اس مومن کی کامیابی اس کے عمل میں بھی ظاہر ہوتی ہے۔ وہ علم حاصل کرتا ہے تاکہ بصیرت پیدا ہو، وہ زبان اور قلم سے حق کی بات کرتا ہے، لوگوں میں امید، اخلاص، اور انتظار کا شعور بیدار کرتا ہے۔
یہ آیت ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ صرف ظاہری دعووں پر اعتماد نہیں کرنا چاہیے، بلکہ اعمال اور نیتوں کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ اصلاح کے نام پر فساد پھیلانے والے افراد اور گروہوں سے ہوشیار رہنا چاہیے۔
لوگ اس چیز کے دشمن ہوتے ہیں جسے وہ نہیں جانتے۔
یہ ملاقات دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور خطے میں امن و استحکام کے فروغ کی جانب ایک اہم قدم کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔
پس یہ فرض ہے کہ ہم قرآن کی روشنی میں دنیا کے حالیہ استعماری نظام کا تجزیہ کریں، طاغوتی سازشوں کو پہچانیں، ان کے خلاف علمی، اخلاقی، اور عملی سطح پر جہاد کریں، اور یقین رکھیں کہ انجام کار اللہ کا وعدہ سچا ہے، اور مکر و فریب کی بنیادوں پر قائم نظام فنا ہونے والا ہے۔ حق ہمیشہ غالب رہنے والا ہے، کیونکہ وہ رب کی سنت ہے جس میں کوئی تبدیلی نہیں آتی۔
صہیونی ریاست جس تسلسل سے فلسطینی عوام پر حملہ آور ہے، اس کے انداز، نظریات، اور طریقہ کار کو دیکھتے ہوئے یہ سوال بے وجہ نہیں کہ: کیا ہم تاریخ کے کسی نئے “مغولی دور” میں داخل ہو چکے ہیں؟