بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم۔
سید جہانزیب عابدی
نظریۂ ارتقاء کے بارے میں شیعہ فلاسفہ کا موقف یکساں اور سادہ نہیں بلکہ کئی جہات پر مشتمل ہے۔ شیعہ فلسفیانہ روایت، خصوصاً حکمتِ متعالیہ کے بعد، اس موضوع کو صرف حیاتیاتی یا سائنسی مسئلہ نہیں سمجھتی بلکہ اسے وجود، حرکت، شعور، غایت اور انسان کی حقیقت کے بڑے فلسفیانہ مباحث سے جوڑ کر دیکھتی ہے۔ اسی لیے جب شیعہ فلاسفہ نظریۂ ارتقاء پر گفتگو کرتے ہیں تو ان کی توجہ صرف اس سوال پر نہیں ہوتی کہ “انسان بندر سے بنا یا نہیں”، بلکہ اصل سوال یہ ہوتا ہے کہ “کائنات میں تدریجی تکامل کی حقیقت کیا ہے؟”، “وجود کیسے حرکت کرتا ہے؟”، “شعور اور نفس کی پیدائش کیسے ہوتی ہے؟” اور “کیا مادی ارتقاء انسانی حقیقت کی مکمل توضیح کر سکتا ہے یا نہیں؟”
شیعہ فلسفے میں خصوصاً ملا صدرا کی حکمتِ متعالیہ نے “حرکتِ جوہری” کا نظریہ پیش کیا، جس کے مطابق کائنات جامد نہیں بلکہ ہر شے اپنے جوہر میں مسلسل حرکت اور تکامل کی حالت میں ہے۔ ملا صدرا کے نزدیک مادہ ایک تدریجی سفر سے گزرتا ہے، اور وجود نچلے مراتب سے بلند مراتب کی طرف ارتقاء پذیر رہتا ہے۔ اس تصور نے بعد کے بہت سے شیعہ مفکرین کو یہ موقع دیا کہ وہ نظریۂ ارتقاء کے بعض سائنسی پہلوؤں کو کلیتاً رد کرنے کے بجائے انہیں “تکوینی تکامل” کے ایک مظہر کے طور پر دیکھیں۔ بعض معاصر شیعہ مفکرین نے کہا کہ اگر حیاتیاتی ارتقاء سے مراد یہ ہے کہ اللہ نے کائنات کو تدریجی قوانین کے ذریعے نشوونما دی، تو یہ تصور بذاتِ خود اسلامی فلسفے سے متصادم نہیں۔
تاہم شیعہ فلاسفہ اور متکلمین کی ایک بڑی تعداد اس بات پر زور دیتی ہے کہ ڈارونین ارتقاء کو اگر محض اندھی مادی قوتوں، اتفاقات اور بے مقصد تغیرات کا نتیجہ سمجھا جائے تو یہ اسلامی تصورِ کائنات سے ہم آہنگ نہیں رہتا۔ کیونکہ اسلامی فلسفے میں کائنات ایک غایت مند نظام ہے، جہاں ہر حرکت ایک حکیمانہ نظم کے تحت انجام پاتی ہے۔ شیعہ فلسفہ خصوصاً “علتِ غائی” یعنی purposeful causation پر زور دیتا ہے، جبکہ خالص مادّی تعبیرِ ارتقاء اکثر شعور، اخلاق، ارادہ اور روحانی حقیقت کو محض حیاتیاتی پیداوار قرار دیتی ہے۔ یہی مقام وہ ہے جہاں شیعہ فلاسفہ تنقید کرتے ہیں کہ سائنسی نظریہ اگر اپنی حدود سے بڑھ کر ایک مکمل مادّی worldview بن جائے تو پھر وہ فلسفیانہ دعویٰ بن جاتا ہے، خالص سائنس نہیں رہتا۔
بعض شیعہ مفکرین، جیسے علامہ محمد حسین طباطبائی نے اس موضوع پر محتاط رویہ اختیار کیا۔ علامہ طباطبائی کے نزدیک قرآن کا اصل مقصد حیاتیات کی تفصیلی سائنسی تاریخ بیان کرنا نہیں بلکہ انسان کی ہدایت ہے۔ اس لیے وہ اس امکان کو کلیتاً رد نہیں کرتے کہ مادی دنیا میں تدریجی ارتقائی مراحل موجود ہوں، لیکن وہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ انسانی حقیقت صرف جسمانی ارتقاء سے سمجھ میں نہیں آتی، کیونکہ انسان میں ایک مجرد نفس، اخلاقی شعور اور ماورائی ادراک بھی موجود ہے۔ ان کے نزدیک انسان کا “انسان” ہونا صرف حیاتیاتی ساخت کا مسئلہ نہیں بلکہ روحانی و ادراکی حقیقت کا مسئلہ بھی ہے۔
