*جون ایلیاء اور استعماری مفادات*
*فکریات اسد اللہ خاں غالب اور اسلامی منظومہ فکری*
*خدائی منصوبہ اور طاغوتی چالیں*
*عبادت کے بغیر انقلاب: ایک خود فریبی*
امن یا فریب؟ حق و باطل کی پوشیدہ جنگ
*صلح و مذاکرات یا جنگ و قتال*
حدود کی غلط فہمیاں اور تعلقات کا توازن
*پیشہ ورانہ زندگی میں وقار، حدود اور اختیار*
حضرت فاطمہ زہرا(س)؛ نبوت و امامت کے درمیان ایک حلقہ وصل اور ائمہ(ع) پر حجت خدا
تحریر : سید جہانزیب عابدی بچے آپ کے پاس خدا اور امام عصر عج کی امانت ہیں۔ بچوں میں احساسِ کمتری، احساسِ محرومی اور احساسِ گناہ مختلف نفسیاتی، سماجی اور خاندانی عوامل کے نتیجے میں پیدا ہوتے ہیں۔ ان کے احساسات کا آغاز عام طور پر ابتدائی عمر میں ہوتا ہے اور ماحول، پرورش کے […]
مولانا سید یاور عباس صراط ٹائمز / مولانا سید یاور عباس نے شب قدر کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عرفاء آج کی رات سے اپنے نئے سال کا آغاز کرتے تھے اور پورے سال کی پلاننگ کرتے تھے دنیا کی بھی اور راہ خدا کی بھی۔ آپ نے مزید کہا اپنے مسئلے […]
صراط ٹائمز: فردی اور اجتماعی خود سازی کو قوی کرنے کے لئے ماہ مبارک ر مضان خصوصا شب قدر کی روحانی اور معنوی فضاسے استفادہ کرنا بہت ضروری ہے ، خلاصہ یہ ہے کہ ماہ مبارک رمضان ، تقوی حاصل کرنے کیلئے تقوی کی کنجی ہے ۔ لہذا شب قدر کی روحانی اور معنوی فضامیں […]
صراط ٹائمز :رہبر معظم انقلاب اسلامی سید علی خامنہ ای فرماتے ہیں کہ شب قدر اللہ کی خاص رحمت اور برکت سے معمور ایک بابرکت رات ہے،
تحریر : مولانا سید عمار حیدر زیدی قم محراب میں گونجتی آخری تکبیر تاریخ کی سحر ایک ایسی آواز سے جاگ اٹھی، جو ہمیشہ کے لیے دلوں میں گونجتی رہے گی۔ یہ آواز وہی تھی جو حق و باطل کے معرکوں میں گونجی، جو یتیموں کے سر پر دستِ شفقت رکھتے وقت سنائی دی، جو […]
تحریر: تصور حسین تاریخِ اسلام کے صفحات پر اگر کوئی شخصیت اپنی بے مثل فصاحت، غیر متزلزل عزم، اور بے پایاں وفاداری کے باوجود سب سے زیادہ تنہائی اور غم کے بوجھ تلے دبی ہوئی نظر آتی ہے، تو وہ امیرالمؤمنین، امام علی علیہ السلام ک ذات ہے۔ ان کی سب سے بڑی مصیبت وہ […]
( ایک نوجوان کا علامہ طباطبائی کی خدمت میں خط )صراط طائمز( اسلام علیکم ورحمة اللہ و برکاتہ )مختصر بات یہ ہے کہ میں بیس سال کا جوان ہوں ، میرے خیال میں واحد آپ ہیں ، جو شاید میرے اس سوال کا جواب دے سکتے ہیں ، میں جس ماحول میں زندگی گزار رہا […]
اسلامی تاریخ میں 21 رمضان 40 ہجری ایک ایسا دن ہے جو صدیوں بعد بھی مسلمانوں کے دلوں میں درد اور غم کی کیفیت پیدا کرتا ہے۔ یہ وہ دن تھا جب امیر المؤمنین، فاتح خیبر، دامادِ رسولؐ، اور عدل و حکمت کے پیکر حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کوفہ کی مسجد میں نمازِ فجر کے دوران قاتلانہ حملے کے نتیجے میں شہید کر دیے گئے۔ یہ واقعہ بظاہر اسلامی حکومت کے ایک سنہری دور کے اختتام کی علامت لگتا ہے، لیکن حقیقت میں یہ ایک نئی فکری، روحانی اور انقلابی تحریک کا نقطہ آغاز تھا، جس کی روشنی آج بھی انسانیت کو راستہ دکھا رہی ہے
بعض اوقات لوگوں کی توجہ کسی اہم حقیقت سے ہٹانے، انہیں گمراہ کرنے یا کسی مخصوص ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے مختلف نفسیاتی اور حربی تکنیکیں استعمال کی جاتی ہیں۔ یہ تکنیکیں سیاست، میڈیا، کاروبار اور سماجی معاملات میں عام طور پر دیکھنے کو ملتی ہیں۔ ایک باشعور انسان کے لیے ان حربوں کو پہچاننا ضروری ہوتا ہے تاکہ وہ حقیقت اور دھوکہ دہی میں فرق کر سکے۔ ایک عام تکنیک یہ ہے کہ
اللہ وہ ذات ہے جس نے کتاب کو حق کے ساتھ نازل کیا اور میزان کو بھی۔ کتاب سے مراد وہ وحی ہے جو شریعت اور دین پر مشتمل ہو، ایسا دین جو انسانی معاشرے میں نافذ ہو۔ جیسا کہ آیت "كانَ النّاسُ أُمَّةً واحِدَةً..." کی تفسیر میں ذکر کیا گیا کہ قرآن میں کتاب سے مراد شریعت اور دین ہے۔ اور "انزال بالحق" کا مطلب یہ ہے کہ یہ کتاب سراسر حق پر مبنی ہے، اور اس میں شیطانی اور نفسانی اختلافات کی آمیزش نہیں ہے۔ میزان کا مطلب ہر وہ معیار یا پیمانہ ہے جس کے ذریعے اشیاء کو تولا یا پرکھا جاتا ہے۔ آیت کے آخری حصے اور اس کے بعد والی آیات کے تناظر میں یہاں میزان سے مراد وہی دین ہے جو کتاب میں موجود ہے۔ دین کو میزان کہنے کی وجہ یہ ہے کہ