتیں ضامن تھی اور ٹرمپ نے پہلے دور صدارت 2018 میں آکر اسے اکھاڑ پھینکا تھا ۔

جواب میں ایران نے ایٹمی اڈوں پر نصب عالمی جوہری ادارے کی نگرانی کرنے والی مشینوں اور سی سی ٹی وی کیمروں کو اکھاڑ پھینکا اور عالمی جوہری انسپکٹر کو اڈوں میں داخلے سے روک دیا ۔ اب ان کے پاس کوئی طریقہ نہیں جس سے وہ یہ جان سکیں ایران دنیا کا واحد ملک جس کے مخصوص پرامن شہری جوہری پروگرام میں افزودگی کی شرح 90 فیصد تک پہنچ چکی ہے حالانکہ عالمی طاقتوں نے معائدے میں ایران کو 5 فیصد تک محدود کردیا تھا ۔ ایران کے سینٹری فیوجز مشینوں کو 5 ہزار تک محدود کردیا تھا جبکہ 60 فیصد یورنیم افزودگی تک پہنچنے کیلئے سالوں سال کی محنت درکار ہوتی ہے لیکن کم از کم ایک ایٹم بم بنانے کیلئے 90 فیصد یورنیم افزودگی کی شرح درکار ہوتا ہے جو کہ 60 سے 90 فیصد تک پہنچنے کیلئے فقط چند ماہ کافی ہوتے ہیں ۔ البتہ حیران کن بات یہ ہے ڈاکٹر علی لاریجانی جو رہبر کے مشیر ہیں انہوں نے چند ماہ قبل حیران کن دعویٰ و اعتراف کیا کہ ایران فقط 24 گھٹنے میں ایٹم بم بنا سکتا ہے اگر بنانا چاہے اس دعوے کا مطلب ہے ایران کے پاس یورنیم افزودگی کی شرح 90 فیصد تک پہنچ چکی ہے ۔ 24 گھنٹے کے دعوی کا مطلب ایٹم بم تیار ہے فقط عالمی سطح پر ٹیسٹ کرنا باقی ہے ( ایسٹ فرنٹ نے گذشتہ سال سائنسی تحقیق کے بعد ایران میں ایٹمی ٹیسٹ کی تصدیق کیا تھا ) ایران کولڈ ایٹمی ٹیسٹ ماضی میں کرچکا ہے جس کا ذکر عالمی جوہری معاہدے میں تھا کہ وہ سابقہ ایٹمی ٹیسٹ کی جزیات و تفصیلات سے عالمی جوہری ادارے کو وزٹ کروائے اور 2015 کے جوہری معاہدے میں ایران کو پابند کیا گیا تھا کہ وہ ارک ایٹمی اڈے کو کنکریٹ و سیمنٹ سے بھر کر ناکارہ کردے لیکن 2018 میں ٹرمپ کے وعدہ خلافی اور جوہری معائدے کو تباہ کرنے کے بعد ایران نے ارک ایٹمی پلانٹ کو اپنے ہاتھوں سے برباد نہیں کیا ۔ بلکہ ہزاروں نئے ففتھ جنریشن IR-9 تیز رفتار سینٹری فیوجز مشینوں کو ایٹمی اڈوں میں نصب کردیا جبکہ معائدے کے وقت ایران IR-1 کی سست رفتار پرانی مشینیں استعمال کر رہا تھا ۔ اس وقت ایران صرف نیوکلیئر ڈیلیوری کرنے والے بلاسٹک میزائل کے جوہری وارہیڈ بنانے میں مصروف ہے کیونکہ ہر عام روایتی بلاسٹک میزائل ایٹمی وارہیڈ اٹھانے اور فائر کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے اس متعلق زیادہ تفصیلات بیان کرنا نہیں چاہتا لیکن بقول امریکہ یورپ حقیقت میں ایران دنیا کا واحد ملک ہے جس کا جوہری پروگرام ایٹمی بم کی صلاحیت والے مقام تک موجود ہے حالانکہ پرامن مقاصد یعنی بجلی و طب کیلئے 5 سے 20 فیصد یورنیم افزودگی کافی ہے اور ایران ایٹمی بم والی صلاحیت 90 پر کھڑا ہے ۔ آج امریکہ شمالی کوریا کی عزت و احترام صرف اس کے ایٹمی بم و جوہری وار ہیڈ لے جانے کی صلاحیت رکھنے والے بین البراعظمی بلاسٹک میزائل سے خوف کھا کر کرتا ہے کیونکہ ایک بار یہ میزائل فائر ہوگیا اور اسے فضا میں بھی روکا گیا تو جو نقصان فضا یا خلا میں ماحولیاتی تباہی ہوگا اس کا ذمہ دار مشتعل کرنے والے بدمعاش سامراجی قوت امریکہ ہوگا۔ ایران اگر 18 اکتوبر 2025 میں معائدے کی خاتمے تک کسی مسئلے کے حل تک نا پہنچے تو یقیناً جنگ ہے اور بڑی تباہی کی جنگ ہے ۔ کیونکہ ایران کو بھیجے گئے امریکہ صدر ٹرمپ کے دھمکی آمیز توہین آمیز خط میں امریکہ نے مطالبہ کیا ایران مکمل ایٹمی پروگرام ختم کرے ، ایران مکمل بلاسٹک میزائل پروگرام ختم کرے ایران مزاحمتی تحریکوں لبنان فلسطین عراق یمن شام کی حمایت بند کرے جس کے جواب میں رہبر معظم آیت اللہ خامنہ ائ اور ایرانی صدر نے امریکی نا جائز ڈیمانڈ مسترد کرتے ہوئے مزاحمت کو مزید حمایت و طاقت فراہم کرنے کا اعلان کیا ۔ جبکہ ماضی میں رہبر معظم سید علی خامنہ ائ نے ایرانی بلاسٹک میزائل پروگرام کو 2500 کلومیٹر رینج ( خرمشہر -4 میزائل) تک محدود کر رکھا تھا کیونکہ ایران سے اسرائیل کا فاصلہ اتنا ہی ہے حالانکہ ایران جب خلا میں ہزاروں کلومیٹر اونچائی پر راکٹ و سٹیلائٹ بھیجنے کی صلاحیت رکھتا ہے تو اس جدید قائم راکٹ انجن کو بلاسٹک میزائل میں تبدیل کرکے 11 ہزار کلو میٹر فاصلے تک امریکہ کو براہ راست ایٹمی حملے کا نشانہ بنا سکتا ہے۔

