تحریر: تصور حسین
تاریخِ اسلام کے صفحات پر اگر کوئی شخصیت اپنی بے مثل فصاحت، غیر متزلزل عزم، اور بے پایاں وفاداری کے باوجود سب سے زیادہ تنہائی اور غم کے بوجھ تلے دبی ہوئی نظر آتی ہے، تو وہ امیرالمؤمنین، امام علی علیہ السلام ک ذات ہے۔ ان کی سب سے بڑی مصیبت وہ زخم نہ تھا جو محرابِ کوفہ میں لگا، نہ وہ تلوار تھی جو عبدالرحمن ابن ملجم کے ہاتھ میں تھی، بلکہ وہ دکھ تھا جو ان کے دل میں بسا تھا، وہ سچائیاں تھیں جو وہ سنانا چاہتے تھے مگر کوئی سننے والا نہ تھا، وہ حکمتیں تھیں جو بیان کرنا چاہتے تھے مگر کوئی ان کی قدردانی نہ کرتا تھا۔
یہی درد تھا جو امام کو اندر سے گھائل کیے رکھتا تھا۔ ان کی زبانِ حق گو ہمیشہ اپنے رازوں کے امین کی تلاش میں رہی، مگر لوگ انہیں سننے کے بجائے اپنی دنیاوی مشغولیات میں مگن رہے۔ وہ تنہائی کا شکار اس وقت ہوئے جب لوگ ان کی حکمت سے کنارہ کش ہونے لگے، جب وہ اپنے دل کا حال بیان کرنے کے لیے لب کھولتے، تو لوگ انہیں اپنے معمولی اور فانی مسائل میں الجھا دیتے، اور یوں امام کا درد ان کے دل میں دفن رہ جاتا۔
میثم تمار کا مشاہدہ
میثم تمار، جو امام علیؑ کے عاشقوں میں سے تھے، ایک دن امام کا تعاقب کرتے ہوئے انہیں تلاش کرنے نکلے۔ وہ دیکھتے ہیں کہ امام ایک کنویں کے قریب جا کر رک جاتے ہیں، ان کا چہرہ زرد ہے، آنکھیں اشکوں سے لبریز ہیں، اور وہ اپنے دل کا حال کسی سے کہنے کے لیے بے قرار نظر آتے ہیں۔ مگر جب کوئی سننے والا نہیں ملا تو امام نے اپنے چہرے کو کنویں میں ڈال دیا اور ایک آہ بھری جو کائنات کے سکوت کو چیرتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔
“اے کنویں! اگر یہ لوگ مجھے نہیں سنتے، تو تُو ہی میرے درد کا گواہ بن جا!” امام کے الفاظ تھے جن میں صدیوں کا دکھ چھپا تھا۔ میثم یہ منظر دیکھ کر لرز گئے۔ انہیں سمجھ آیا کہ امام کی سب سے بڑی تکلیف یہ نہیں کہ دشمنوں نے ان پر ظلم کیا، بلکہ یہ ہے کہ اپنے بھی ان کی معرفت اور ان کی بصیرت کو نہیں سمجھ سکے۔
همصحبتی نداشت که در نیمههای شب
حرفش به چاه بود و نگاهش به ماه بود
وہ خطبہ جو مکمل نہ ہوسکا
ایک دن، امام علیؑ خطبہ دے رہے تھے، ان کی آواز میں ایک خاص درد اور سوز تھا، جیسے وہ اپنے دل کا بوجھ ہلکا کرنا چاہتے ہوں۔ انہوں نے کہنا شروع کیا، “اے لوگو! میں تمہیں وہ حقیقتیں بتانا چاہتا ہوں جو میرے سینے میں دفن ہیں۔ وہ راز جو تمہیں ہدایت دیں گے اور وہ علم جو تمہیں اندھیروں سے نکال سکتا ہے۔”
لیکن ابھی امام نے اپنی بات مکمل بھی نہ کی تھی کہ ایک شخص بے وقت کھڑا ہوگیا اور ایک غیر ضروری سوال پوچھنے لگا۔ امام کی آنکھوں میں ایک لمحے کے لیے اداسی کی جھلک ابھری، مگر وہ خاموش ہوگئے۔ جیسے ہی امام نے دوبارہ لب کھولنے کا ارادہ کیا، ایک اور شخص نے ایک فضول سوال داغ دیا۔ مجلس میں موجود لوگوں کی بے حسی دیکھ کر امام نے ایک گہری آہ بھری اور خاموش ہوگئے۔ ان کا غم، جو وہ سنانا چاہتے تھے، ان کا درد، جو وہ بیان کرنا چاہتے تھے، ایک بار پھر ان کے دل میں رہ گیا، ان کے سینے میں دفن ہوگیا، جیسے کوفہ کی زمین میں دفن ہونے والی ایک اور مظلوم حقیقت۔
یہی امام کی سب سے بڑی تکلیف تھی—یہی ان کی سب سے گہری تنہائی تھی۔ لوگ ان کی باتوں کو سننے کے بجائے اپنی دنیاوی الجھنوں میں الجھے رہے، اور امام کی حکمت، امام کی بصیرت، امام کے راز ان کے سینے میں دفن رہے، یہاں تک کہ وقت کے پردے نے سب کچھ ڈھانپ لیا۔
*آہ! وہ دل جس میں علومِ محمد و آلِ محمدؐ کا سمندر موجزن تھا، وہ سینہ جس میں الٰہی اسرار کے خزانے پوشیدہ تھے، وہ لب جو حکمت اور ہدایت کے دروازے کھول سکتے تھے، مگر افسوس! کوئی سننے والا نہ تھا، کوئی سمجھنے والا نہ تھا۔
