تفسیر المیزان: سورہ نصر
سورہ کا تعارف:
سورہ نصر مدنی سورتوں میں سے ہے، اور اس میں اللہ تعالیٰ کی جانب سے فتح مکہ کی بشارت دی گئی ہے۔ اس سورت میں رسول اکرمؐ کو اللہ کی مدد اور دین کی تکمیل کی خوشخبری دی گئی، اور اس کے بعد شکرانے کے طور پر اللہ کی تسبیح اور استغفار کرنے کا حکم دیا گیا۔
آیات اور ترجمہ:
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ
وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللَّهِ أَفْوَاجًا
فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَاسْتَغْفِرْهُ إِنَّهُ كَانَ تَوَّابًا
ترجمہ:
جب اللہ کی مدد اور فتح آ جائے (1) اور آپ لوگوں کو دیکھیں کہ وہ جوق در جوق اللہ کے دین میں داخل ہو رہے ہیں (2) تو اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کریں اور اس سے مغفرت طلب کریں، بے شک وہ بہت توبہ قبول کرنے والا ہے۔ (3(
تفسیر:
فتح مکہ کی بشارت:
علامہ طباطبائیؒ تفسیر المیزان میں فرماتے ہیں کہ اس سورت میں رسول اکرمؐ کو خوشخبری دی گئی کہ اللہ کی مدد سے فتح مکہ عنقریب حاصل ہوگی۔ جب مکہ فتح ہوگا تو لوگ گروہ در گروہ دین اسلام میں داخل ہوں گے۔
رسول اللہؐ کی ذمہ داری:
اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیؐ کو حکم دیا کہ وہ اللہ کی حمد و تسبیح کریں اور استغفار کریں۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ نبی کریمؐ اپنی ذمہ داری کو مکمل سمجھیں اور اللہ کے سامنے عاجزی اختیار کریں۔
رسول اللہؐ کی رحلت کا اشارہ:
بہت سے مفسرین، بشمول علامہ طباطبائیؒ، کا کہنا ہے کہ اس سورت میں رسول اللہؐ کی وفات کی طرف بھی اشارہ ہے۔ کیونکہ جب کسی نبی کا مشن مکمل ہو جاتا ہے، تو اس کے دنیا سے جانے کا وقت قریب آ جاتا ہے۔ حضرت عمرؓ اور حضرت ابن عباسؓ سے بھی یہی تفسیر منقول ہے کہ یہ سورت نبی اکرمؐ کے وصال کی خبر تھی۔
استغفار اور تسبیح کی حکمت:
فتح اور کامیابی کے وقت اللہ کی حمد و ثنا اور استغفار کرنا ایک اہم سنت ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ہر کام میں اللہ کی مدد اور رحمت کو یاد رکھنا چاہیے اور اپنی کوتاہیوں پر مغفرت طلب کرنی چاہیے۔
فضائل و برکات:
جو شخص اس سورت کی تلاوت کرے، اس کا ثواب اس شخص کے برابر ہے جو فتح مکہ میں رسول اللہؐ کے ساتھ تھا۔
یہ سورت دعا کی قبولیت اور مشکلات کے حل کے لیے مفید ہے۔
دشمنوں پر کامیابی اور حق کی فتح کے لیے اس سورت کا ورد کیا جاتا ہے۔
