47

✨ غدیر اور نوجوان: امامت کا تعارف ایک فکری نظام کے طور پر ✨

  • نیوز کوڈ : 1820
  • 10 June 2025 - 2:55
✨ غدیر اور نوجوان: امامت کا تعارف ایک فکری نظام کے طور پر ✨

✨ غدیر اور نوجوان: امامت کا تعارف ایک فکری نظام کے طور پر ✨

✍ تحریر: مولانا سید عمار حیدر زیدی قم

قوموں کی ترقی و زوال کا سب سے اہم محرک اُس کے نوجوان ہوتے ہیں۔ اگر نوجوانوں کے پاس فکری رہنمائی، مقصدِ حیات اور عملی نمونہ نہ ہو تو وہ یا تو گمراہی کی طرف چلے جاتے ہیں یا مغربی ثقافت کے سیلاب میں بہہ جاتے ہیں۔ اسلام نے اس خطرے سے بچاؤ کے لیے نوجوانوں کو امامت کے نظام سے جوڑا، جو صرف روحانی منصب نہیں بلکہ زندگی گزارنے کا مکمل نظام ہے۔

غدیر خم وہ لمحہ ہے جب نبی اکرم ﷺ نے صرف ایک شخص کی تعظیم نہیں کی، بلکہ امت کو ایک فکری و عملی رہبری عطا کی — یعنی امامت و ولایت کا الٰہی نظام۔

▪ غدیر: صرف تاریخی واقعہ نہیں، فکری پیغام

18 ذوالحجہ 10 ہجری کو غدیر خم کے مقام پر نبی اکرم ﷺ نے حکمِ خدا کے مطابق اعلان فرمایا:

> “من کنت مولاه فهذا علی مولاه”

(جس کا میں مولا ہوں، اس کے علی مولا ہیں)

اسی موقع پر سورہ مائدہ کی آیت نازل ہوئی:

> ﴿يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ﴾

(اے رسول! پہنچا دیجیے جو کچھ آپ پر آپ کے رب کی طرف سے نازل ہوا ہے)

— (المائدہ: 67)

اور اسی مقام پر دین کی تکمیل کا اعلان ہوا:

> ﴿…الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ…﴾

(آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا)

— (المائدہ: 3)

➤ یہ سب کچھ اگر صرف “دوستی” کے اعلان کے لیے ہوتا تو اس کی یہ عظمت نہ ہوتی۔

▪ کیا “مولیٰ” کا مطلب صرف “دوست” ہے؟ — ایک علمی تجزیہ

بعض لوگ حدیثِ غدیر میں “مولیٰ” کا مطلب صرف “دوست” لیتے ہیں تاکہ امامت کے مفہوم کو محدود کر سکیں۔ آئیے اس کا تحقیقی تجزیہ کرتے ہیں:

🔹 لغت کی روشنی میں :

ابن منظور لکھتے ہیں:

> “الْمَوْلَى: الوَلِيُّ، وَالمَالِكُ، وَالسَّيِّدُ، وَالأَخُ، وَالنَّاصِرُ”

— لسان العرب، ج 15، ص 406

“مولیٰ” کا مطلب صرف “دوست” نہیں، بلکہ “ولی، آقا، رہبر” شامل ہیں۔

🔹 سیاقِ حدیث :

نبیؐ نے غدیر میں فرمایا:

> “ألست أولى بكم من أنفسكم؟”

(کیا میں تم پر تمہارے نفسوں سے زیادہ حق نہیں رکھتا؟)

صحابہ نے کہا: “بلى”

تو رسولؐ نے فرمایا:

> “من کنت مولاه فهذا علی مولاه”

➤ اگر “مولیٰ” کا مطلب دوست ہو، تو “اولیٰ بالنفس” کی بات بے معنی ہو جاتی ہے۔

🔹 حدیثی شواہد :

حارث بن نعمان کے اعتراض پر نبیؐ نے فرمایا کہ یہ “اللہ کا حکم ہے”، اور وہ عذاب میں مبتلا ہوا — یہ سب محض “دوستی” کے اعلان پر ممکن نہیں۔

🔹 منطقی استدلال :

