بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔
تحریر : سید جہانزیب عابدی
آج کے دور میں دین سے وابستگی دو بڑے رجحانات میں تقسیم ہو چکی ہے۔ ایک طرف وہ افراد ہیں جو دین پر عمل کو محض ذاتی نجات، ثواب کمانے، اور آخرت کے انفرادی حساب کتاب تک محدود رکھتے ہیں۔ ان کی عبادات، صدقات، روزے، مجالس، ذکر و دعا سب کچھ اس نیت سے ہوتا ہے کہ انہیں جنت ملے، ان کا عذاب دور ہو، ان کی مغفرت ہو جائے۔ یہ سوچ اپنی جگہ ایک فطری آغاز ہے، لیکن اگر انسان صرف اسی مرحلے میں رک جائے اور دین کے اعلیٰ تر اہداف تک نہ پہنچے تو وہ اس پیغامِ وحی کے ساتھ انصاف نہیں کرتا جو انسان کو فقط نیک بننے کے لیے نہیں بلکہ “صالح” بننے کے لیے آیا ہے—یعنی وہ شخص جو اپنے ماحول میں اصلاح لانے کی طاقت و جرأت رکھتا ہو۔
دوسری طرف وہ لوگ ہیں جنہوں نے دین کو محض ذاتی نجات کا ذریعہ نہیں سمجھا بلکہ ایک نظامِ عدل کے قیام، اجتماعی بیداری، اور فاسد طاقتوں کے مقابلے میں ایک نظریۂ حیات کے طور پر اپنایا ہے۔ ان کے لیے عبادت صرف نماز کی ادائیگی نہیں بلکہ طاغوت کے خلاف قیام بھی ہے۔ ان کے روزے فقط بھوک پیاس کا نام نہیں بلکہ دنیاوی خواہشات اور استعماری نظام سے کنارہ کشی کا عہد ہیں۔ ان کی دعائیں فقط مغفرت کے لیے نہیں بلکہ امت کی نجات اور حق کی حکومت کے قیام کے لیے ہوتی ہیں۔ یہ لوگ ثواب کو اپنی منزل نہیں بلکہ راہ کے ایک ذریعہ کے طور پر دیکھتے ہیں۔ ان کا نصب العین وہ معاشرہ ہے جہاں امام مہدیؑ کا نظام نافذ ہو، جہاں ظلم نہ ہو، اور جہاں انسان، انسانیت کے ساتھ جیے۔
انفرادی عبادات سے وابستہ افراد کا دائرہ اکثر “میں” کے گرد گھومتا ہے: میری مغفرت، میری نماز، میرا روزہ، میرے اعمال۔ جبکہ اجتماعی شعور رکھنے والے افراد “ہم” کی زبان بولتے ہیں: ہماری امت، ہمارا معاشرہ، ہماری ذمہ داری، ہمارا امام۔ یہی فرق دین کی گہرائی اور اس کے سطحی فہم کے درمیان حدِ فاصل ہے۔ امام حسینؑ کربلا میں فقط اپنے لیے جنت نہیں چاہتے تھے، وہ ایک فاسد نظام کو للکارنے، امت کو جگانے، اور عدل کو قائم کرنے نکلے تھے۔ اگر اُن کے پیروکار صرف ثواب کے طلبگار بن کر رہ جائیں تو وہ درحقیقت اُن کے پیغام کو محدود کر رہے ہیں۔
