70

بچے آپ کے پاس خدا اور امام عصر عج کی امانت ہیں۔

  • نیوز کوڈ : 1327
  • 22 March 2025 - 18:27
بچے آپ کے پاس خدا اور امام عصر عج کی امانت ہیں۔

تحریر : سید جہانزیب عابدی بچے آپ کے پاس خدا اور امام عصر عج کی امانت ہیں۔ بچوں میں احساسِ کمتری، احساسِ محرومی اور احساسِ گناہ مختلف نفسیاتی، سماجی اور خاندانی عوامل کے نتیجے میں پیدا ہوتے ہیں۔ ان کے احساسات کا آغاز عام طور پر ابتدائی عمر میں ہوتا ہے اور ماحول، پرورش کے […]

تحریر : سید جہانزیب عابدی

بچے آپ کے پاس خدا اور امام عصر عج کی امانت ہیں۔

بچوں میں احساسِ کمتری، احساسِ محرومی اور احساسِ گناہ مختلف نفسیاتی، سماجی اور خاندانی عوامل کے نتیجے میں پیدا ہوتے ہیں۔ ان کے احساسات کا آغاز عام طور پر ابتدائی عمر میں ہوتا ہے اور ماحول، پرورش کے انداز، والدین کی توقعات، تعلیمی دباؤ اور سماجی تقابل سے جُڑا ہوتا ہے۔ اگر بچہ مسلسل تنقید، تقابل، عدمِ توجّہ یا غیر متوازن محبت کا شکار ہو تو اس کے اندر یہ احساسات جڑ پکڑ لیتے ہیں۔

احساسِ کمتری اس وقت پیدا ہوتا ہے جب بچہ اپنی صلاحیتوں کو کمتر سمجھنے لگے، دوسروں سے خود کو کمتر محسوس کرے یا اس کی محنت کو سراہے بغیر اسے مسلسل دوسروں سے موازنہ کیا جائے۔ جب والدین یا اساتذہ بچوں سے ان کی استطاعت سے زیادہ توقعات وابستہ کرتے ہیں اور ناکامی پر حوصلہ دینے کے بجائے ملامت کرتے ہیں تو بچہ خود کو ناکام اور کمزور سمجھنے لگتا ہے۔ گھر میں اگر محبت، حوصلہ افزائی اور تسلیم کیے جانے کا ماحول نہ ہو، تو بچہ اپنی ذات کو کم تر محسوس کرتا ہے۔

احساسِ محرومی تب پیدا ہوتا ہے جب بچہ یہ سمجھنے لگے کہ اسے وہ چیزیں نہیں ملتیں جو دوسروں کو حاصل ہیں، چاہے وہ مادی اشیاء ہوں یا جذباتی توجہ۔ اگر والدین کی محبت مشروط ہو، اگر ان کی توجہ صرف مخصوص حالات میں بچے کو ملے، یا اگر بچے کو بار بار یہ باور کرایا جائے کہ وہ دوسروں کی طرح خوش نصیب نہیں، تو اس کے اندر ایک مستقل احساسِ محرومی پیدا ہو جاتا ہے۔ بعض اوقات مالی حالات، والدین کی مصروفیات، یا دوسرے بہن بھائیوں کی طرف زیادہ توجہ بھی کسی بچے کے اندر یہ احساس پیدا کر سکتی ہے کہ وہ دوسروں کے برابر نہیں۔احساسِ گناہ عام طور پر اس وقت جنم لیتا ہے جب بچے کو بار بار اس کی غلطیوں کے لیے موردِ الزام ٹھہرایا جائے، اسے احساس دلایا جائے کہ وہ اچھا نہیں یا وہ ہمیشہ کچھ غلط ہی کرتا ہے۔ اگر والدین یا اساتذہ ہر غلطی پر سخت ردعمل دیں اور غلطی کے اصلاحی پہلو کو نظرانداز کرتے ہوئے صرف سزا اور شرمندگی کو اہمیت دیں، تو بچہ خود کو مجرم محسوس کرنے لگتا ہے۔ کبھی کبھی مذہبی یا اخلاقی تعلیمات کو سختی سے لاگو کرنے کے نتیجے میں بھی بچے کے اندر بے جا احساسِ گناہ پیدا ہو سکتا ہے، خاص طور پر جب اسے نرمی اور رحمت کے بجائے صرف عذاب اور سزا کی تعلیم دی جائے۔

ان مسائل کا حل متوازن اور محبت بھرا رویہ اختیار کرنے میں ہے۔ والدین اور اساتذہ کو چاہیے کہ وہ بچوں کی حوصلہ افزائی کریں، ان کی غلطیوں کو ان کی شخصیت پر حملہ کیے بغیر درست کریں، اور ان کی صلاحیتوں پر اعتماد بحال کرنے میں مدد کریں۔ بچوں کا موازنہ دوسروں سے کرنے کے بجائے ان کی اپنی ترقی پر توجہ دینی چاہیے اور ان کی کامیابیوں کو سراہنا چاہیے، چاہے وہ کتنی ہی چھوٹی کیوں نہ ہوں۔ جذباتی محرومی کو ختم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ بچے کو غیر مشروط محبت دی جائے، اس کی بات کو سنا جائے اور اس کے جذبات کو اہمیت دی جائے۔ احساسِ گناہ کو کم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ بچوں کو غلطیوں کی اصلاح کا موقع دیا جائے، انہیں یہ سمجھایا جائے کہ غلطی کرنا انسانی فطرت ہے اور اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ ناقص یا برا انسان ہیں۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنی محبت اور تربیت میں اللہ کی رحمت، درگزر اور نرمی کے پہلو کو نمایاں کریں تاکہ بچہ خوف کے بجائے محبت کے جذبے کے تحت نیکی کی طرف مائل ہو۔

