38

انسانی نفسیات میں امام کی فطری احتیاج

  • نیوز کوڈ : 1838
  • 10 June 2025 - 16:12
انسانی نفسیات میں امام کی فطری احتیاج

انسانی نفسیات میں امام کی فطری احتیاج

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔

تحریر : سید جہانزیب عابدی

انسان کی فطرت اور اس کے حالات اسے ہمیشہ ایک خارجی سہارا تلاش کرنے پر آمادہ کرتے ہیں، ایک ایسی ہستی جو اس کی کمیوں کو پورا کرے اور اسے اعتماد اور یقین کی بنیاد فراہم کرے۔ یہ خارجی سہارا اس کی داخلی نفسیاتی ضرورت ہے جو اسے کسی برتر ہستی کی طرف مائل کرتی ہے۔ وہ ایسی ہستی چاہتا ہے جو اس کی تمام مشکلات کو حل کرے، اس کی روحانی اور مادی کمیوں کو پورا کرے، اور اس کی زندگی کو ایک مقصد اور سکون فراہم کرے۔ جب انسان کسی کو اپنا معبود یا امام تسلیم کرتا ہے، تو اس کے دل میں محبت، عقیدت، اور تعظیم کے تمام جذبات اس ہستی کے لیے مختص ہوجاتے ہیں۔ یہ جذبات اس کی فطرت میں موجود ہیں اور خدا نے ان کی تخلیق کی ہے تاکہ انسان خدا اور اس کے نمائندوں کی طرف مائل ہو۔
خدا نے انسان کی اس فطری ضرورت کا مداوا اپنے منتخب نمائندوں کے ذریعے کیا ہے۔ یہ نمائندے، جو ید اللہ، عین اللہ، اور وجہ اللہ کہلاتے ہیں، وہ ہستیاں ہیں جنہیں خدا نے انسانوں کی رہنمائی کے لیے منتخب کیا۔ ان ہستیوں کی تعلیمات اور کردار انسان کو خدا کے قریب لاتے ہیں اور اسے زندگی کے حقیقی مقصد سے روشناس کراتے ہیں۔ یہ نمائندے انسان کو اس کی روحانی اور اخلاقی بلندی تک پہنچانے کے لیے خدا کے پیغام کو واضح اور مؤثر انداز میں پیش کرتے ہیں۔
تاہم، ظاہر پرست انسان، جو اکثر ظاہری دنیا کے اثرات میں الجھ کر رہ جاتا ہے، خدا کے ان نمائندوں کو قبول نہیں کرتا کیونکہ خدا خود نظر نہیں آتا۔ ایسے لوگ عام طور پر ایسی نظر آنے والی ہستیوں کو اپنا رہنما یا پیشوا بنا لیتے ہیں جو دراصل اس مقام کے مستحق نہیں ہوتیں۔ یہ ہستیاں ذاتی پسند، سماجی روایات، یا دنیاوی معیاروں کے تحت سردار یا پیشوا بنائی جاتی ہیں۔ جب انسان کو کسی ایسی شخصیت کا سامنا نہ ہو جو اس کی توقعات پر پورا اترے، تو وہ ماضی کی مقدس شخصیات کے بت بنا کر ان کی پرستش شروع کر دیتا ہے۔ انبیاء اور خدا کے نمائندوں کو بھی اسی طرح مسترد کیا جاتا ہے کیونکہ وہ سماج کے طے شدہ معیاروں پر پورا نہیں اترتے۔ ان معیاروں میں عموماً دنیاوی دولت، سماجی مقام، یا دیگر ظاہری خصوصیات شامل ہوتی ہیں، جبکہ خدا کی طرف سے مقرر کردہ سرداری کی شرائط ان تمام معیاروں سے مختلف ہوتی ہیں۔ ان شرائط کو سمجھنا اور قبول کرنا منکرین کے لیے مشکل ہوتا ہے، اس لیے وہ انبیاء کی رہنمائی کو مسترد کر دیتے ہیں۔