جو لوگ صرف انفرادی نجات کی فکر میں ڈوبے رہتے ہیں، وہ اکثر دشمن کے نظام کو پہچاننے سے قاصر رہتے ہیں۔ وہ اپنی عبادات میں مشغول رہ کر سمجھتے ہیں کہ وہ دین کی اصل روح کو زندہ رکھے ہوئے ہیں، لیکن وہ اس بات سے بے خبر ہوتے ہیں کہ دشمن ان کے معاشروں، افکار، نسلوں، اور معیشت پر قابض ہو چکا ہے۔ وہ طاغوت کو فقط تاریخی قصے کی حد تک سمجھتے ہیں، حالانکہ طاغوت آج بھی زندہ ہے، مختلف روپ میں، مختلف اداروں میں، اور عالمی نظام کی شکل میں۔ ان سے مختلف وہ لوگ ہیں جنہوں نے دین کو زمانے کے تناظر میں سمجھا ہے، جو جانتے ہیں کہ امام مہدیؑ کا ظہور ایک عالمی نظام عدل کے قیام سے مشروط ہے، اور وہ اس کے لیے خود کو تیار کرتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ دعا اور عمل، انتظار اور قیام، عبادت اور بغاوت، سب کو ایک ساتھ چلنا ہوگا۔
لہٰذا، صرف انفرادی ثواب کی نیت رکھنے والا شخص اگر دین کے اجتماعی پہلو سے غفلت برتتا ہے تو وہ دین کی آفاقی روح سے محروم رہتا ہے۔ جبکہ وہ لوگ جو دین کو فقط نجاتِ فردی کا راستہ نہیں بلکہ نجاتِ انسانی کا ضابطہ مانتے ہیں، وہی اصل میں دین کے وارث ہیں۔
رسول اکرم ﷺ کی وہ مشہور حدیث کہ “جو شخص مسلمانوں کے امور کی فکر نہیں کرتا، وہ مسلمان نہیں” نہ صرف اسلامی معاشرت کی بنیاد کو بیان کرتی ہے بلکہ ان تمام فرد پرستی کے رجحانات کو بھی رد کر دیتی ہے جنہوں نے دین کو صرف ذاتی نجات اور فردی عبادات تک محدود کر دیا ہے۔ اس حدیث میں اسلام کی وہ اجتماعی روح جھلکتی ہے جس کے بغیر ایمان کامل ہو ہی نہیں سکتا۔ جو شخص اپنی نماز، روزہ، دعا، تسبیح، زیارت اور توسل میں مشغول ہو مگر مسلمانوں کی معاشرتی، تعلیمی، ثقافتی، اقتصادی اور سیاسی زبوں حالی کی طرف سے آنکھ بند کیے رکھے، وہ دراصل دین کے صرف ایک پہلو کو تھام کر باقی پہلوؤں کو نظر انداز کر رہا ہے، اور ایسا دین ادھورا ہے، ناقص ہے، اور روحِ اسلام سے خالی ہے۔
اسلام ایک جامع دین ہے جو صرف روحانیت، خلوت، اور انفرادی ریاضت کا دین نہیں بلکہ ایک زندہ معاشرہ قائم کرنے کا نظامِ حیات ہے۔ دین کا مزاج یہ ہے کہ وہ انسان کو نہ صرف تقویٰ سکھاتا ہے بلکہ اسے ایسا صالح فرد بناتا ہے جو دنیا میں عدل، اصلاح، خدمت اور قیادت کے لیے کھڑا ہو۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے عبادت کا مفہوم صرف نماز و روزہ تک محدود نہیں رکھا، بلکہ تعلیم، عدالت، صحت، ثقافت، کھیل، معیشت اور حکومت جیسے شعبوں میں بھی کام کو عبادت کا درجہ دیا ہے بشرطیکہ وہ اخلاص اور امت کی بھلائی کے جذبے کے ساتھ کیا جائے۔
