تحریر : مولانا سید عمار حیدر زیدی قم
محراب میں گونجتی آخری تکبیر
تاریخ کی سحر ایک ایسی آواز سے جاگ اٹھی، جو ہمیشہ کے لیے دلوں میں گونجتی رہے گی۔ یہ آواز وہی تھی جو حق و باطل کے معرکوں میں گونجی، جو یتیموں کے سر پر دستِ شفقت رکھتے وقت سنائی دی، جو عدالت کی کرسی پر انصاف کے پیمانے مقرر کرتی رہی—یہ آواز علیؑ کی تھی، اور یہ آخری تکبیر تھی جو محرابِ کوفہ میں گونجی۔
امام علیؑ، وہ چراغ جو ہمیشہ عدل، شجاعت اور علم کا نور بکھیرتا رہا، آج ایک قاتل کے زہر آلود وار سے لبریز ہو کر محراب میں گر گیا۔ دنیا نے دیکھا کہ وہی علیؑ، جو ہمیشہ حق کے لیے کھڑا رہا، آج خود بھی حق کی راہ میں قربان ہو گیا۔ یہ وہ لمحہ تھا جب مسجد کوفہ کے در و دیوار بھی لرز اٹھے، جب فرشتے بھی آسمان پر نوحہ کناں ہوئے، اور جب یتیموں کے دلوں میں ایک ایسا درد جاگا جو کبھی ختم نہ ہوا۔علیؑ کی شہادت صرف ایک شخصیت کی شہادت نہیں، بلکہ وہ ایک عہد کا خاتمہ تھا—ایسا عہد جو انصاف، علم، حلم اور قربانی کا درس دیتا تھا۔ وہ علیؑ، جو ساری زندگی یتیموں کو اپنے شانہ پر بٹھاتے رہے، آج امت کو یتیم کر گئے۔ وہ علیؑ، جو دشمن کے سامنے بھی عدل کا دامن نہیں چھوڑتے تھے، آج ظلم کا نشانہ بن گئے۔
محراب میں گونجتی یہ آخری تکبیر ہمیں یاد دلاتی ہے کہ علیؑ صرف ایک فرد نہیں، ایک نظام، ایک نظریہ، اور ایک راستہ ہیں—وہ راستہ جو عدل، تقویٰ اور قربانی کی منزل کی طرف لے جاتا ہے۔
آج بھی اگر دنیا میں عدل کی شمع جلانی ہے، تو اسی محراب کی تکبیر کو دل میں بسانا ہوگا، اسی علیؑ کے نقشِ قدم پر چلنا ہوگا۔
“فزتُ و ربِّ الکعبہ“—یہ الفاظ نہ صرف علیؑ کی جیت کی گواہی ہیں، بلکہ ہر اس انسان کے لیے مشعلِ راہ ہیں جو حق کے لیے جینا اور مرنا چاہتا ہے۔