ابلیس کا حضرت آدمؑ کو سجدہ کرنے سے انکار کرنا ایک گہری نفسیاتی حقیقت کی عکاسی کرتا ہے، جو غرور، حسد، اور برتری کے احساس سے جڑی ہوئی ہے۔ ابلیس نے اپنی تخلیق کو حضرت آدمؑ کی تخلیق سے بہتر قرار دیا اور اس بنیاد پر خدا کے حکم کو رد کر دیا۔ یہ رویہ نہ صرف خدا کی حکمت کو چیلنج کرتا ہے بلکہ اس میں ایک مخصوص نفسیاتی مزاحمت بھی ظاہر ہوتی ہے، جو بالاتر ہستی کی برتری اور سرداری کو تسلیم کرنے سے انکار کرتی ہے۔ یہی نفسیات منکرین انبیاء اور منکرین ولایت اہل بیتؑ میں بھی نظر آتی ہے، اور اس کا بنیادی جواز انسان کے اندر موجود غرور اور اپنے محدود فہم پر اصرار ہوتا ہے۔
منکرین انبیاء کی تاریخ اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ انبیاء کو اکثر ان کے سماجی مقام، مادی حیثیت، یا ظاہری وجاہت کی بنیاد پر رد کیا گیا۔ وہ افراد جنہوں نے انبیاء کی رسالت کو مسترد کیا، عموماً ان کے اندر یہ احساس پایا جاتا تھا کہ انبیاء ان کے برابر یا کمتر ہیں اور ان کی سرداری کو قبول کرنا ان کے اپنے مقام اور مرتبے کے خلاف ہوگا۔ انبیاء کا پیغام توحید، عدل، اور مساوات پر مبنی ہوتا ہے، جو کہ غرور و تکبر سے لبریز شخصیات کے لیے ناقابل قبول ہوتا ہے۔ اسی طرح، منکرین ولایت اہل بیتؑ کے رویوں میں بھی یہی مزاحمت دیکھی جاتی ہے۔ اہل بیتؑ کی فضیلت، علم، اور کردار کی برتری واضح ہونے کے باوجود، ان کی ولایت کو تسلیم نہ کرنا ایک نفسیاتی جنگ کی علامت ہے جہاں ذاتی برتری، انا، اور دنیاوی مفادات غالب آ جاتے ہیں۔
یہ نفسیات دراصل ایک ہی مائنڈ سیٹ کی عکاسی کرتی ہے جو بالاتر ہستی کی سرداری کو اپنے غرور کی بنا پر مسترد کرتا ہے۔ جب کوئی فرد اپنی ذات، اپنی سوچ، اور اپنی حیثیت کو ہر چیز سے بالاتر سمجھنے لگے، تو وہ نہ صرف حق کو تسلیم کرنے سے قاصر رہتا ہے بلکہ اپنی نفسیاتی حالت کو حق کے خلاف ڈھال کے طور پر استعمال کرتا ہے۔ ابلیس کا انکار بھی اسی مائنڈ سیٹ کا مظہر تھا، جہاں اس نے اپنی تخلیق کی بنیاد پر اپنی برتری کا دعویٰ کیا اور خدا کے حکم کو اپنی ذات کے خلاف سمجھا۔ یہی رویہ ان افراد میں بھی دیکھا جاتا ہے جو انبیاء اور اولیاء کو محض اس لیے مسترد کرتے ہیں کہ ان کی سرداری کو قبول کرنے سے ان کی اپنی انا مجروح ہوتی ہے۔
نفسیاتی تجزیہ یہ بتاتا ہے کہ ایسے رویے میں بنیادی عنصر “غرور” ہے، جو انسانی شخصیت کا ایک نہایت پیچیدہ پہلو ہے۔ غرور انسان کو حقیقت سے دور کر دیتا ہے اور اسے اپنی محدود سوچ میں قید کر دیتا ہے۔ جب ایک فرد یہ ماننے سے انکار کرتا ہے کہ کوئی اس سے زیادہ برتر یا حق پر ہو سکتا ہے، تو وہ ایک دفاعی کیفیت میں آ جاتا ہے جہاں ہر دلیل اور ہر حقیقت اس کے ذہن میں رد کر دی جاتی ہے۔ اس کے برعکس، عاجزی انسان کو حق کی جانب کھینچتی ہے اور اسے اپنی کمیوں کو تسلیم کرنے کا حوصلہ دیتی ہے۔