ایک نظر ایران کے جوہری معاہدے کے تحت عائد کردہ پابندیوں اور معاہدے کے مختلف مراحل کا جائزہ لیتے ہیں

جوہری معاہدے کی مدت اور مراحل

  مرحلہ:  پہلے 10 سال – مدت 2015 نومبر سے1 اکتوبر 2025 تک

ایران کو 5060 افزودگی، IR-1 سینٹری فیوجز مشینوں تک محدود رکھا جائے گا (نطنز فیول اینرچمنٹ پلانٹ میں)۔ جدید تیز ترین سینٹری فیوجز کے استعمال پر پابندی ہوگی یعنی تعداد اور اقسام پر سخت کنٹرول رہے گا۔ حالانکہ ایران اب IR-9 استعمال کر رہا ہے ۔

مرحلہ 2:  15 سال (2030 تک)

ایران 3.67% سے زیادہ یورینیم افزودہ نہیں کر سکے گا جو کہ ایٹمی ہتھیار بنانے کے لیے کسی صورت کافی نہیں ہوگا۔

300 کلوگرام سے زیادہ کم افزودہ یورینیم (LEU) کا ذخیرہ رکھنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ کیونکہ 300 کلو گرام ایک ایٹم بم بنانے کیلئے کافی ہے۔ یورینیم افزودگی صرف اصفہان کے نزدیک نطنز کے پلانٹ میں ہوگی، وہ بھی عالمی جوہری ادارے (IAEA) کی جدید ترین نگرانی کے تحت عمل کرے گا

مرحلہ3 : 20 سال (2035 تک)

ایران کو سینٹری فیوجز کی مخصوص پیداوار کو عالمی جوہری ایجنسی (IAEA) کو رپورٹ کرنا ہوگا، تاکہ کسی خفیہ پیشرفت کا پتہ چل سکے۔

مرحلہ 4: 25 سال (2040 تک)

ایران پر یورینیم کی پیداوار کی نگرانی جاری رہے گی، اور اس کے تمام جوہری پروگرام پر مسلسل عالمی ایجنسی کی نظر رہے گی۔

مرحلہ5 : ہمیشہ کے لیے پالیسی

ایران مزید عالمی پروٹوکول کو اپنائے گا اور سخت نگرانی کے خصوصی انتظامات کا پابند ہوگا۔ایٹمی ہتھیار بنانے میں مددگار کسی بھی قسم کی تحقیق اور ترقی پر مکمل پابندی عائد رہے گی۔