بچوں میں احساسِ کمتری، احساسِ محرومی اور احساسِ گناہ پیدا ہونے کے کئی نقصانات ہوتے ہیں جو ان کی ذہنی، جذباتی، تعلیمی اور سماجی زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں۔ جب کوئی بچہ خود کو دوسروں سے کمتر محسوس کرنے لگے تو اس کے اندر خود اعتمادی ختم ہونے لگتی ہے، وہ اپنے فیصلوں پر یقین نہیں رکھتا اور دوسروں کے مقابلے میں خود کو کمزور سمجھنے لگتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ نئے چیلنجز کو قبول کرنے سے کتراتا ہے، اپنی قابلیت کو آزمانے میں ہچکچاہٹ محسوس کرتا ہے اور ناکامی کے خوف سے اپنی زندگی کے کئی مواقع کھو دیتا ہے۔ یہ احساس اس کی تعلیمی کارکردگی پر بھی منفی اثر ڈالتا ہے کیونکہ وہ اپنی محنت پر یقین نہیں رکھ پاتا اور مسلسل مایوسی کا شکار رہتا ہے۔ ایسے بچے سماجی محافل میں بھی پیچھے رہ جاتے ہیں، لوگوں سے ملنے جلنے میں ہچکچاتے ہیں اور بعض اوقات اتنے زیادہ شرمیلے ہو جاتے ہیں کہ دوسروں کے سامنے اپنی بات تک کہنے سے گھبراتے ہیں۔ یہ احساس ان کے اندر جذباتی کمزوری پیدا کر دیتا ہے اور وہ اپنی بات کو ثابت کرنے کے بجائے دوسروں کے فیصلوں پر انحصار کرنے لگتے ہیں، جو بعد کی زندگی میں ان کے لیے مزید مشکلات پیدا کر دیتا ہے۔

احساسِ محرومی بچوں میں چڑچڑاپن، حسد اور غصہ پیدا کر دیتا ہے۔ جب بچہ یہ دیکھتا ہے کہ دوسروں کو وہ سب کچھ حاصل ہے جو اسے نہیں ملا، تو وہ یا تو شدید حسد کا شکار ہو جاتا ہے یا پھر مکمل مایوسی میں چلا جاتا ہے۔ بعض بچے اس احساس کے باعث بغاوت پر اتر آتے ہیں، وہ ضدی ہو جاتے ہیں اور ہر چیز کو اپنی مرضی کے مطابق حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اگر ان کی خواہشات پوری نہ ہوں تو وہ چڑچڑے، غصیلا اور غیر متوازن رویہ اختیار کر لیتے ہیں۔ احساسِ محرومی بعض اوقات بچوں کے اندر اخلاقی کمزوری پیدا کر دیتا ہے، وہ دوسروں کی چیزوں پر نظر رکھنے لگتے ہیں، غلط راستے اختیار کر لیتے ہیں یا اپنے دل کی محرومیوں کو پورا کرنے کے لیے غیر مناسب رویہ اپناتے ہیں۔ ایسے بچے بڑے ہو کر بھی ہر حال میں خود کو محروم ہی محسوس کرتے ہیں، چاہے انہیں دنیا کی ہر نعمت مل جائے، ان کے اندر تسکین اور اطمینان کا فقدان رہتا ہے اور وہ ہر وقت دوسروں کی زندگیوں کو دیکھ کر اپنی زندگی سے ناخوش رہتے ہیں۔

احساسِ گناہ بچوں کے ذہن پر خوف اور بے یقینی کی کیفیت طاری کر دیتا ہے۔ جب کسی بچے کو ہر وقت اس کی غلطیوں پر شرمندہ کیا جائے، اسے مسلسل ملامت کا سامنا ہو یا اس کی کسی کوتاہی کو معاف کرنے کے بجائے ہر بار اس کی طرف انگلی اٹھائی جائے تو وہ اپنے وجود کے بارے میں منفی سوچنے لگتا ہے۔ ایسے بچے اپنی فطری خوشیوں سے محروم ہو جاتے ہیں، ہر کام کرتے وقت انہیں یہ خوف لاحق رہتا ہے کہ وہ غلطی کر رہے ہیں اور ان سے کوئی نہ کوئی گناہ سرزد ہو جائے گا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ کسی بھی سرگرمی میں مکمل اعتماد کے ساتھ شامل نہیں ہو پاتے، اپنی صلاحیتوں کو دبانے لگتے ہیں اور بعض اوقات خود کو ناقابلِ معافی سمجھنے لگتے ہیں۔ بعض بچے اس احساس کے باعث دین سے دور ہو جاتے ہیں کیونکہ وہ یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ اللہ انہیں معاف نہیں کرے گا، جبکہ کچھ بچے غیر ضروری شدت پسندی میں مبتلا ہو کر اپنی ذات پر سختی کرنا شروع کر دیتے ہیں، اپنی خوشیوں کو گناہ سمجھنے لگتے ہیں اور خود کو بے جا سزا دینے لگتے ہیں۔ اس احساس کے زیرِ اثر وہ سماجی تعلقات میں بھی کمزور ہو جاتے ہیں، دوسروں کے ساتھ گھلنے ملنے میں مشکل محسوس کرتے ہیں اور خود کو تنہائی میں قید کر لیتے ہیں۔

