صراط ٹائمز / علامہ طباطبائی سورہ مبارکہ توبہ کی آیت 18 کی تفسیر کچھ اس طرح بیان فرماتے ہیں۔
إِنَّمَا يَعْمُرُ مَسَاجِدَ اللَّهِ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَأَقَامَ الصَّلَاةَ وَآتَى الزَّكَاةَ وَلَمْ يَخْشَ إِلَّا اللَّهَ ۖ فَعَسَىٰ أُولَٰئِكَ أَنْ يَكُونُوا مِنَ الْمُهْتَدِينَ
ترجمہ:۔
“اللہ کی مساجد تو وہی لوگ آباد کرتے ہیں جو اللہ اور روزِ آخرت پر ایمان رکھتے ہیں، نماز قائم کرتے ہیں، زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے۔ پس قریب ہے کہ یہی لوگ ہدایت یافتہ ہوں۔
تفسیر المیزان سے خلاصہ:۔
علامہ طباطبائیؒ فرماتے ہیں کہ:۔
“مسجد کی آبادکاری صرف ظاہری تعمیر تک محدود نہیں بلکہ اصل آبادکاری ایمان، نماز، زکوٰۃ اور خالص خوفِ خدا سے مشروط ہے۔
آیت بتاتی ہے کہ حقیقی آباد کرنے والے وہ ہیں جو اپنے عمل سے مسجد کو مرکزِ عبادت اور اطاعتِ الٰہی بناتے ہیں۔
اور چونکہ ان کا خوف و خشیت صرف اللہ کے لیے ہے، اس لیے ان کی عبادت میں خلوص ہوتا ہے اور وہی اللہ کی ہدایت کے مستحق قرار پاتے ہیں۔
مسجد کو دینی، اجتماعی اور روحانی مرکز بنانا دراصل ایمان کی علامت ہے۔”
(مأخوذ از تفسیر المیزان، ذیلِ آیہ 18، سورہ توبہ)