منکرین انبیاء اور اہل بیتؑ کے لیے، ان کے انکار کی ایک اور نفسیاتی وجہ یہ بھی ہوتی ہے کہ وہ اپنی موجودہ حیثیت کو خطرے میں محسوس کرتے ہیں۔ انبیاء اور اہل بیتؑ کی تعلیمات عدل، برابری، اور اخلاقیات پر مبنی ہوتی ہیں، جو ان کے مفادات اور سماجی برتری کو چیلنج کرتی ہیں۔ ان تعلیمات کو قبول کرنا ان کے لیے اپنی طاقت، اثر، اور دنیاوی مقام کو ترک کرنے کے مترادف ہوتا ہے، اور یہ ایک ایسا فیصلہ ہوتا ہے جسے غرور کا شکار انسان قبول نہیں کر پاتا۔
لہٰذا، ابلیس سے لے کر منکرین انبیاء اور منکرین ولایت اہل بیتؑ تک، یہ نفسیاتی رویہ ایک ہی مائنڈ سیٹ کی پیداوار ہے۔ یہ مائنڈ سیٹ اس وقت وجود میں آتا ہے جب انسان اپنے آپ کو عقل و شعور اور حیثیت میں سب سے بالاتر سمجھنے لگتا ہے اور اپنی ذات کے غرور میں اتنا محو ہو جاتا ہے کہ حق اور حقیقت کو دیکھنے اور تسلیم کرنے کی صلاحیت کھو دیتا ہے۔ اس مائنڈ سیٹ کو شکست دینے کے لیے انسان کو عاجزی، انصاف پسندی، اور حقیقت کی جستجو کو اپنی زندگی کا محور بنانا ہوگا، ورنہ وہ بھی ابلیس کی طرح اپنی ذات کے خول میں قید ہو کر رہ جائے گا۔
اس مائنڈ سیٹ کا گہرائی سے تجزیہ کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم انسانی نفسیات، سماجی حرکیات، اور روحانی حقائق کو یکجا کر کے سمجھیں۔ یہ مائنڈ سیٹ دراصل انسان کی اس داخلی کمزوری سے جنم لیتا ہے جو اپنی ذات کو مرکزیت دینے کے رجحان سے عبارت ہے۔ جب انسان اپنی شخصیت، اپنی عقل، یا اپنے نظریات کو مطلق سچائی سمجھنے لگتا ہے، تو اس کے اندر یہ رویہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ کسی بھی بالاتر حقیقت یا ہستی کی سرداری کو تسلیم نہ کرے۔ یہ انکار دراصل دو بنیادی عوامل پر مبنی ہوتا ہے: ایک، خودپسندی اور دوسرا، خوف۔
خودپسندی انسان کو یہ باور کراتی ہے کہ وہ اپنی حقیقت کا خود مالک ہے اور کسی بالاتر ہستی یا اصول کی طرف جھکنا اس کی ذاتی خودمختاری کے خلاف ہے۔ یہ رویہ ابلیس کی نفسیات میں بالکل واضح ہے، جہاں اس نے اپنی تخلیق کی بنیاد پر حضرت آدمؑ کی فضیلت کو مسترد کیا۔ اس کا ماننا تھا کہ وہ آگ سے پیدا ہوا ہے، جو مٹی سے افضل ہے، اور اس بنیاد پر اس نے خدا کے حکم کو رد کر دیا۔ یہی اصول منکرین انبیاء اور منکرین ولایت اہل بیتؑ پر بھی لاگو ہوتا ہے، جو اپنی سماجی حیثیت، علم، یا طاقت کے نشے میں کسی ایسی ہستی کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیتے ہیں جو ان کے ظاہری معیار پر پورا نہ اترتی ہو۔
