خدا سے دوری اور دنیاوی آزمائشیں: ایک منطقی و قرآنی تجزیہ
سید عمار حیدر زیدی قم
صراط ٹائمز: دنیا میں کئی لوگ ایسے ہیں جو مغربی ممالک میں جا کر اپنی اسلامی شناخت کو کمزور کر لیتے ہیں اور جب انہیں کوئی مالی یا دنیاوی نقصان پہنچتا ہے تو وہ دین سے دور ہو جاتے ہیں۔ کچھ لوگ یہ دلیل دیتے ہیں کہ اگر نماز، روزہ اور دعا کے باوجود کاروبار میں نقصان ہو تو اس کا فائدہ کیا؟ جبکہ دوسری طرف ایسے لوگ بھی ہیں جو کسی خدا کو نہیں مانتے، جیسے بل گیٹس اور دیگر مغربی سرمایہ دار، اور وہ پھر بھی کامیاب نظر آتے ہیں۔
یہ سوال صرف آج کا نہیں بلکہ صدیوں سے لوگوں کے ذہنوں میں آتا رہا ہے۔ قرآن مجید، منطق اور عقل کی روشنی میں اس کا گہرا تجزیہ کیا جا سکتا ہے۔
دنیاوی مال و دولت کامیابی کی علامت نہیں
سب سے پہلی غلط فہمی یہ ہے کہ دنیاوی مال و دولت ہی کامیابی کا پیمانہ ہے۔ اگر دولت ہی اصل معیار ہوتا، تو فرعون، قارون اور نمرود سب سے زیادہ کامیاب سمجھے جاتے۔ لیکن قرآن ان کے انجام کے بارے میں واضح کہتا ہے:
“پس ہم نے اسے (قارون کو) اور اس کے گھر کو زمین میں دھنسا دیا، پھر اس کے لئے کوئی جماعت نہ تھی کہ اللہ (کے عذاب) کے مقابلے میں اس کی مدد کرتی اور نہ وہ خود ہی بدلہ لے سکا۔” (القصص: 81)
قارون کے پاس بے پناہ دولت تھی، لیکن وہ گھمنڈ میں مبتلا ہو کر خدا سے دور ہو گیا، جس کا انجام ذلت و بربادی ہوا۔
اسی طرح، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
“اور وہ لوگ جو کافر ہو گئے، وہ یہ نہ سمجھیں کہ ہم جو انہیں مہلت دے رہے ہیں وہ ان کے حق میں بہتر ہے۔ ہم تو انہیں مہلت دے رہے ہیں تاکہ وہ اپنے گناہوں میں اور بڑھ جائیں، اور ان کے لئے رسوا کرنے والا عذاب ہے۔” (آل عمران: 178)
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ دنیا میں کسی کو دولت مل جانا اس بات کی علامت نہیں کہ وہ اللہ کا پسندیدہ بندہ ہے۔ بعض اوقات اللہ کافروں کو مہلت دیتا ہے تاکہ وہ اپنی گمراہی میں اور آگے بڑھیں اور پھر ان پر عذاب آئے۔
آزمائش ایمان کا لازمی حصہ ہے
بہت سے لوگ یہ سوچتے ہیں کہ اگر ہم نماز، روزہ اور دعا کرتے ہیں تو ہمیں کوئی نقصان کیوں ہوتا ہے؟ اس سوال کا جواب قرآن میں موجود ہے:
“اور ہم ضرور تمہیں آزمائیں گے کچھ خوف اور بھوک سے اور مالوں اور جانوں اور پھلوں کے نقصان سے، اور خوشخبری دے دو صبر کرنے والوں کو۔” (البقرہ: 155)
اللہ تعالیٰ ایمان والوں کو آزماتا ہے تاکہ وہ صبر کریں اور ان کا ایمان مضبوط ہو۔ اس آزمائش کا مقصد بندے کو بہتر بنانا اور آخرت میں اس کا درجہ بلند کرنا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
“جس شخص کے ساتھ اللہ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے، اسے آزمائش میں مبتلا کر دیتا ہے۔” (بخاری)
حقیقی کامیابی آخرت کی ہے
اسلامی نقطۂ نظر سے کامیابی صرف دنیاوی دولت میں نہیں بلکہ آخرت میں کامیابی حاصل کرنے میں ہے۔
“اور یہ دنیاوی زندگی محض کھیل اور تماشا ہے، اور یقینا آخرت کا گھر ہی حقیقی زندگی ہے، کاش وہ جانتے۔” (العنکبوت: 64)
بل گیٹس اور دیگر لوگ بظاہر دنیا میں خوشحال ہیں، لیکن کیا وہ اندر سے بھی مطمئن ہیں؟ کیا ان کے دلوں میں سکون ہے؟ نہیں، کیونکہ حقیقی سکون صرف اللہ کی یاد میں ہے:
“جان لو کہ اللہ کی یاد ہی سے دلوں کو سکون ملتا ہے۔” (الرعد: 28)
نماز اور دعا کا مقصد صرف دنیاوی فائدہ نہیں
بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ہم نماز اور دعا صرف اس لیے کرتے ہیں کہ ہمیں دنیا میں فائدہ ہو، حالانکہ عبادت کا مقصد صرف دنیاوی کامیابی نہیں بلکہ اللہ کی رضا حاصل کرنا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کو دیکھیں، آپ کو بھی بے شمار آزمائشوں کا سامنا کرنا پڑا، کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ (نعوذ باللہ) غلط راستے پر تھے؟ ہرگز نہیں! بلکہ یہ ثابت کرتا ہے کہ آزمائشیں اللہ کے نیک بندوں پر بھی آتی ہیں تاکہ ان کا ایمان مزید مضبوط ہو۔
نتیجہ
جو لوگ نماز، روزہ اور دعا کے باوجود دنیاوی مشکلات سے گزر رہے ہیں، انہیں یہ سمجھنا چاہیے کہ:
دولت کامیابی کا معیار نہیں – قارون، فرعون جیسے لوگ بھی امیر تھے، لیکن انجام عبرتناک ہوا۔
آزمائشیں ایمان کا لازمی حصہ ہیں – قرآن کہتا ہے کہ ایمان والوں کو ضرور آزمایا جائے گا۔
حقیقی کامیابی آخرت میں ہے – دنیا فانی ہے، آخرت ہمیشہ کے لیے ہے۔
نماز اور دعا کا مقصد اللہ کی رضا ہے – دنیاوی فائدے سے زیادہ، ہمیں اللہ سے تعلق مضبوط کرنا چاہیے۔
لہٰذا، جو لوگ اللہ سے دور ہو رہے ہیں، انہیں سوچنا چاہیے کہ کیا وہ دنیا کی فانی دولت کے بدلے اپنی آخرت کو خراب کر رہے ہیں؟ اگر بل گیٹس جیسے لوگ بظاہر کامیاب نظر آتے ہیں، تو یہ ان کے لیے مہلت بھی ہو سکتی ہے، جبکہ ایمان والے ہر آزمائش کے بعد اللہ کے قریب ہوتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں صبر، استقامت اور حقیقی کامیابی کی سمجھ عطا فرمائے۔ آمین۔