➤ کیا رسول اللہؐ نے اتنا بڑا اجتماع، منبر، خطبہ، بارش کے بعد سورج کے تپتے وقت میں صرف “دوستی” کا اعلان کرنے کے لیے کیا؟

➤ کیا “دوستی” کی بنیاد پر دین مکمل ہو سکتا ہے؟ (المائدہ: 3)

📌 نتیجہ:

“مولیٰ” کا صحیح مطلب “ولی، امام، رہبر” ہے — جو امت کی قیادت و رہبری کے لیے مقرر کیا گیا۔

▪ امامت: ایک فکری و عملی نظام

امامت کا مقصد صرف ظاہری رہبری نہیں بلکہ فکری رہنمائی، تہذیبی حفاظت اور عدلِ اجتماعی ہے۔

امیر المؤمنینؑ کی سیرت میں فکری نظام:

پہلو         قول/عمل

عدل        “ظلم پر خاموش رہنے والا، ظالم کا شریک ہے”

علم          “لوگوں کی قدر ان کے علم کے مطابق ہے”

سیاست    “بدترین حاکم وہ ہے جو لوگوں پر بوجھ ہو”

عبادت     “نماز بندے کو گناہوں سے روکتی ہے”

جہاد        “حق کے لیے تلوار اٹھانا عبادت ہے”

▪ نوجوان اور امامت

نوجوان وہ قوت ہے جو:

تبدیلی لا سکتی ہے

ظالم کا مقابلہ کر سکتی ہے

علم اور عمل کو جوڑ سکتی ہے

لیکن یہ تبھی ممکن ہے جب نوجوان شخصیت پرستی کے بجائے فکری پیروی کرے۔

امامت نوجوان کو:

اندھی تقلید سے نکال کر بصیرت دیتی ہے

عقیدت سے آگے جا کر شعور عطا کرتی ہے

“انقلابِ فکر” کی دعوت دیتی ہے

امام علیؑ فرماتے ہیں:

> “لا تَكُونُوا إمَّعَةً…”

(لوگوں کی اندھی پیروی نہ کرو)

— نہج البلاغہ، کلمات القصٰار

▪ غدیر کا عالمی پیغام

غدیر ہمیں سکھاتا ہے کہ:

قیادت کا معیار قبیلہ، مال یا طاقت نہیں بلکہ تقویٰ، علم اور عدل ہے

امت کی وحدت کا مرکز الٰہی قیادت ہے

امام فقط “پیشوا” نہیں، فکری محور ہے

▪ آج کے نوجوان کے لیے غدیر کا پیغام

1. غدیر کو صرف “عقیدت” کا دن نہ سمجھو، بلکہ “بصیرت” کا دن بناو

2. امامت کو ایک مکمل نظام سمجھو — صرف روحانی نہیں، فکری بھی

3. امام علیؑ کی سیرت کو بطور آئیڈیل لائف اسٹائل اپناو

4. زیارت جامعہ کبیرہ، دعائے ندبہ، نہج البلاغہ جیسے نصوص کو “زندگی کی کتاب” بناؤ

غدیر محض ایک جشن نہیں، بلکہ امتِ مسلمہ کو ایک واضح اور الٰہی قیادت کے حوالے کرنے کا دن ہے۔

آج جب دنیا نظریاتی انحراف اور فکری یلغار کا شکار ہے، نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ امامت کو بطورِ نظامِ حیات قبول کریں — تبھی وہ سچائی کے علمبردار، عدل کے داعی، اور اسلام کے فکری سپاہی بن سکتے ہیں۔

 حوالہ جات :

1. قرآن مجید: سورہ مائدہ آیت 3، آیت 67

2. نہج البلاغہ، کلمات القصٰار، خطبہ غدیریہ

3. لسان العرب، ابن منظور

4. خصائص امیر المومنین (نسائی)

5. تفسیر المیزان، علامہ طباطبائی

6. الصحیح البخاری و مسلم، حدیثِ غدیر کے شواہد

7. زیارت جامعہ کبیرہ و دعائے ندبہ

مختصر لنک: https://www.siraat-times.com/?p=1820

ٹیگز

تبصرے