بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔
سید جہانزیب عابدی
شیعہ مکتبِ فکر میں تقلید، مرجعیت اور فقہاء کی نیابت کا مسئلہ محض ایک انتظامی یا تاریخی مسئلہ نہیں بلکہ ایک گہرا اعتقادی، عقلی اور روائی نظام ہے۔ ائمہ معصومینؑ نے عصرِ غیبت یا اپنی ظاہری عدمِ رسائی کے زمانوں میں امت کو یہ نہیں کہا کہ ہر شخص براہِ راست قرآن و حدیث سے خود احکام نکالے، بلکہ انہوں نے ایسے افراد کی طرف رجوع کا حکم دیا جو علم، عدالت، تقویٰ، دیانت، فقاہت، بصیرت اور نفس پر کنٹرول رکھتے ہوں۔ اس کے ساتھ ائمہؑ نے امت کو اندھی پیروی کا حکم بھی نہیں دیا بلکہ فقیہ کے انتخاب کیلئے معیار بیان کیے تاکہ امت عقل، تحقیق اور دینی شناخت کی بنیاد پر اہلِ علم میں سے صحیح مرجع کا انتخاب کرے۔
ائمہؑ کے زمانے میں ہی یہ حقیقت واضح تھی کہ ہر شخص قرآن و سنت سے براہِ راست احکام استنباط نہیں کرسکتا۔ جس طرح طب، انجینئرنگ یا قضاوت کیلئے تخصص کی ضرورت ہوتی ہے، اسی طرح احکامِ دین کے استخراج کیلئے بھی گہری علمی مہارت درکار ہے۔ اسی لیے امام جعفر صادقؑ نے اپنے بعض شاگردوں کو باقاعدہ فتویٰ دینے اور لوگوں کی رہنمائی کرنے کی اجازت دی۔ رجالِ کشی میں آتا ہے کہ امام صادقؑ نے ابان بن تغلب سے فرمایا:
“اجلس في مسجد المدينة وأفتِ الناس، فإني أحب أن يُرى في شيعتي مثلك” (رجال الكشي ، محمد بن عمر الكشي، ص 376، رقم الرواية 705، مؤسسة الأعلمي للمطبوعات، بيروت۔)
یعنی “مدینہ کی مسجد میں بیٹھو اور لوگوں کو فتویٰ دو، کیونکہ میں پسند کرتا ہوں کہ میرے شیعوں میں تم جیسے افراد نظر آئیں۔”
یہ روایت ظاہر کرتی ہے کہ ائمہؑ نے فقاہت کو ایک اجتماعی ضرورت کے طور پر منظم کیا اور ایسے افراد کو عوام کی رہنمائی کیلئے مقرر کیا جو علمی اہلیت رکھتے تھے۔
اسی طرح امام حسن عسکریؑ سے منقول مشہور روایت میں فقہاء کے انتخاب کے بنیادی معیار بیان کیے گئے ہیں۔ روایت کے الفاظ ہیں:
“فَأَمَّا مَن كَانَ مِنَ الفُقَهَاءِ صَائِنًا لِنَفْسِهِ، حَافِظًا لِدِينِهِ، مُخَالِفًا عَلَى هَوَاهُ، مُطِيعًا لِأَمْرِ مَوْلَاهُ، فَلِلْعَوَامِ أَنْ يُقَلِّدُوهُ” (الاحتجاج ، الشيخ أحمد بن علي الطبرسي، ج 2، ص 263، احتجاج الإمام الحسن العسكريؑ، مؤسسة الأعلمي، بيروت۔)
یعنی “فقہاء میں سے جو شخص اپنے نفس کی حفاظت کرنے والا ہو، اپنے دین کا محافظ ہو، اپنی خواہشاتِ نفس کے خلاف چلنے والا ہو، اور اپنے مولا کے حکم کا اطاعت گزار ہو، تو عوام پر لازم ہے کہ اس کی تقلید کریں۔”
یہ روایت الاحتجاج طبرسی میں نقل ہوئی ہے اور شیعہ فقہی نظام میں مرجعیت کے بنیادی دلائل میں شمار ہوتی ہے۔ اس روایت میں ائمہؑ نے صرف “علم” کو کافی قرار نہیں دیا بلکہ علم کے ساتھ اخلاقی اور روحانی معیار بھی ضروری قرار دیے۔ کیونکہ ممکن ہے کوئی شخص عالم ہو مگر دنیا پرست، ظالم یا خواہشات کا غلام ہو۔ لہٰذا فقاہت کے ساتھ عدالت، تقویٰ اور نفس پر کنٹرول بھی شرط قرار دیا گیا۔
یہاں ایک نہایت اہم نکتہ یہ ہے کہ ائمہؑ نے عوام کو یہ نہیں کہا کہ ہر عالم کی تقلید کرو، بلکہ معیار دیے تاکہ امت اپنی عقل اور تشخیص استعمال کرے۔ گویا انتخاب کا عمل امت کی ذمہ داری بنایا گیا، مگر انتخاب کے اصول ائمہؑ نے متعین کیے۔
