فَلَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ عَلَىٰٓ ءَاثَـٰرِهِمْ إِن لَّمْ يُؤْمِنُوا۟ بِهَـٰذَا ٱلْحَدِيثِ أَسَفًا
:ترجمہ
پس (اے محبوب!) شاید آپ ان کے پیچھے غم کے مارے اپنی جان ہلاک کر ڈالیں گے اگر وہ اس کلام پر ایمان نہ لائیں۔
:مختصر مگر جامع بیان
یہ آیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بے مثال شفقت، رحمت اور امت کی خیر خواہی کو بیان کرتی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کفار کے انکار اور ہٹ دھرمی پر اس قدر دل گرفتہ ہوتے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طبیعت پر اس کا شدید اثر پڑتا اور گویا آپ اپنی جان کھو دینے کے قریب ہو جاتے۔
اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب کو تسلی دی کہ آپ کا کام صرف پیغام پہنچانا ہے، دلوں میں ایمان ڈالنا اللہ کا کام ہے۔ یہ انسان کی فطرت ہے کہ وہ ہر ایک کو ہدایت کا راستہ دکھانا چاہے، مگر ہدایت اللہ کی مشیت سے ہی ملتی ہے۔ اس آیت سے یہ سبق بھی ملتا ہے کہ داعی کو اپنے حصے کا فریضہ ادا کرنا چاہیے، مگر نتائج اللہ پر چھوڑ دینا چاہیے اور خود کو غم و فکر میں بے حال نہیں کرنا چاہیے۔
:پیغام
دین کی دعوت میں اخلاص، صبر اور اللہ پر اعتماد لازم ہے۔ انسانوں کی ہدایت کے لیے تڑپ ہونی چاہیے، مگر اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنا مناسب نہیں۔ ہر چیز اللہ کے ارادے سے ہی مکمل ہوتی ہے۔
سورۃ الکہف: آیت 6
سورۃ الکہف: آیت 6
مختصر لنک: https://www.siraat-times.com/?p=1683
- پوسٹ کردہ بذریعہ: Rabab Mehdi
- کوئی نظارہ نہیں۔