 ایران کے اعلانیہ مقامات پر موجود جوہری مراکز کی تفصیلات درج ذیل ہیں

نطنز نزد اصفہان، یورینیم افزودگی کا مرکزی پلانٹ

فردو نزد قم، زیر زمین افزودگی مرکز

ارک،بھاری پانی کا ری ایکٹر

تہران ،تحقیقاتی مراکز

قصہ مختصر ایران مذاکرات پر راضی نہیں اور امریکہ نے جنگ کی دھمکی دے دی ہے ۔ خدا کرے جنگ نا ہو کیونکہ مذاکرات اگر اس شرط پر ہو کہ امریکہ مشرق وسطی سے تمام فوجی اڈے خالی کرے اور ایران سے پابندیاں ہٹائے تو وہ بھی ایک بہتر حل ہے ( جس کے فوائد ایسٹ فرنٹ نے چند دنوں قبل شائع کیے تھے ) لیکن چونکہ دنیا جانتی ہے امریکہ و اسرائیل کا اصل نشانہ ایرانی ایٹمی پروگرام نہیں بلکہ انقلاب اسلامی کی مزاحمتی حکومت ہے لہذا اسے برباد کرنے واسطے صلیبی ( اقوام متحدہ امریکہ یورپ ہندوستان ) صیہونی ( اسرائیل ) ، عثمانی ( ترکی ) اور سفیانی ( داعشی جولانی ) کسی بھی حد تک جاسکتے ہیں اور حالات یہی بتا رہے ہیں رواں سال اکتوبر میں ہی طبل جنگ بج جائے گا کیونکہ جنگ سے قبل سفارتی دباؤ ڈالنے میں امریکہ مکمل ناکام ہوچکا ہے . اب آتے ہیں جنگ کا نقشہ کیا ہوگا ؟

امریکہ اسرائیل پیشگی سرپرائز حملہ کر سکتے ہیں، جس میں نطنز اور فردو کے جوہری مراکز کو نشانہ بنایا جائے گا بالکل اسی طرح جیسے اس نے عراق (1981) اور شام (2007) کے ایٹمی ری ایکٹرز تباہ کیے تھے۔ایران پر حملہ آور اتحاد ممکنہ طور پر امریکہ، اسرائیل، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، یورپی اتحادی (برطانیہ، فرانس)، اور ترکی پر مشتمل ہوگا۔

پہلا مرحلہ: سرپرائز سائبر و ایئر اسٹرائیک

“سائبر وارفیئر” کا استعمال کرکے ایران کے مواصلاتی نظام کو مفلوج کرنے کی کوشش کی جائے گی، جس کا آغاز اسرائیل نے “Stuxnet” وائرس کے ذریعے پہلے ہی آزما لیا ہے۔ اور اس کا مظاہرہ اسرائیل نے لبنان پر حملوں سے پیجر ڈیوائس سے حملہ کرکے کیا تھا یہی طریقہ دیگر آلات پر آزمایا جائے گا۔ امریکہ اور اسرائیل کی فضائیہ ایران کے نیوکلیئر پلانٹس (نطنز، فردو، اراک) اور سپاہ پاسداران انقلاب کے مراکز ، ایرانی حکومتی قیادت ، ریڈار و میزائل لانچنگ سائٹس یا اڈوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کرے گی۔

سعودی عرب، قطر اور امارات سے طیارے ایرانی آئل ریفائنریز اور دفاعی انفراسٹرکچر پر بمباری کریں گے۔

دوسرا مرحلہ: میزائل اور بحری محاصرہ

امریکی بحری بیڑے خلیج فارس و بحیرہ عرب اور بحر ہند میں تعینات ہوں گے اور ایرانی بندرگاہوں (بندر عباس، بوشہر، خرمشہر) کو محاصرے میں لے لیں گے تاکہ ایران کی اقتصادی شہ رگ تیل برآمدات بند ہو جائے۔

تیسرا مرحلہ: محدود زمینی کارروائی

یہ مرحلہ مشکل ترین ہوگا، کیونکہ ایران کی جغرافیائی ساخت (پہاڑ، صحراء) اور زمینی دفاعی نظام کسی بھی زمینی حملے کو ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

امریکہ کی خصوصی فورسز کا ہدف ایرانی کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز اور قیادت کو نشانہ بنانے کیلئے ان شہرون میں داخل ہونے کی علامتی کوشش ہوسکتی ہیں