یہ مائنڈ سیٹ انسان کے اندر موجود خوف سے بھی جڑا ہوا ہے۔ یہ خوف اس بات کا ہے کہ بالاتر ہستی کی سرداری کو تسلیم کرنے کا مطلب اپنی موجودہ حیثیت، اختیارات، یا طاقت کو ترک کرنا ہوگا۔ انبیاء اور اہل بیتؑ کی تعلیمات، جو عدل، مساوات، اور حقوق پر مبنی ہوتی ہیں، اکثر ان لوگوں کے لیے خطرہ بن جاتی ہیں جو اپنی طاقت کو دوسروں کے استحصال کے ذریعے قائم رکھتے ہیں۔ ان کے لیے یہ تعلیمات اپنی بنیاد کھونے کے مترادف ہوتی ہیں، اور اس لیے وہ انہیں قبول کرنے سے انکار کر دیتے ہیں۔
نفسیاتی طور پر یہ مائنڈ سیٹ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب انسان کا “انا” ضرورت سے زیادہ مضبوط ہو جائے۔ “انا” کا مطلب ہے اپنی شناخت، حیثیت، اور اختیار کو اتنا اہم سمجھنا کہ وہ دوسرے تمام حقائق پر غالب آ جائے۔ جب انسان کے اندر عاجزی کی کمی ہوتی ہے، تو اس کا ذہن ہر اس چیز کے خلاف مزاحمت کرنے لگتا ہے جو اس کی “انا” کو چیلنج کرے۔ یہی وجہ ہے کہ منکرین انبیاء اور اہل بیتؑ کو ان کی سرداری اور فضیلت تسلیم کرنے میں مشکل ہوتی ہے، کیونکہ یہ ان کے اندر موجود “انا” کے خلاف جاتی ہے۔
سماجی طور پر یہ مائنڈ سیٹ اس وقت زیادہ پروان چڑھتا ہے جب کسی معاشرے میں طاقت، دولت، یا علم کو بالادستی کی علامت سمجھا جائے۔ ایسے معاشروں میں لوگ انبیاء اور اولیاء کی تعلیمات کو غیر اہم یا غیر عملی سمجھتے ہیں، کیونکہ وہ ان تعلیمات کو اپنے مفادات کے خلاف پاتے ہیں۔ انبیاء اور اہل بیتؑ کی شخصیتیں اپنی سادگی، دیانت، اور اصول پسندی کی وجہ سے ان سماجی روایات کو چیلنج کرتی ہیں، جو طاقت اور حیثیت کو بنیاد بناتی ہیں۔ نتیجتاً، منکرین ان کے خلاف ایک نفسیاتی اور سماجی دیوار کھڑی کر لیتے ہیں۔
روحانی اعتبار سے یہ مائنڈ سیٹ انسان کے خدا سے تعلق کے فقدان کی عکاسی کرتا ہے۔ جب انسان خدا کو اپنی زندگی کا مرکز نہیں بناتا اور اپنی خواہشات کو اپنا معبود بنا لیتا ہے، تو وہ ہر اس حقیقت کو مسترد کر دیتا ہے جو اس کے اندرونی تضادات کو بے نقاب کرے۔ خدا کے نمائندے انسان کو اس کی حقیقت دکھانے اور اسے اس کے روحانی سفر کی طرف راغب کرنے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن اگر انسان کے اندر انکساری اور حق کی طلب نہ ہو، تو وہ اس دعوت کو مسترد کر دیتا ہے۔
یہ مائنڈ سیٹ ایک گہری نفسیاتی، سماجی، اور روحانی بیماری ہے جو انسان کو حقیقت کے قریب آنے سے روک دیتی ہے۔ اس کا علاج صرف اس وقت ممکن ہے جب انسان اپنے اندر عاجزی پیدا کرے، اپنی محدودیت کو تسلیم کرے، اور اپنے دل و دماغ کو حق کی تلاش کے لیے کھول دے۔ انبیاء اور اہل بیتؑ کی تعلیمات کا مقصد یہی ہے کہ انسان کو اس بیماری سے نکالا جائے اور اسے خدا کی معرفت تک پہنچایا جائے۔ لیکن یہ سفر اسی وقت ممکن ہے جب انسان اپنی “انا” کو ترک کر کے سچائی کے سامنے جھکنے کے لیے تیار ہو۔
