تحریر : خانم طاہرین فاطمہ ملک
صراط ٹائمز / تربیت اولاد ایک اہم ترین ذمہ داریوں میں سے ہے خداوند متعال قرآن کریم ارشاد فرماتا ہے
قَالَ رَبِّ ہَبۡ لِیۡ مِنۡ لَّدُنۡکَ ذُرِّیَّۃً طَیِّبَۃً ۚ اِنَّکَ سَمِیۡعُ الدُّعَآءِ(ال عمران: 39)
“اے میرے رب! مجھے اپنی جناب سے پاکیزہ اولاد عطا کر۔ یقیناً تو بہت دعا سننے والا ہے۔
“اللہ ربّ العزت نے اولاد کو دنیاوی زندگی کی رونق اور زینت قرار دیا ہے۔ لیکن یہ رونق اسی وقت والدین کے لیے حقیقی خوشی کا باعث بنتی ہے جب وہ اپنی ذمہ داری کو پورا کرتے ہوئے بچوں کی درست نشوونما، دینی اور اخلاقی تربیت کرتے ہیں اور انہیں ابتدائی عمر سے زیورِ تعلیم سے آراستہ کرتے ہیں۔اسی لیے اسلام میں جہاں والدین کے حقوق کو واضح کیا گیا ہے اور اولاد کو والدین کی فرمانبرداری کا حکم دیا گیا ہے، وہیں والدین کو بھی اس بات کا پابند کیا گیا ہے کہ وہ اپنی اولاد کی بہترین تربیت کریں۔
والدین کی ذمہ داری اور اولاد کی تربیت: ماں اور باپ دونوں کو اپنی اولاد سے بلا تفریق محبت کرنی چاہیے، خواہ وہ بیٹے ہوں یا بیٹیاں، اور ان کے حقوق ادا کرنے چاہیے۔ بچے قوم کے معمار ہوتے ہیں، اگر ان کی صحیح تربیت کی جائے تو اس کا مطلب ہے کہ ایک اچھے اور مضبوط معاشرے کی بنیاد رکھ دی گئی۔ ایک اچھی تربیت یافتہ نسل سے ہی مثالی معاشرہ تشکیل پاتا ہے، کیونکہ ایک اچھا پودا ہی مستقبل میں تناور درخت بن سکتا ہے۔
بچپن کی تربیت: “نقش علی الحجر” (پتھر پر لکیر) کی طرح ہوتی ہے۔ اگر بچپن میں ہی بچوں کی دینی و اخلاقی اصلاح کی جائے تو وہ بڑے ہو کر بھی ان اصولوں پر قائم رہیں گے۔ اس کے برعکس اگر ابتدا سے ہی تربیت کو نظر انداز کیا جائے تو بعد میں ان سے بھلائی کی زیادہ توقع نہیں کی جا سکتی۔ جو بچے بلوغت کے بعد برے اخلاق و اعمال میں ملوث ہو جاتے ہیں، ان کے والدین بھی کسی حد تک اس کے ذمہ دار ہوتے ہیں، کیونکہ انہوں نے ابتدا میں ان کی درست رہنمائی نہیں کی ہوتی۔اولاد کی نیک تربیت دنیا میں والدین کے لیے عزت و نیک نامی کا باعث بنتی ہے اور آخرت میں کامیابی کا ذریعہ بنتی ہے۔ اس کے برعکس، نافرمان اور بے تربیت اولاد دنیا میں بھی والدین کے لیے تکلیف اور آخرت میں شرمندگی کا سبب بنتی ہے۔آج کے دور میں بچوں کی تربیت کیسے کریں؟
حضرت امام علی علیہ السلام فرماتے ہیں:”لَا أَدَبَ مَعَ غَضَبٍ“(غصہ کے ساتھ تربیت ممکن نہیں ہے۔)والدین کے غصے کے بچوں کی شخصیت پر اثراتجب والدین، خاص طور پر مائیں، بچوں پر زیادہ غصہ کرتی ہیں یا چیختی ہیں تو دو قسم کے نتائج سامنے آتے ہیں
۔:1. بچوں میں خوف پیدا ہوتا ہے – وہ وقتی طور پر ڈر کے مارے کام تو کر لیتے ہیں، مگر اس سے ان کی قوتِ فیصلہ کمزور ہو جاتی ہے، اور وہ صرف احکامات پر چلنے کے عادی ہو جاتے ہیں
۔2. ذہنی مفلوجی – اگر غصے میں ڈانٹ کر کوئی بات کہی جائے تو بعض حساس بچے اس بات کو مکمل طور پر سمجھ نہیں پاتے اور الجھن میں پڑ جاتے ہیں۔ وہ آپ کو حیران نظروں سے دیکھتے ہیں لیکن آپ کی بات ان کے دماغ میں مکمل طور پر نہیں پہنچتی۔شخصیت پر اثراتایسے بچے اعتماد کھو دیتے ہیں اور ہر معاملے میں دوسروں کی رائے کے محتاج ہو جاتے ہیں۔والدین کے غصے سے انہیں یہ پیغام ملتا ہے کہ وہ ان کی نظر میں بے وقعت ہو چکے ہیں، جس سے ان کی خودی مجروح ہوتی ہے۔وہ نازک حالات میں فوری فیصلہ کرنے کی صلاحیت کھو دیتے ہیں، جو مستقبل میں ان کی زندگی کے اہم مواقع پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔والدین غصے پر کیسے قابو پائیں؟ایسے ماحول اور محفلوں سے دور رہیں جو غصے کو بڑھانے والے عوامل پیدا کرتے ہیں۔بچوں کا دوسروں سے موازنہ نہ کریں، کیونکہ ہر بچہ اپنی فطرت اور صلاحیتوں میں منفرد ہوتا ہے۔بچوں کو ایک نعمتِ الٰہی سمجھیں اور ان کی قدر کریں۔نتیجہاولاد کی تربیت والدین کی ایک بڑی ذمہ داری ہے، اور یہ کام صبر، محبت اور حکمت کے ساتھ انجام دینا چاہیے۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنی اولاد کی اچھی تربیت کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہماری نسلوں کو نیک، صالح اور کامیاب بنائے۔ آمین!