اب آتے ہیں ایران اور مزاحمتی بلاک کی حکمت عملی جانتے ہیں

پہلا مرحلہ : فضائی دفاع اور جوابی میزائل حملے

ایران کے جدید روسی S-300 اور مقامی ساختہ باور-373 دفاعی نظام امریکی اور اسرائیلی طیاروں کا مقابلہ کریں گے۔ ایران کے جدید ترین خرمشہر-4 اور عماد بلاسٹک و ہائپر سونک بلاسٹک میزائل اسرائیل، سعودی عرب، اور امریکی فوجی اڈوں (قطر، بحرین، کویت، اردن ، عمان ، عراق ) و امریکی طیارہ بردار جنگی بحری جہاز پر جوابی حملے کریں گے۔

دوسرا مرحلہ: آبنائے ہرمز بند کرنا

ایران سب سے پہلے آبنائے ہرمز اور انصار اللہ حوثی بحیری احمر میں موجود باب المندب کو بند کریں گے، جس سے دنیا کے 60% تیل کی ترسیل روک جائے گی۔ ایرانی بحریہ اور “سپاہ پاسداران” کے تیز رفتار کشتیاں امریکی بحری بیڑوں اور تیل بردار جہازوں کو نشانہ بنائیں گی۔

تیسرا مرحلہ: غیر متوقع محاذ کھولنا

حزب اللہ ہزاروں بلاسٹک میزائل شمالی اسرائیل و تل ابیب پر برسانے کے لیے تیار ہے، جس سے تل ابیب، حیفا، اور دیمونا ایٹمی ری ایکٹر کو شدید خطرہ لاحق ہوگا یہ حزب اللہ کے دوران آپریشن طوفان الاقصی جنگ میں 24 نومبر کو تل ابیب پر 6 بلاسٹک میزائل حملے تھے جس نے اسرائیل کو فوری 26 نومبر کو جنگ بندی پر مجبور کیا ۔ یمن کے انصار اللہ حوثی سعودی آرامکو آئل فیلڈز پر حملہ کریں گے اور متحدہ عرب امارات کے ابوظہبی و دبئی کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ قطر میں امریکی ائربیس پر حملہ کریں گے ۔ عراق میں موجود حشد الشعبی اور دیگر مزاحمتی گروہ فاطمیون و زینبیون امریکی اڈوں کو نشانہ بنائیں گے، جس سے امریکہ کو “ملٹی فرنٹ وار” کا سامنا ہوگا۔

چوتھا مرحلہ : سائبر حملے

ایران اپنے اتحادی اسلامی مزاحمتی بلاک ، چین ،روس ، لاطینی امریکہ ، کیوبا اور شمالی کوریا کی مدد سے امریکی اسرائیلی حساس سرکاری دفاعی و صنعتی سائٹس پر حملے کرے گا تاکہ نظام مواصلات برباد و منجمند ہو۔

یہ جنگ عالمی معیشت پر تباہ کن اثر ڈالے گی:

تیل اور گیس: آبنائے ہرمز کی بندش سے عالمی منڈی میں تیل کی موجودہ قیمت فی بیرل 67 ڈالر کراس کرکے 400 ڈالر فی بیرل یعنی آسمان پر پہنچا دے گی۔ تیل و گیس کی قلت سے دنیا میں مہنگائی کا شدید طوفان آئے گا اور دنیا میں کئی ممالک میں فساد احتجاج مظاہرے شروع ہوں گے

عالمی تجارتی راستے: خلیج فارس، بحر احمر، اور سوئز کینال میں جنگی جھڑپیں عالمی تجارت کو بری طرح متاثر کر سکتی ہیں۔ انشورنس کی قیمت میں اضافہ اور طویل راستے کیپ آف گڈ ہاپ کا راستہ اختیار کرنے سے کئی امیر ممالک و ادارے بدحالی و تباہی کے دہانے پر پہنچا دے گا

امریکہ اور چین کا ٹکراؤ: چین ایران کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔ اگر جنگ چھڑی تو چین ایران کی حمایت میں خاموشی توڑ سکتا ہے، جس سے امریکہ چین ٹکراؤ مزید شدت اختیار کر سکتا ہے یاد رہے کل ایرانی ایٹمی پروگرام کی حمایت میں چینی وزیر خارجہ نے بیجنگ میں امریکی پابندیوں کے خاتمے کا مطالبہ کیا ہے اور چینی جنگی بحری جہاز ایرانی ساحلوں پر موجود ہے

