صراط ٹائمز / کے مطابق رہبر معظم انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای نے فرمایا:۔
“اگر امریکہ سے دوستی کسی ملک کو بچا سکتی تو یوکرین بچ جاتا، اور اگر امریکہ سے دشمنی کسی ملک کی تباہی کا سبب بنتی تو ایران اب تک مٹ چکا ہوتا۔”
یہ بیان عالمی سیاست کے حوالے سے ایک گہری حقیقت کی عکاسی کرتا ہے۔ اس میں واضح کیا گیا ہے کہ امریکہ پر بھروسہ کرنا یا اس سے تعلقات قائم کرنا کسی ملک کی سلامتی کی ضمانت نہیں دیتا، جیسا کہ یوکرین کی مثال ہمارے سامنے ہے، جو مغربی دنیا اور امریکہ کے قریب ہونے کے باوجود جنگ اور بحران کا شکار ہوا۔ دوسری طرف، ایران کئی دہائیوں سے امریکہ کی مخالفت کر رہا ہے، سخت پابندیوں کے باوجود قائم ہے اور ترقی کر رہا ہے۔
یہ پیغام خودمختاری، خود انحصاری اور استقامت کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے اور اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کسی بھی ملک کی حقیقی طاقت بیرونی قوتوں پر انحصار کرنے میں نہیں بلکہ اندرونی خودکفالت اور مزاحمت میں ہے۔
