تنہا ظالم جسکا احترام واجب ہے
تحریر: تصور حسین
صراط ٹائمز: اللہ کی عظمت اور اس کی حکمت کا کوئی ٹھوس مقابلہ نہیں کر سکتا۔ قرآن مجید اور روایات میں ہمیں ہمیشہ عدل و انصاف کی تعلیم دی گئی ہے، اور ظلم کی ہر صورت سے بچنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے کہ “یقیناً اللہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا” (آل عمران: 57)۔ یہی وجہ ہے کہ انسانوں کو ظلم سے بچنے، دوسرے کے حقوق کا احترام کرنے، اور ہر صورت میں اللہ کی رضا کی کوشش کرنے کی تعلیم دی گئی ہے۔ مگر پھر بھی بعض اوقات زندگی میں ایسے لمحات آتے ہیں جب ہمیں ایک پیچیدہ سوال کا سامنا کرنا پڑتا ہے:
کیا ہم اپنے والدین کی طرف سے ہونے والے ظلم کو برداشت کریں اور ان کی عزت و احترام میں کمی نہ لائیں؟
قرآن و حدیث کی روشنی میں اس سوال کا جواب واضح ہے، اور وہ یہ ہے کہ چاہے والدین کتنے ہی ظالم کیوں نہ ہوں، ان کا احترام اور ان کے ساتھ حسن سلوک کرنا ہماری مذہبی ذمہ داری ہے۔ امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا: “لا تجعلن ضرب لسانک علی من انطقک و بلاغت قولک من صددک” یعنی “اپنی زبان کو اس کے خلاف استعمال نہ کرو جس نے تمہیں بولنا سکھایا، اور اپنی بلاغت کو اس کے خلاف نہ استعمال کرو جس نے تمہیں کلام کی سلیقے سے آشنا کیا”۔
والدین وہ ہیں جنہوں نے ہمیں ہر طرح کی تکلیفوں میں اپنا پیار اور قربانی دی، ہم جو کچھ بھی ہیں، اس کا آغاز والدین کی قربانیوں سے ہوا ہے۔ عربی کا ایک شعر ہے کہ جسکا ترجمہ ہے
“میں نے تیرے لیے ہر تلوار کا وار سیکھا، اور جب تیرے بازو مضبوط ہوئے، تو تیرے ہی تیر نے مجھے نشانہ بنایا۔”
اس شعر کا مفہوم یہی ہے کہ ہم نے اپنی کامیابیوں اور قوتوں کو والدین کی محنت اور قربانیوں سے حاصل کیا، اور اب جب ہم کامیاب ہو چکے ہیں، تو ہمیں ان کی عزت میں کمی نہیں کرنی چاہیے۔ ہمیں کبھی بھی اپنی زبان یا رویہ میں سختی نہیں لانی چاہیے۔ اگرچہ والدین کا سلوک کبھی کبھار ہمیں تکلیف دے سکتا ہے، مگر ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ ان کا مقام وہ ہے جس سے ہم کسی حال میں بے پرواہ نہیں ہو سکتے۔ چاہے وہ کافر ہوں، مخالف ہوں، یا ظالم، ان کا احترام اور نیکی کے ساتھ پیش آنا ہماری ذمہ داری ہے۔
اللہ کا حکم ہے کہ “اگر وہ تمہیں مشرک کرنے کی کوشش کریں تو ان کی بات نہ مانو، لیکن ان کے ساتھ حسن سلوک کرنا تمہارا فرض ہے”(سورہ عنکبوت: 8)۔
اس سے واضح ہوتا ہے کہ والدی ، چاہے وہ کسی بھی نظریہ یا عقیدہ کے حامل ہوں ان کی بے احترامی کی اجازت نہیں ۔ اسی طرح امام صادق علیہ السلام نے بھی فرمایا: “اگر تمہارے والدین اہل بیت کا احترام نہ کرتے ہوں، پھر بھی ان کے ساتھ حسن سلوک کر کے انہیں محبت دو”(کافی شریف)۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ والدین کے ساتھ محبت اور ادب میں کوئی استثنا نہیں ہے، چاہے وہ ہم سے اختلاف رکھتے ہوں یا ہماری پسندیدہ راہوں کو نہ اپناتے ہوں ۔ امام کاظم علیہ السلام نے بھی اسی طرح کے مسئلے پر روشنی ڈالی کہ اگر والدین کی طرف سے کوئی ظلم یا زیادتی ہو، تب بھی ان کے ساتھ نرمی اور احترام کے ساتھ پیش آنا ضروری ہے۔ اگر والدین کے ساتھ اختلافات یا تکالیف بھی ہوں، تب بھی انہیں تکلیف پہنچانے سے بچنا چاہیے، اور ہمیشہ ان کے ساتھ مہربانی کے ساتھ بات کرنی چاہیے۔ “اور اگر تمہیں مارا بھی جائے، تو تمہیں یہ کہنا چاہیے کہ اے اللہ میرے والدین کی مغفرت فرما، کیونکہ ان کا مقام بہت بلند ہے”۔
یقیناً والدین کے ساتھ سلوک اور ادب میں کوئی استثنا نہیں۔ چاہے وہ ظالم ہی کیوں نہ ہوں ، وہ ہمیں زندگی کے تمام دروازوں تک پہنچانے والے ہیں۔ ان کی عزت میں کمی کا کوئی جواز نہیں، اور یہی اسلام کی تعلیم ہے۔
“احسان کرو اپنے والدین کے ساتھ، چاہے وہ تمہیں تکلیف ہی کیوں نہ دیں، کیونکہ ان کی دعائیں تمہیں کامیابی کی راہ پر لے آئیں گی”۔ یہ بات مسلم ہے کہ اسلام نے اگر کسی ظالم کا احترام واجب قرار دیا ہے تو وہ والدین ہیں یعنی اگر وہ ظلم ہی کیوں نہ کریں تب بھی احترام لازمی ہے۔