شیعہ مکتب میں عقل کو محض ایک دنیاوی صلاحیت نہیں بلکہ حجتِ الٰہی سمجھا گیا ہے، اسی لیے ائمہؑ نے فقہاء کی نیابت کیلئے صرف نام مقرر نہیں کیے بلکہ ایسے معیارات دیے جنہیں امت اپنی عقل، بصیرت اور تحقیق سے پرکھ سکے۔ قرآن مجید بار بار انسان کو تدبر، تعقل اور تفکر کی دعوت دیتا ہے:
“أَفَلَا تَعْقِلُونَ”
“کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے؟”
(القرآن الكريم ، سورۃ البقرہ، آیت 44۔)
اسی طرح فرمایا: “فَبَشِّرْ عِبَادِ ﴿١٧﴾ الَّذِينَ يَسْتَمِعُونَ الْقَوْلَ فَيَتَّبِعُونَ أَحْسَنَهُ أُولَٰئِكَ الَّذِينَ هَدَاهُمُ اللَّهُ وَأُولَٰئِكَ هُمْ أُولُو الْأَلْبَابِ”
یعنی “میرے ان بندوں کو بشارت دو جو بات کو غور سے سنتے ہیں پھر اس کے بہترین پہلو کی پیروی کرتے ہیں، یہی اہلِ عقل ہیں۔”
(القرآن الكريم ، سورۃ الزمر، آیات 17-18۔)
ائمہؑ نے بھی عقل کو “حجتِ باطنی” قرار دیا۔ امام موسیٰ کاظمؑ نے فرمایا: “إِنَّ لِلَّهِ عَلَى النَّاسِ حُجَّتَيْنِ: حُجَّةً ظَاهِرَةً وَحُجَّةً بَاطِنَةً، فَأَمَّا الظَّاهِرَةُ فَالرُّسُلُ وَالأَنْبِيَاءُ وَالأَئِمَّةُ، وَأَمَّا الْبَاطِنَةُ فَالْعُقُولُ”
یعنی “اللہ کی لوگوں پر دو حجتیں ہیں: ایک ظاہری اور ایک باطنی؛ ظاہری حجت انبیاء و ائمہؑ ہیں اور باطنی حجت عقل ہے۔”
(الكافي ، الشيخ الكليني، ج 1، ص 16، كتاب العقل والجهل، حدیث 12۔)
لہٰذا جب ائمہؑ فرماتے ہیں کہ ایسے فقیہ کی طرف رجوع کرو جو “صائن لنفسه، حافظ لدينه، مخالف لهواه” ہو، تو دراصل امت کو یہ ذمہ داری دی جاتی ہے کہ وہ عقل، تقویٰ شناسی، اجتماعی بصیرت اور تحقیق کی بنیاد پر ایسے افراد کو پہچانے۔ خدا کا ہر امر انسانوں کی آزمائش سے مربوط ہے یہاں عقل کی آزمائش یہی ہے ورنہ خدا کی غالبیت و قوت و طاقت سب کرسکتی تھی کہ وہ چاہتا تو سب کے دلوں اور دماغوں میں حق کے نمائندوں کی محبت ڈال دیتا، معرفت کے دریچے بغیر کسی محنت و جستجو و جدوجہد کے کھول دیتا لیکن وہ صرف معیارات و صفات بتاتا ہے، تشخیص و شناخت انسان کو خود کرنی ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شیعہ فقہ میں تقلید اندھی پیروی نہیں بلکہ “عاقلانہ رجوعِ جاہل بہ عالم” ہے، اور عقل ہی وہ میزان ہے جس کے ذریعے امت ائمہؑ کے بیان کردہ معیارات کو عملی طور پر تشخیص دیتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ شیعہ فقہ میں “اعلمیت”، “عدالت”، “تقویٰ”، “حلال زادگی”، “دنیا پرستی سے دوری” اور “صحیح عقیدہ” جیسے شروط بیان کیے جاتے ہیں۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ مرجعیت کوئی موروثی یا سیاسی منصب نہیں بلکہ علمی و اخلاقی اہلیت کی بنیاد پر حاصل ہونے والی ذمہ داری ہے۔
امام زمانہؑ کی مشہور توقیع بھی اسی نظام کی بنیاد کو واضح کرتی ہے۔ آپؑ نے فرمایا: “وَأَمَّا الْحَوَادِثُ الْوَاقِعَةُ فَارْجِعُوا فِيهَا إِلَىٰ رُوَاةِ حَدِيثِنَا، فَإِنَّهُمْ حُجَّتِي عَلَيْكُمْ وَأَنَا حُجَّةُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ” (كمال الدين وتمام النعمة ، الشيخ الصدوق، ج 2، ص 483، باب 45، حدیث 4، مؤسسة النشر الإسلامي، قم۔)
