بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم۔
تحریر : سید جہانزیب عابدی
اگر غدیر کو یاد رکھا جاتا، یعنی اس دن رسول خدا صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی اعلان کردہ ولایتِ علیؑ کو امت نے تسلیم کر لیا ہوتا اور اس کے بعد تمام آئمہ علیہم السلام یکے بعد دیگرے خلافت و حکومت کے منصب پر فائز ہوتے، تو دنیا کی تاریخ مکمل طور پر مختلف ہوتی۔ وہ دنیا جو آج ظلم، استحصال، طبقاتی فرق، جاہلانہ نظام، استعماری طاقتوں اور لالچ پر مبنی ترقی کی بنیاد پر کھڑی ہے، ایک ایسی دنیا ہوتی جو عدل، عقل، علم، روحانیت اور توازن پر قائم ہوتی۔
سیاسی میدان میں دنیا ایک الٰہی سیاست کا مشاہدہ کرتی، جہاں حکومت طاقت، فریب اور اکثریت کے کھیل کی بجائے حق، تقویٰ اور علم پر مبنی ہوتی۔ امام علیؑ کی سیرت میں جو سیاسی بصیرت، عدل گستری، اقرباء پروری سے اجتناب، اور محروم طبقات کی داد رسی نظر آتی ہے، وہی اصول تمام آئمہ کے ذریعے مسلسل نافذ رہتے۔ ہر امامؑ اپنے دور میں ظلم کے خلاف ایک زندہ احتجاج تھا، مگر اگر انہیں حکومت میسر ہوتی، تو نہ صرف ظلم مٹ چکا ہوتا بلکہ اس کے بنیادی اسباب ہی ختم ہو چکے ہوتے۔ اقوام کے درمیان جنگیں طاقت اور تسلط کی خاطر نہ ہوتیں بلکہ امتِ واحدہ کے تصور کے تحت تعاون، عدل اور اخوت کی بنیاد پر تعلقات قائم ہوتے۔ اقوامِ متحدہ جیسا ادارہ ایک کھوکھلا نظریہ نہ ہوتا، بلکہ اہل بیتؑ کی قیادت میں انسانیت کا واقعی نمائندہ ہوتا۔
تعلیم کے میدان میں قرآن و اہل بیتؑ کی روشنی میں ایک ایسا نظام قائم ہوتا جو صرف معلومات کی ترسیل نہیں بلکہ عقل، تزکیہ، تفکر اور حقیقت کی تلاش کو محور بناتا۔ علم کو نفع بخش بنانے کا جو معیار رسولؐ اور آئمہؑ نے دیا، وہ عالمی تعلیمی پالیسی کا ستون ہوتا۔ ہر علم خدا کی معرفت کا ذریعہ بنتا، نہ کہ انسانوں کے استحصال اور تباہی کا۔ امام جعفر صادقؑ جیسے علمی مراکز دنیا بھر میں قائم ہوتے، جہاں سائنس، فلسفہ، فقہ، طب، نجوم اور دیگر تمام علوم خداشناسی کے تناظر میں پروان چڑھتے۔ علم کو سرمایہ دارانہ یا استعماری ایجنڈوں کا خادم نہیں بنایا جاتا بلکہ وہ انسان کو عبدِ حقیقی بنانے کا ذریعہ ہوتا۔
تہذیبی و ثقافتی طور پر انسانیت فطرت کی طرف واپس لوٹتی۔ خود کو خدا کا بندہ سمجھنے اور انسانی کرامت کی اصل بنیاد یعنی تقویٰ کو محور بنا کر ایک ایسا تمدن وجود میں آتا جو نہ صرف روحانی حسن کا آئینہ ہوتا بلکہ جمالیاتی ذوق بھی وحی کی روشنی میں پروان چڑھتا۔ ثقافت فحاشی، صارفیت، تفریق اور قومی تفاخر سے پاک ہوتی۔ لباس، طرزِ معاشرت، زبان و ادب، اور فنونِ لطیفہ، سب ایک ایسے جمالیاتی توازن کے مظہر ہوتے جن میں فطرت، عقل، روحانیت اور انسانی وحدت کی خوشبو رچی ہوتی۔
اقتصادی میدان میں نہ سرمایہ دارانہ نظام کی اجارہ داری ہوتی اور نہ ہی اشتراکی نظام کی بے روح مساوات، بلکہ ایک ایسا اقتصادی نظام نافذ ہوتا جس میں مالکیت کا حقیقی تصور، حقوقِ انسانی، صدقات، خمس و زکات، بیت المال، وقف، اور اخوتِ انسانی کو بنیاد بنایا جاتا۔ دولت کا ارتکاز، سود، فریب اور استحصال کی تمام شکلیں ختم ہوتیں۔ محنت کا احترام، کمزور طبقے کا تحفظ، اور قدرتی وسائل کی عادلانہ تقسیم وہ اصول ہوتے جن پر عالمی اقتصادی پالیسیاں بنتیں۔ دنیا آج قرضوں میں ڈوبی ہوئی غریب اقوام کا ظلم نہ سہہ رہی ہوتی، بلکہ ایک دوسرے کی دستگیر امتیں قائم ہوتیں۔
اخلاقی سطح پر دنیا ایک ایسا سماج دیکھتی جہاں جھوٹ، خیانت، ظلم، حسد، غرور، حرص، اور ہوس کو بدترین عیب سمجھا جاتا اور صدق، امانت، تواضع، ایثار، حلم، علم اور عدل جیسی صفات کو اصل فضیلت سمجھا جاتا۔ امام زین العابدینؑ جیسے اخلاقی معلم ہر بستی میں انسانوں کو ان کے اصل مقام کی یاد دہانی کراتے۔ انسان اپنی حیوانی جبلتوں کا بندہ نہ بنتا بلکہ نفسِ مطمئنہ کی منزل تک پہنچنے کی جدوجہد کرتا۔
غرض اگر اہل بیتؑ کو حکومت مل جاتی تو دنیا ظاہری ترقی کی بجائے باطنی ارتقاء کی راہ پر چلتی۔ سائنسی ترقی ضرور ہوتی، مگر وہ مادیت پرستی یا جنگی صنعتوں کی خدمت میں نہ ہوتی بلکہ انسان کی خدمت، بیماریوں کے خاتمے، فطرت سے ہم آہنگی، اور روح و جسم کے توازن کو قائم رکھنے کے لیے ہوتی۔ ٹیکنالوجی انسانوں کو غلام بنانے کا آلہ نہ بنتی بلکہ وہ اخلاق اور عدل کے تابع ہوتی۔
یقیناً یہ وہ دنیا ہوتی جس میں “یَعْمُرُ الْأَرْضَ قِسْطًا وَعَدْلًا كَمَا مُلِئَتْ جَوْرًا وَظُلْمًا” کا وعدہ صرف امام مہدیؑ کے ہاتھوں مکمل نہ ہوتا، بلکہ ہر امام کی حکومت میں مرحلہ بہ مرحلہ اس کا ظہور ہوتا رہتا۔ یہی غدیر کا پیغام تھا، جو اگر قبول کر لیا جاتا تو دنیا جنت کے عکس سے کم نہ ہوتی۔