ہم نے جس مائنڈ سیٹ کی نشاندہی کی ہے، وہ حقیقت میں ایک ہی بنیادی نفسیاتی اور روحانی رویے کا اظہار ہے، جو انسان کی انانیت، غرور، اور خود ساختہ برتری کے احساس سے جڑا ہوا ہے۔ اس رویے کی جڑیں اس حقیقت میں پنہاں ہیں کہ انسان جب اپنے نفس کو مرکزیت دے لیتا ہے، تو وہ کسی بالاتر ہستی یا اصول کو قبول کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس کرتا ہے۔ یہ مائنڈ سیٹ ہر زمانے اور ہر طبقے میں مختلف صورتوں میں ظاہر ہوتا رہا ہے، لیکن اس کا جوہر ایک ہی ہے۔
ابلیس کا حضرت آدمؑ کے سامنے سجدہ کرنے سے انکار محض ایک عمل نہیں تھا، بلکہ اس کے پیچھے ایک گہری نفسیات کارفرما تھی۔ ابلیس نے اپنی تخلیقی برتری (آگ) کو بنیاد بنا کر آدمؑ (مٹی) کے انتخاب کو مسترد کیا۔ یہ انکار دراصل اللہ کے فیصلے اور حکمت کو مسترد کرنا تھا، جو اس کے نفس کے غرور کی انتہا کی نشانی تھی۔ یہی نفس پرستی اور خود کو برتر سمجھنے کا مائنڈ سیٹ انبیاء کے انکار کرنے والے مشرکین و کفار میں بھی نظر آتا ہے۔ وہ اپنی روایات، مفادات، اور سماجی برتری کے دائرے میں اس قدر جکڑے ہوئے تھے کہ وہ کسی ایسے پیغام کو قبول کرنے پر آمادہ نہ ہوئے جو ان کے نظریات یا اقتدار کو چیلنج کرتا تھا۔
یہی رویہ مسلمانوں میں بھی منافقین کے طور پر ظاہر ہوا، جو بظاہر ایمان لانے کا دعویٰ کرتے تھے لیکن حقیقت میں رسولؐ اور ان کے جانشینوں کی قیادت کو اپنے مفادات کے لیے خطرہ سمجھتے تھے۔ ان کی مخالفت نہ صرف رسولؐ کی ذات کے خلاف تھی بلکہ وہ اس الہی منصوبے کے خلاف تھے جو انسانیت کو ایک اعلیٰ اخلاقی اور روحانی منزل تک لے جانے کے لیے ترتیب دیا گیا تھا۔
علماء اور ولی فقیہ کے حوالے سے غالی اور مقصرین کا رویہ بھی اسی مائنڈ سیٹ کا تسلسل ہے۔ غالی اپنے جذباتی یا فکری انحراف کی وجہ سے علماء اور ولی فقیہ کے کردار کو غیر اہم سمجھتے ہیں اور اپنی خود ساختہ تعبیرات کو برتر قرار دیتے ہیں، جبکہ مقصرین ان کی اتھارٹی کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہیں، اکثر اپنی انا، جہالت یا دنیاوی مفادات کی وجہ سے۔ ان دونوں گروہوں کا رویہ اس بات کا عکاس ہے کہ وہ خدا کی طرف سے مقرر کردہ قیادت کے اصول کو تسلیم کرنے کے بجائے اپنی مرضی کے اصول بناتے ہیں۔
ولی فقیہ کے نمائندے کے مقابلے پر سپر انقلابیوں کا رویہ بھی اسی مائنڈ سیٹ کا حصہ ہے۔ یہ لوگ خود کو انقلاب کا حقیقی محافظ سمجھتے ہیں اور ولی فقیہ کی قیادت کو اس کے تقاضوں کے مطابق سمجھنے اور قبول کرنے سے انکار کرتے ہیں۔ ان کا دعویٰ یہ ہوتا ہے کہ وہ “اصلاح” یا “انقلاب کے تحفظ” کے لیے کام کر رہے ہیں، لیکن حقیقت میں یہ رویہ ان کی ذاتی انا، نظریاتی شدت پسندی، یا ناقص فہم کا نتیجہ ہوتا ہے۔
