33

سوشل میڈیا کا جنون اور  ایمان سے دوری کا خونی انجام!! 

  • نیوز کوڈ : 1844
  • 10 June 2025 - 22:24
سوشل میڈیا کا جنون اور  ایمان سے دوری کا خونی انجام!! 

سوشل میڈیا کا جنون اور ایمان سے دوری کا خونی انجام!!

تحریر:مرتضی حلیمی

اللہ تعالیٰ نے انسان کو عقل و فکر Intellect and Wisdom کی نعمت سے نوازا اور ہر معاملے میں عدل و انصاف Justice and Fairness کی راہ دکھائی۔ لیکن جب انسان اپنے خالق کے بنائے ہوئے فطری اقدار Natural Values کو چھوڑ کر نفسانی خواہشات  اور بے لگام آزادی Unchecked Freedom کے پیچھے بھاگتا ہے، تو ایسے ہی المناک واقعات جنم لیتے ہیں۔ چترال کی سوشل میڈیا سے متاثر بہن ثنا یوسف کا قتل کوئی غیرت یا مذہبی جنون Religious Extremism کا نتیجہ نہیں، بلکہ سوشل میڈیا کی رنگین محفلوں، لبرلزم Liberalism کے فریب اور دین سے دوری کا شاخسانہ ہے۔ 

 جب “معصوم تفریح” خون میں بدل جائے

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا حکم ہے: 

“قُلْ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ یَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِہِمْ” (النور: 30) 

*”مومن مردوں سے کہو کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں۔”

لیکن آج کا نوجوان انسٹاگرام، ٹک ٹاک، فیس بک، یوٹیوب جیسی پلیٹ فارمز پر اجنبی عورتوں/مردوں کی تصاویر اور ریلز کو “معصوم تفریح Innocent Fun سمجھتا ہے، حالانکہ یہ نظروں کی بدفعلی  ہے جو دل میں بیماری پیدا کرتی ہے۔ قاتل “عمر” نے بھی اسی گمراہ کن ماحول میں پروان چڑھ کر اپنی نفسانی خواہش کو محبت کا نام دے دیا، اور جب اسے رد کیا گیا تو شیطانی وسوسے  نے اسے قتل پر اکسایا۔ 

 “میرا جسم، میری مرضی” کا خونی نتیجہ

لبرل طبقہ جس آزادیٔ نسواں Women’s Empowerment کا نعرہ لگاتا ہے، وہ درحقیقت عورت کو شیطان اور شیطان صفت درندوں  کے پنجے میں دھکیلنے کا راستہ ہے۔ اسلام نے عورت کو عزت  دی، پردہ  اور حیا  کا حکم دیا تاکہ وہ محفوظ رہے۔ مگر لبرلزم Liberalism نے عورت کو “پبلک پراپرٹی Public Property بنا دیا، جس کی وجہ سے آج ہر گھر میں بہن بیٹی کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس اجنبی مردوں کی نگاہوں کا نشانہ بنتے ہیں۔ ثنا کا قاتل بھی اسی کلچر Culture کا شکار تھا جسے لبرل میڈیا معصوم دوستی Innocent Friendship بتاتا ہے۔ 

  حدود اللہ کو ٹھکرانے کا انجام

سورۃ البقرہ میں اللہ کا فرمان ہے: 

“وَ مَن یَّتَعَدَّ حُدُوْدَ اللّٰہِ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَہٗ” (البقرہ: 229) 

“جو اللہ کی حدوں سے تجاوز کرے گا، وہ اپنے آپ پر ظلم کرے گا۔”

جب معاشرہ اللہ کی مقرر کردہ حدود Divine Boundaries جیسے مرد و زن کا آزادانہ اختلاط Free Mixingپردہ Hijab کی عدم پابندی اور نکاح Marriage جیسی سنتوں کو ترک کر دیتا ہے، تو ظلم، جنون اور قتل جیسے واقعات عام ہوجاتے ہیں۔ قاتل نے جس “یک طرفہ محبت One-Sided Love  کے جنون میں ثنا کو قتل کیا، وہ درحقیقت بے حیائی Immodesty کے کلچر کی پیداوار تھا، نہ کہ اسلامی تعلیمات کا۔ 

. لبرل دوغلہ پن: مذہب کو مورد الزام ٹھہرانے کی سازش

افسوس! لبرل میڈیا ہر واقعے کو مذہبی انتہا پسندی Religious Extremism سے جوڑ دیتا ہے، مگر جب کوئی سیکولر کلچر Secular Culture  کا شکار نوجوان قتل کرے تو خاموش ہو جاتا ہے۔ کیا یہ **منافقت Hypocrisy نہیں؟ 

کیا انہوں نے کبھی سوشل میڈیا کے زہر Toxicity of Social Media پر بات کی؟ 

کیا انہوں نے لڑکیوں کو بے پردہ کرانے والے فیشن ایبل ٹرینڈز Immodest Fashion Trends) پر سوال اٹھایا؟ 

کیا انہوں نے والدین کی لاپرواہی Parental Negligence پر تنقید کی جو بچیوں کو انٹرنیٹ کی بے لگام آزادی دے کر خطرے میں ڈالتے ہیں؟ 

نہیں! بلکہ وہ تو حیا و عصمت  کے اسلامی تصور کو ہی نشانہ بناتے ہیں، حالانکہ اگر ثنا یوسف اور اس کا قاتل دونوں دین کی پابندی Following Islamic Teachings کرتے، تو یقیناً یہ سانحہ پیش نہ آتا۔ 

 حل کیا ہے؟ دین اسلام کی طرف واپسی! 