روس کا کردار: روس شام میں موجود اپنی فوجی قوت کو ایران کے دفاع کے لیے استعمال کر سکتا ہے، جس سے یہ جنگ ایک نئی سرد جنگ میں تبدیل ہو سکتی ہے۔

آئیے اب اس ممکنہ جنگ کے بعد کے منظرنامے پر ایک تفصیلی تجزیہ کرتے ہیں:

 مزاحمتی بلاک کا مستقبل اور خطے پر اثرات

جنگ کے اختتام پر، چاہے ایران جیتے یا نقصان اٹھائے ایک چیز یقینی ہے مزاحمت ختم نہیں ہوگی، بلکہ مزاحمت مزید طاقتور ہوگی۔ جس کا مظاہرہ آپریشن طوفان الاقصی کے 14 ماہ بعد ہم نے ملاحظہ کیا اور شہید سید حسن نصر اللہ کے جنازے میں لاکھوں افراد کی شرکت و حمایت نے استعمار کو حیران کردیا۔

لبنان: حزب اللہ جنگ کے بعد یا تو پہلے سے زیادہ مضبوط ہوگی یا پھر اسرائیل کی جارحیت کے خلاف عالمی ہمدردی حاصل کرے گی، جس سے اسے مزید فوجی اور سیاسی قوت ملے گی۔

فلسطین: حماس اور اسلامی جہاد کو نئی توانائی ملے گی، اور فلسطینی تحریک ایک نیا انقلابی رخ اختیار کرے گی۔

یمن: انصار اللہ حوثی پہلے ہی سعودی عرب کے سرحد تک پہنچ چکے ہیں۔ جنگ کے بعد وہ خود کو عدن اور شمالی سرحدوں کو عبور کرکے مقبوضہ جیزان میں فتح یاب تحریک کے طور پر پیش کریں گے، جس سے عرب دنیا میں عوامی رائے سعودی مخالف ہو سکتی ہے۔

عراق: حشد الشعبی اور دیگر مزاحمتی گروہوں کو جنگ کے بعد مقبولیت ملے گی، اور امریکہ مخالف جذبات مزید بڑھیں گے، جس سے عراق میں امریکی موجودگی ناممکن ہو جائے گی۔

شام: سفیانی حکومت کا تختہ الٹنے کیلئے عراقی و لبنان مزاحمت کا دو طرف سے محاصرے کا کردار اہم ہوگا

عالمی طاقتوں کا نیا توازن اور مستقبل

یہ جنگ عالمی طاقتوں کے مابین طاقت کے نئے توازن کو جنم دے سکتی ہے:

ایران کا مستقبل : ایران اپنا کامیاب دفاع کرسکتا ہے اور ماضی میں 8 سال صدام کے ساتھ جنگ کے دوران لاشرقیہ لا غربیہ کے نعرے تلے ایران نے بغیر سویت یونین اور امریکی یورپی عرب مدد کے اپنا کامیاب دفاع کیا تھا اس بار ایران ، جبکہ روس فوجی طور پر ایران کی حمایت کو بڑھا سکتا ہے اور خدا نخواستہ بڑی تباہی کے صورت میں ایران لازمی ایٹمی ہتھیاروں کا تجربہ اور امریکہ پر براہ راست استعمال کرسکتا ہے تاکہ جنگ کو ٹالا جائے اور سیز فائر کے جانب لے جایا جائے

یورپ کا بحران: موجودہ یوکرین معاملے کے طرح یورپی ممالک جنگ کے بعد دو حصوں میں بٹ سکتے ہیں کچھ امریکہ کے ساتھ جبکہ کچھ امن اور تجارتی مفادات کے لیے ایران کے قریب ہو سکتے ہیں، خاص طور پر آئرلینڈ اسپین اٹلی مالٹا جرمنی اور فرانس جیسے ممالک ایران کے قریب آسکتے ہیں

بھارت کا کردار: بھارت کے لیے یہ جنگ ایک آزمائش ہوگی۔ اگر ایران کمزور ہوا تو بھارت کو تیل اور بندرگاہ (چاہ بہار) سے ہاتھ دھونا پڑ سکتا ہے، جبکہ اگر ایران مضبوط رہا تو بھارت کو ایران کے ساتھ تعلقات بحال رکھنے میں فائدہ نظر آئے گا۔

