32

حدیثِ معصومینؑ: “الدُّنْيَا سِجْنُ الْمُؤْمِنِ وَ جَنَّةُ الْكافِرِ”

  • نیوز کوڈ : 1253
  • 18 March 2025 - 7:26
حدیثِ معصومینؑ: “الدُّنْيَا سِجْنُ الْمُؤْمِنِ وَ جَنَّةُ الْكافِرِ”

حدیثِ معصومینؑ: “الدُّنْيَا سِجْنُ الْمُؤْمِنِ وَ جَنَّةُ الْكافِرِ” ترجمہ:“دنیا مؤمن کے لیے قید خانہ اور کافر کے لیے جنت ہے۔” (بحار الأنوار، ج 67، ص 309) صراط ٹائمز: وضاحت یہ حدیث نبی اکرمؐ سے منقول ہے اور اہل بیتؑ نے بھی اس کے معنی کی وضاحت فرمائی ہے۔ اس کا مفہوم بظاہر سادہ ہے، لیکن […]

حدیثِ معصومینؑ: “الدُّنْيَا سِجْنُ الْمُؤْمِنِ وَ جَنَّةُ الْكافِرِ”

ترجمہ:
“دنیا مؤمن کے لیے قید خانہ اور کافر کے لیے جنت ہے۔”

(بحار الأنوار، ج 67، ص 309)

صراط ٹائمز: وضاحت

یہ حدیث نبی اکرمؐ سے منقول ہے اور اہل بیتؑ نے بھی اس کے معنی کی وضاحت فرمائی ہے۔ اس کا مفہوم بظاہر سادہ ہے، لیکن اس میں ایک گہری حقیقت پوشیدہ ہے جو انسانی زندگی کے مقصد اور آخرت کی حقیقت کو واضح کرتی ہے۔

۔ مؤمن کے لیے دنیا قید خانہ کیوں؟

ایک سچا مؤمن دنیا میں اللہ کے احکام کا پابند ہوتا ہے۔

وہ نفسانی خواہشات سے خود کو روکتا ہے، کیونکہ اس کی نظر آخرت پر ہوتی ہے۔

دنیا کی آزمائشیں، مصیبتیں اور مشکلات اسے مسلسل آزما رہی ہوتی ہیں، جبکہ جنت میں اس کے لیے بے حد نعمتیں تیار ہیں۔

امام علیؑ فرماتے ہیں: “دنیا مؤمن کا امتحان ہے اور آخرت اس کا انعام۔”

۔ کافر کے لیے دنیا جنت کیوں؟

کافر کے لیے یہی دنیا سب کچھ ہے، کیونکہ وہ آخرت پر یقین نہیں رکھتا۔

وہ مادی خواہشات کو اپنی کامیابی سمجھتا ہے اور کسی آخرت کی فکر نہیں کرتا۔

امام جعفر صادقؑ فرماتے ہیں: “جو شخص دنیا کو اپنی سب سے بڑی آرزو سمجھ لے، وہ ہمیشہ حسرت میں رہے گا۔”

عملی پیغام:

یہ حدیث صبر، قناعت اور آخرت پر یقین کا درس دیتی ہے۔

مؤمن کو چاہیے کہ دنیا کی مشکلات پر صبر کرے، کیونکہ یہ آزمائش ہے اور اس کا حقیقی انعام جنت ہے۔

مادی لذتوں کے دھوکے میں نہ آئے، بلکہ ہمیشہ آخرت کی کامیابی کو مدنظر رکھے۔

اگر کوئی شخص گناہ کی زندگی میں سکون محسوس کرتا ہے، تو یہ وقتی ہے، اصل کامیابی وہ ہے جو آخرت میں ہمیشہ قائم رہے۔

یہ حدیث ہمیں دنیا اور آخرت کی حقیقت سمجھنے اور اپنی زندگی کو اللہ کی رضا کے مطابق ڈھالنے کی دعوت دیتی ہے۔

مختصر لنک: https://www.siraat-times.com/?p=1253

ٹیگز

تبصرے