درحقیقت، مسلمانوں کی اجتماعی فلاح اور نظامِ عدل کے قیام کے لیے کی جانے والی کوشش، انفرادی عبادات سے کہیں زیادہ وزنی اور اہم ہے۔ ایک شخص اگر پوری رات شب بیداری کرے، دعائیں کرے، توسل کرے، اور تہجد کے نوافل ادا کرے، لیکن وہ کسی ظالم نظام کے خلاف خاموش رہے، کسی فاسد حکومت کی طرف سے مظلوموں پر ڈھائے جانے والے مظالم پر لب کشائی نہ کرے، یا تعلیم، صحت، اور معیشت جیسے میدانوں میں امت کی زبوں حالی پر کوئی اقدام نہ کرے، تو اس کی عبادت میں وہ تاثیر کہاں ہوگی جو ایک مصلح اور قائد کی جدوجہد میں موجود ہے؟ جب امام حسینؑ نے میدانِ کربلا میں قیام کیا تو وہ نماز بھی تھی، دعا بھی تھی، اور قربانی بھی، لیکن اس کے مرکز میں حکومتِ الٰہیہ کا احیاء اور ظلم کے نظام کا انکار تھا۔ یہی قیام، دراصل نماز کی روح تھا۔ چنانچہ نماز میں “قیام” کا جو عمل ہے، وہ فقط جسمانی سیدھ کا نام نہیں بلکہ طاغوت کے خلاف قیام کا استعارہ ہے۔ شیطان کے خلاف یہ عملی قیام اس وقت حقیقت بنتا ہے جب مسلمان صرف تسبیح کے دانے نہ گنیں بلکہ زمانے کے ابلیسی نظاموں کے خلاف اپنی طاقت مجتمع کریں۔
اسلامی حکومت دراصل وہ بنیادی ستون ہے جو تمام دیگر معاشرتی اداروں کو منظم کرتا ہے۔ ایک عادل، مومن، اور الٰہی حکومت تعلیم کو ہدایت سے جوڑتی ہے، معیشت کو ظلم و استحصال سے بچاتی ہے، ثقافت کو فحاشی اور اغیار کی تہذیب سے محفوظ رکھتی ہے، اور صحت و کھیل جیسے میدانوں کو انسانی ارتقاء کا ذریعہ بناتی ہے۔ پس جو شخص اسلامی حکومت کے قیام کے لیے کوشش کرتا ہے، وہ صرف ایک سیاسی عمل میں شریک نہیں بلکہ ایک ہمہ جہت عبادت میں مصروف ہے۔ یہ کوشش نماز، روزہ، زکات، حج اور جہاد کا عملی امتزاج بن جاتی ہے، کیونکہ وہ صرف اپنے لیے نہیں بلکہ امت کی فلاح، نسلوں کی رہنمائی، اور دینِ خدا کے نفاذ کی سعی کر رہا ہے۔
لہٰذا وہ لوگ جو دین کو صرف فردی عبادات اور ثواب تک محدود سمجھتے ہیں، وہ نہ صرف دین کے اجتماعی پیغام سے محروم ہیں بلکہ اس عظیم اجروثواب سے بھی محروم رہتے ہیں جو امت کی خدمت اور نظامِ حق کے قیام میں پوشیدہ ہے۔ دین کے سچے پیروکار وہی ہیں جو انفرادی طہارت کے ساتھ اجتماعی طغیان کا بھی مقابلہ کرتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ “اقیموا الصلوٰۃ” کا حقیقی مفہوم اس وقت ظاہر ہوتا ہے جب نماز صرف عبادت نہ ہو بلکہ ایک انقلاب کا پیش خیمہ بنے، جب مسجد صرف سجدے کی جگہ نہ ہو بلکہ فکر و بیداری کا مرکز بنے، اور جب دین فقط قبر تک نہ ہو بلکہ حکومت تک پہنچے۔ یہی دین کی اصل روح ہے، یہی رسولؐ کا پیغام ہے، اور یہی امام مہدیؑ کے ظہور کی تمہید ہے۔ ایسے لوگ جو سماجی نظاموں اور ان کے مرکزی نظام سیاست و حکومت کیلئے جدوجہد کرتے ہیں امام مہدیؑ کے سچے منتظر کہلانے کے حقدار ہیں، کیونکہ وہ ظہور کے لیے فقط دعائیں نہیں مانگتے بلکہ زمین پر اس کے لیے راہ بھی ہموار کرتے ہیں۔