پاکستان کا کردار: پاکستان روز اول سے امریکی کیمپ میں موجود رہا ہے اس سے کچھ بعید نہیں وہ امریکہ کیلئے دوران جنگ جاسوسی و سہولت کاری فراہم کرے جس سے ایران میں موجود لاکھوں پاکستانی طلبا و شہریوں کیلئے افغانوں کے مانند تباہی و نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔ کیونکہ ماضی میں بلوچستان کے اندر شمسی ائربیس کو پاکستان نے ایران کیخلاف جاسوسی کیلئے امریکہ کو فراہم کر رکھا تھا

ڈالر کی حکمرانی کو چیلنج: ایران، روس، اور چین کے درمیان پہلے ہی مقامی کرنسیوں میں تجارت بڑھ رہی ہے۔ اگر ایران اس جنگ سے بچ نکلا تو عالمی سطح پر ڈالر کی حیثیت کمزور ہو سکتی ہے بلکہ ایران روسی چینی معاشی پیکج سے عالمی پابندیوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے آگے بڑھتا جائے گا

چین کا معاشی فائدہ: چین ایرانی تیل کا سب سے بڑا خریدار ہے، اور جنگ کے بعد چین ایران کو رعایتی قیمتوں پر تیل خریدنے کا موقع دے سکتا ہے، جس سے امریکہ کے معاشی دباؤ کو ناکام بنایا جا سکتا ہے۔

یہ امریکی جنگ چونکہ ایران کے صرف ایٹمی پروگرام یا جغرافیائی وجود کے لیے نہیں، بلکہ “نظریہ ولایت فقیہ” اور اسلامی انقلاب کے خاتمے کے لیے لڑی جائے گی۔

ایران اس جنگ میں آخری دم تک کھڑا رہا تو ولایت فقیہ عالمی تحریک میں بدلے گی ایران کی مزاحمت دنیا کے مظلوم مسلمانوں کے لیے ایک رول ماڈل بنے گی۔ مشرق وسطیٰ سے لے کر جنوبی ایشیا اور افریقہ تک، اسلامی تحریکیں ایران کے ماڈل کو اپنانے کی کوشش کریں گی۔

شیعہ سنی اتحاد مزید مضبوط ہوگا، جنگ کے دوران ایران، حماس، حزب اللہ، اور دیگر مزاحمتی گروہ اتحاد میں لڑیں گے، جس سے “اتحاد بین المسلمین” کی ایک نئی مثال قائم ہوگی۔ دنیا بھر کے دو ارب مسلمانوں میں شیعہ اثناء عشری مسلمانوں کے جانب مسلک تبدیل و مذہب حق اہل اہلبیت کو قبول کرنے والے لوگوں کی تعداد لاکھوں کروڑوں میں ہوگی اور تکفیری عناصر کے پروپیگنڈہ کا خاتمہ ہوگا

ظہور امام مہدی (عج) کی تحریک کو جواز ملے گا ایران اور مزاحمتی بلاک کی قربانیاں امام مہدی (عج) کے ظہور کی تیاری کے طور پر دیکھی جائیں گی، اور عالمی سطح پر ایک روحانی بیداری پیدا ہوگی۔

اس جنگ کے بعد تو ایران صرف ایک ملک نہیں، بلکہ “مزاحمتی سپر پاور” کے طور پر ابھرے گا، جس کا اثر شام، عراق، لبنان، یمن، فلسطین، افغانستان، اور پاکستان سے بنگلہ دیش مالدیپ ملائیشیا انڈونیشیا اور افریقہ میں مراکش تک ہوگا۔ امریکی ناکامی کے بعد تو مشرق وسطیٰ میں امریکی اثر و رسوخ ختم ہو جائے گا اس کے تمام اڈے خالی ہوں گے اور عالمی سطح پر اس کی سیاسی حیثیت کمزور ہو جائے گی، جس سے چین اور روس کو مزید برتری ملے گی۔ اسرائیل کی کمزوری کے بعد فلسطین بالخصوص اردن و مغربی کنارے میں آزادی کی نئی لہر اٹھے گی، اور پورے خطے میں اسرائیل کے خلاف مزید اقدامات ہوں گے جس کا انجام رہبر کے فرمان 2040 تک اسرائیل کے وجود کا مکمل خاتمہ ہوگا۔ مزید ولایت فقیہ عالمی تحریک میں تبدیل ہوگی اور امام مہدی (عج) کے ظہور کے لیے امت میں ایک نئی روحانی اور سیاسی بیداری پیدا ہوگی انشاء اللہ

مختصر لنک: https://www.siraat-times.com/?p=1243

ٹیگز

تبصرے