یہ تینوں احساسات اگر کسی بچے کی شخصیت میں پختہ ہو جائیں تو وہ ایک غیر متوازن، کمزور اور منفی شخصیت کا مالک بن سکتا ہے۔ ایسے بچے بڑے ہو کر اپنی زندگی میں کوئی بڑا قدم اٹھانے سے ڈرتے ہیں، دوسروں پر انحصار کرتے ہیں اور معاشرتی طور پر پیچھے رہ جاتے ہیں۔ ان احساسات سے بچانے کے لیے ضروری ہے کہ بچوں کی پرورش محبت، حوصلہ افزائی اور مثبت رویے کے ساتھ کی جائے۔ انہیں ان کی غلطیوں پر مکمل طور پر گناہگار محسوس کرانے کے بجائے اصلاح کا موقع دیا جائے، ان کی محنت کو سراہا جائے اور ان کی شخصیت کو تقویت دی جائے تاکہ وہ خود کو ایک باصلاحیت، خودمختار اور متوازن فرد کے طور پر دیکھ سکیں۔خود اعتمادی اور خودی کو مضبوط کرنے کے لیے ضروری ہے کہ بچے کو اس کی صلاحیتوں پر یقین دلایا جائے اور اس کی مثبت کوششوں کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ والدین اور اساتذہ کو چاہیے کہ وہ بچوں کی غلطیوں پر انہیں کمتر محسوس کرانے کے بجائے ان کی اصلاح میں مدد کریں، ان کی خوبیوں کو اجاگر کریں اور انہیں اپنی قابلیت کو آزمانے کے مواقع فراہم کریں۔ بچے کی خودی کو مضبوط کرنے کے لیے ضروری ہے کہ اسے خود فیصلے کرنے کا موقع دیا جائے، تاکہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو محسوس کرے اور اپنی ذات پر بھروسہ پیدا کرے۔ انہیں سکھایا جائے کہ مشکلات زندگی کا حصہ ہیں اور ان سے گھبرانے کے بجائے سیکھنے اور آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔ اسلام میں خودی اور خود اعتمادی کی بڑی اہمیت ہے، جیسا کہ قرآن میں ارشاد ہوتا ہے: “اور انسان کے لیے وہی کچھ ہے جس کی اس نے کوشش کی” (سورۃ النجم 39)۔ یہ آیت خودی کے تصور کو واضح کرتی ہے کہ کامیابی کا دارومدار اپنی محنت اور جدوجہد پر ہے، نہ کہ دوسروں کے سہارے پر۔

خود اعتمادی اور خودی کے مضبوط ہونے کے کئی فائدے ہیں۔ ایک خود اعتماد بچہ زندگی کے چیلنجز کا بہادری سے سامنا کرتا ہے، اپنے فیصلے خود کرتا ہے اور دوسروں پر غیر ضروری انحصار نہیں کرتا۔ اس کے اندر مسائل کو حل کرنے کی صلاحیت بہتر ہوتی ہے، وہ معاشرتی اور تعلیمی میدان میں نمایاں کارکردگی دکھاتا ہے اور جذباتی طور پر بھی زیادہ مستحکم رہتا ہے۔ ایسے بچے مثبت رویے اپناتے ہیں، دوسروں سے حسد یا خوف محسوس کرنے کے بجائے اپنی ترقی پر توجہ دیتے ہیں اور زندگی میں بہتر کارکردگی کے ساتھ آگے بڑھتے ہیں۔ دینِ اسلام میں بھی خودی اور عزتِ نفس کی تعلیم دی گئی ہے، جیسا کہ امام علیؑ فرماتے ہیں: “جس نے اپنی قدر پہچان لی، وہ کبھی ذلیل نہیں ہوگا”۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خودی کی پہچان ہی درحقیقت کامیابی اور عزت کی بنیاد ہے۔

مختصر لنک: https://www.siraat-times.com/?p=1327

ٹیگز

تبصرے

  1. Bilkul thek kaha gya hai is post Mai ek waqt aesa tha k mjhy apny bacchy k 99 marks b km lagty thy lakin mery beta ki teachr ny mjhy smjhaya or waqai hm baccho sy bht ziada umeed wabista krlyty hn hm ye bhol jaty hn k wo bachy hn ghalti tu barddo sy b hoti hai ye posts 💯 hai