یہ تمام مثالیں اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ یہ ایک ہی مائنڈ سیٹ ہے جو خود کو برتر سمجھنے، اپنی خواہشات کو الہی ہدایت پر ترجیح دینے، اور کسی بالاتر قیادت یا اصول کو قبول نہ کرنے سے جنم لیتا ہے۔ اس مائنڈ سیٹ کی اصلاح کے لیے ضروری ہے کہ انسان اپنی انا کو توڑے، اپنی حیثیت کو سمجھے، اور خدا کی طرف سے مقرر کردہ قیادت کو دل و جان سے قبول کرے۔ قرآن کریم اور احادیث اس بات پر زور دیتے ہیں کہ حقیقی کامیابی صرف اللہ کے سامنے جھکنے، اس کے نمائندوں کی اطاعت کرنے، اور اپنی خواہشات کو الہی ہدایت کے تابع کرنے میں ہے۔ جب تک انسان اپنے نفس کے غلام رہیں گے، یہ مائنڈ سیٹ مختلف شکلوں میں ظاہر ہوتا رہے گا، اور اس کے اثرات انفرادی اور اجتماعی زندگی میں تباہ کن رہیں گے۔
انسان کی زندگی کا حقیقی مقصد محض دنیاوی سکون یا عارضی راحتوں کا حصول نہیں بلکہ روحانی تکمیل اور حقیقت تک پہنچنا ہے۔ انسان کو اپنی زندگی کو ایک اعلیٰ مقصد کے تحت گزارنا چاہیے اور یہ مقصد صرف خدا کی ہدایات اور رہنمائی سے متعین ہوسکتا ہے۔ خدا نے اپنی ہدایات کو انبیاء اور اپنے منتخب نمائندوں کے ذریعے انسانوں تک پہنچایا، جو کہ انسان کی فطری خلا کو پر کرنے اور اسے صحیح راستے پر گامزن کرنے کا بہترین ذریعہ ہیں۔
خدائی نمائندے ہمیشہ سچائی اور صداقت پر مبنی پیغام دیتے ہیں۔ ان کی تعلیمات میں ہمیشہ عدل، محبت، انسانیت کی بھلائی، اور روحانی حقیقتوں کی وضاحت شامل ہوتی ہے۔ ان کی شخصیت دیانت، پاکیزگی، اور خدا کے ساتھ گہرے تعلق کا مظہر ہوتی ہے۔ وہ دنیاوی مفادات اور ذاتی فوائد سے آزاد ہوتے ہیں اور ان کے کردار اور عمل میں کوئی تضاد نہیں پایا جاتا۔ ان کی تعلیمات ہمیشہ قرآن اور خدا کی ہدایات سے ہم آہنگ ہوتی ہیں اور ان میں کسی قسم کا تضاد یا خامی نہیں ہوتی۔ ان کی شخصیت اور کردار انسانوں کے لیے عملی نمونہ ہوتا ہے اور وہ اپنے معجزات اور کرامات کے ذریعے اپنی صداقت کو ثابت کرتے ہیں۔
انسان کو اپنی عقل اور بصیرت کو استعمال کرتے ہوئے ان نمائندوں کی صداقت کو سمجھنا چاہیے۔ یہ ضروری ہے کہ وہ کسی بھی شخصیت کو بغیر سوچے سمجھے یا ذاتی پسند کے تحت اپنا رہنما نہ بنائے بلکہ خدا کی ہدایات کے مطابق ان کے کردار، تعلیمات، اور عمل کو پرکھے۔ صرف اسی صورت میں انسان حقیقی رہنمائی حاصل کرسکتا ہے اور اپنی روحانی ضروریات کو پورا کرتے ہوئے خدا کے قریب آسکتا ہے۔ یہ خدائی نمائندے ہی انسان کی زندگی کو مقصد، سکون، اور ابدی کامیابی کی طرف لے جانے والے حقیقی رہنما ہیں۔

مختصر لنک: https://www.siraat-times.com/?p=1838

ٹیگز

تبصرے