صراط ٹائمز خصوصی تحریر
آج انسانیت کے ضمیر پر پھر سے سوال کھڑا ہو چکا ہے۔
اسرائیل، جو ایک غاصب، جعلی اور صہیونی حکومت ہے، نے کھلم کھلا ایران پر حملہ کیا ہے—وہ ایران جو برسوں سے مظلوم فلسطینیوں کے دفاع میں سب سے مضبوط اور مؤثر آواز رہا ہے۔
دنیا نے دیکھا کہ جب غزہ میں بچوں کے جسموں کے ٹکڑے ہو رہے تھے، ماؤں کی آہیں گونج رہی تھیں، اور مسجد اقصیٰ کو پامال کیا جا رہا تھا… تو بیشتر عالمی طاقتیں صرف خاموش تماشائی تھیں۔
مگر ایک ملک ایسا تھا…
ایران!
جو نہ صرف بول رہا تھا، بلکہ ہر پلیٹ فارم پر، ہر سطح پر، ہر زبان میں، ظلم کے خلاف لڑ رہا تھا۔
🔴 اور اب وہی صہیونی ظلم، جس نے ہزاروں فلسطینیوں کا خون بہایا، اُس نے اپنا نشانہ اس محافظ کی طرف کر لیا ہے جو برسوں سے مظلوموں کی ڈھال بنا کھڑا تھا۔
یہ محض ایران پر حملہ نہیں…
یہ ایک واضح پیغام ہے کہ جو بھی مظلوموں کے ساتھ کھڑا ہوگا، ظالم اُسے بھی نہیں بخشے گا!
📢 سوال یہ ہے:
کیا ہم اب بھی خاموش رہیں گے؟
کیا ہم تب جاگیں گے جب آخری محافظ بھی مٹ چکا ہوگا؟
کیا انسانیت صرف تصویروں کی زینت بن کر رہ گئی ہے؟
🛑 اگر کوئی خود کو انسان سمجھتا ہے
تو اب وقت ہے کہ خاموشی توڑے،
ظلم کے خلاف آواز بلند کرے
اور صرف جذباتی بیانات سے آگے بڑھ کر عملی قدم اٹھائے۔
یہ معرکہ ایمان اور کفر کا ہے۔
یہ جنگ زمین کے چند ٹکڑوں کی نہیں،
ضمیر، حق اور انصاف کی ہے۔
📌 یاد رکھیں:
آج اگر ہم خاموش رہے،
تو کل ہمارے دروازے پر بھی یہی ظلم دستک دے گا،
اور اُس وقت شاید کوئی محافظ باقی نہ ہو جو ہماری آواز بنے۔
🖋 صراط ٹائمز آپ سے سوال کرتا ہے:
آپ کس کے ساتھ کھڑے ہیں؟
حق کے، یا اُس خاموشی کے جو ظالم کو شہ دیتی ہے؟