یعنی “اور جو نئے پیش آنے والے مسائل ہوں، ان میں ہمارے احادیث کے راویوں کی طرف رجوع کرو، کیونکہ وہ تم پر میری حجت ہیں اور میں ان پر اللہ کی حجت ہوں۔”
یہ توقیع كمال الدين وتمام النعمة میں نقل ہوئی ہے۔ اس روایت میں امامؑ نے “رواة حدیثنا” فرمایا، یعنی ایسے افراد جو صرف الفاظ نقل کرنے والے نہ ہوں بلکہ دین کی گہری سمجھ اور استنباط کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ اسی بنیاد پر شیعہ اصولیین نے کہا کہ مراد “فقہاء” ہیں، کیونکہ نئے مسائل کا حل صرف روایت نقل کرنے سے نہیں بلکہ اجتہاد اور فقاہت سے ممکن ہوتا ہے۔
اسی طرح امام جعفر صادقؑ نے قضاوت اور دینی فیصلوں کے بارے میں فرمایا:
“انظروا إلى رجلٍ منكم قد روى حديثنا ونظر في حلالنا وحرامنا وعرف أحكامنا فارضوا به حكمًا فإني قد جعلته عليكم حاكمًا” (الكافي ، الشيخ الكليني، ج 1، ص 67، كتاب فضل العلم، باب اختلاف الحديث، حدیث 10، دار الكتب الإسلامية، طهران/ تهذيب الأحكام ، الشيخ الطوسي، ج 6، ص 218، حدیث 51، دار الكتب الإسلامية، طهران۔)
یعنی “اپنے میں سے ایسے شخص کو دیکھو جو ہماری حدیث روایت کرتا ہو، ہمارے حلال و حرام کو جانتا ہو اور ہمارے احکام کی معرفت رکھتا ہو، پھر اسے حَکَم مانو، کیونکہ میں نے اسے تم پر حاکم قرار دیا ہے۔”
یہ روایت الكافي میں عمر بن حنظلہ کی مقبولہ کے نام سے مشہور ہے۔ اس روایت میں صرف علمی مہارت نہیں بلکہ “احکام کی معرفت” اور “اجتماعی فیصلے” کی صلاحیت کو معیار بنایا گیا۔ اسی سے فقہاء کی نیابتِ عامہ، قضاوت اور ولایت کے مباحث استنباط کیے گئے۔
شیعہ فقہی نظام میں عقل کا کردار بھی بنیادی ہے۔ عقل یہ حکم دیتی ہے کہ غیر ماہر شخص ماہر کی طرف رجوع کرے۔ جس طرح مریض ڈاکٹر کی طرف رجوع کرتا ہے اور انجینئرنگ کا کام انجینئر کے سپرد کیا جاتا ہے، اسی طرح دینی احکام کے پیچیدہ مسائل میں غیر مجتہد شخص مجتہد کی طرف رجوع کرتا ہے۔ اسے “رجوعِ جاہل بہ عالم” کہا جاتا ہے، اور یہ ایک عقلی و فطری اصول ہے۔ ائمہؑ نے اسی عقلی اصول کی تائید کی اور امت کو یہ سکھایا کہ وہ ہر دعویدار کے پیچھے نہ چلیں بلکہ اہلِ علم، اہلِ تقویٰ اور اہلِ بصیرت افراد کو پہچانیں۔
یہی وجہ ہے کہ شیعہ مکتب میں مرجعیت محض کتابی علم کا نام نہیں بلکہ ایک ہمہ جہت دینی شخصیت کا نام ہے۔ ایک حقیقی فقیہ وہ ہے جو قرآن، حدیث، اصولِ فقہ، رجال، تفسیر، تاریخ، عقائد اور انسانی معاشرے کی پیچیدگیوں کو سمجھتا ہو، ساتھ ہی وہ عدالت، تقویٰ، زہد، بصیرت اور شجاعت کا حامل بھی ہو۔ کیونکہ امت کی رہبری صرف علمی مسئلہ نہیں بلکہ اخلاقی، روحانی اور اجتماعی امانت بھی ہے۔
لہٰذا ائمہ معصومینؑ نے امت کو نہ تو فکری انتشار کے حوالے کیا اور نہ ہی اندھی تقلید کا حکم دیا۔ انہوں نے معیار دیے، عقل کو فعال رکھا، فقہاء کی صفات بیان کیں اور امت کو یہ ذمہ داری دی کہ وہ ان معیارات کی روشنی میں ایسے فقہاء کا انتخاب کرے جو دینِ محمد و آلِ محمدؑ کی صحیح نمائندگی کرسکیں۔ یہی شیعہ نظامِ مرجعیت اور نیابتِ فقہاء کی اصل بنیاد ہے۔