اس طرح کے واقعات کا واحد علاج یہ ہے کہ: 

والدین اپنی اولاد کے سوشل میڈیا استعمال پر نظر رکھیں۔ 

نوجوانوں کو حلال تعلقات یعنی نکاح Marriage کی ترغیب دی جائے۔

لڑکیوں کو پردہ اور عفت کی تعلیم دی جائے۔ 

معاشرے کو سمجھایا جائے کہ آزادی Freedom کا مطلب بے راہ روی Immorality نہیں، بلکہ اللہ کی حدود میں رہ کر پاکیزہ زندگی گزارنا ہے۔

ثنا یوسف کا قتل غیرت نہیں، گمراہی  کا نتیجہ تھا۔ یہ سوشل میڈیا کی تاریک دنیا، لبرل اقدار Liberal Values کی بے راہوی اور دین سے دوری کا المیہ ہے۔ اسے مولوی یا اسلام کے کھاتے میں ڈالنا سراسر زیادتی ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنے گھروں کو قرآن و سنت کی روشنی سے منور کریں، ورنہ ایسے واقعات کا سلسلہ رکے گا نہیں۔ 

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

وَ مَنْ أَعْرَضَ عَنْ ذِکْرِیْ فَإِنَّ لَہٗ مَعِیْشَۃً ضَنْکًا” (طہ: 124) 

“اور جو میری یاد (احکامات) سے منہ موڑے گا، اس کی زندگی تنگ کر دی جائے گی۔”

والدین اور نوجوانوں کے نام ایک اہم پیغام! 

“حادثے سے پہلے احتیاط کریں! 

حق فاؤنڈیشن Haq Foundation کی طرف سے سمر وکیشنل پروگرام Summer Vocational Program کا اہتمام کیا جا رہا ہے، جس میں ممتاز علماء  کے زیر نگرانی نوجوانوں کی اخلاقی و دینی تربیت Moral and Religious Training کی جائے گی۔ 

والدین! خبردار ہو جائیں: اگر آپ نے اپنے بچوں کی صحیح تربیت  نہ کی، تو ایسے دل دکھانے والے واقعات آپ کے گھر بھی آ سکتے ہیں۔ 

👉 ابھی حق فاؤنڈیشن کے سوشل میڈیا کے پیچیز میں شامل ہوں اور اپنے خاندان کو اخلاقی تباہی سے بچائیں۔

جوانوں میں کئی اہم نفسیاتی مشکلات Mental Health Issues پائی جاتی ہیں، جن میں سے چند نمایاں ہیں

یہ مسائل جوانوں کی ذہنی صحت، تعلیم اور سماجی زندگی پر گہرا اثر ڈالتے ہیں۔ ان کا بروقت علاج اور مشورہ ضروری ہے۔

.ڈپریشن Depression– اداسی، ناامیدی اور زندگی سے لگاوٹ ختم ہونا۔

. اضطراب Anxiety– بے چینی، پریشانی اور خوف کا شدید احساس۔ 

. تناؤ Stress – پڑھائی، نوکری یا تعلقات کے دباؤ کی وجہ سے ذہنی دباؤ۔

. خود اعتمادی کی کمی Low Self-Esteem – اپنی صلاحیتوں پر شک اور خود کو کمتر سمجھنا۔

. نیند کے مسائل Sleep Disorders– بے خوابی یا ضرورت سے زیادہ نیند۔

. کھانے کے disorder Eating Disorders – جیسے anorexia یا bulimia۔ 

. منشیات کی لت Substance Abuse – نشے کی عادت سے ذہنی اور جسمانی صحت کا بگڑنا۔ 

. سماجی تنہائی Social Isolation – لوگوں سے دوری اور تنہائی پسندی۔

. بے مقصدیت کا احساس Existential Crisis– زندگی کے مقصد پر سوالات اور مایوسی۔ 

. تعلقات کے مسائل Relationship Issues – رومانوی، خاندانی یا دوستوں کے ساتھ کشمکش۔ 

نوجوانوں کی نفسیاتی و ذہنی مشکلات کا حل دین اسلام کی روشنی میں پیش کر رہے ہیں۔ اسلام نے ہمیں توکل صبر نماز ذکر و دعا، اور صحيح سماجی تعلقات جیسے زریعے دیے ہیں جو ان تمام مسائل کا جامع علاج ہیں۔

ہمارے بچوں کو نفس امارہ کے شر سے محفوظ فرما،

انہیں سوشل میڈیا کے فتنوں سے بچا،

اور ان کے دلوں میں اپنے رسول ﷺ کی سنت کی محبت پیدا فرما۔

مختصر لنک: https://www.siraat-times.com/?p=1844

ٹیگز

تبصرے