اسی طرح شہید مرتضی مطہری نے نظریۂ ارتقاء پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ارتقاء کا تصور بذاتِ خود اسلام کے خلاف نہیں، کیونکہ قرآن میں بھی تدریجی تخلیق اور کائناتی نشوونما کے اشارات ملتے ہیں۔ لیکن مطہری اس بات پر تنقید کرتے ہیں کہ بعض مغربی مفکرین نے نظریۂ ارتقاء کو “الحادی فلسفے” کی بنیاد بنا لیا۔ ان کے نزدیک سائنسی ارتقاء اور الحاد لازم و ملزوم نہیں ہیں۔ ایک خدا پر ایمان رکھنے والا شخص بھی ارتقائی حیاتیات کے بعض پہلو قبول کر سکتا ہے، بشرطیکہ وہ کائنات کے پیچھے شعور، حکمت اور الٰہی نظم کو تسلیم کرے۔
بعض معاصر شیعہ علما اور فلاسفہ نے یہ موقف بھی اختیار کیا کہ آدمؑ کی تخلیق کو ضروری نہیں کہ صرف ایک instantaneous biological event سمجھا جائے۔ ان کے نزدیک ممکن ہے کہ انسانی جسم ایک تدریجی حیاتیاتی مرحلے سے گزرا ہو، مگر انسانیت کی اصل ابتدا اس وقت ہوئی جب اللہ نے انسان میں روح، شعور اور اخلاقی ذمہ داری ودیعت کی۔ جبکہ دوسرے علما اس تعبیر سے اختلاف کرتے ہیں اور حضرت آدمؑ کی مستقل و خصوصی تخلیق پر زور دیتے ہیں۔ لہٰذا شیعہ علمی دنیا میں اس مسئلے پر مکمل اجماع موجود نہیں۔
شیعہ فلسفے کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ وہ سائنس اور دین کو لازماً متصادم خانوں میں تقسیم نہیں کرتا۔ حکمتِ متعالیہ کی روایت میں حقیقت کے مختلف درجات مانے جاتے ہیں؛ سائنس مادّی مظاہر کی تشریح کرتی ہے، جبکہ فلسفہ وجود کی کلی حقیقت اور دین غایت، معنی اور ہدایت کو واضح کرتا ہے۔ اسی لیے بہت سے شیعہ فلاسفہ کہتے ہیں کہ نظریۂ ارتقاء ایک حیاتیاتی model کے طور پر قابلِ بحث ہو سکتا ہے، لیکن یہ انسان، شعور، اخلاق اور کائنات کے آخری معنی کی مکمل توضیح نہیں دے سکتا۔
یوں مجموعی طور پر کہا جا سکتا ہے کہ شیعہ فلاسفہ کی بڑی تعداد نظریۂ ارتقاء کو مطلقاً رد بھی نہیں کرتی اور غیر مشروط طور پر قبول بھی نہیں کرتی، بلکہ اسے ایک محدود سائنسی نظریے کے طور پر دیکھتی ہے جسے فلسفہ، مابعد الطبیعیات اور وحی کے وسیع تر تناظر میں پرکھا جانا چاہیے۔
نظریۂ ارتقاء کو جب “سازشی نظریات” کی روشنی میں دیکھا جاتا ہے تو اس بحث کے دو بالکل مختلف رخ سامنے آتے ہیں۔ ایک رخ وہ ہے جو یہ سمجھتا ہے کہ ارتقاء کا نظریہ محض ایک سائنسی ماڈل نہیں بلکہ جدید مغربی تہذیب کے اُس فکری منصوبے کا حصہ ہے جس کا مقصد انسان کو وحی، خدا، روح اور مقصدِ حیات سے کاٹ کر صرف ایک حیوانی و مادی وجود کے طور پر پیش کرنا تھا۔ دوسرا رخ یہ کہتا ہے کہ ہر بڑے سائنسی نظریے کو “سازش” قرار دینا خود علمی کمزوری اور خوف کی علامت بن سکتا ہے، کیونکہ اس سے حقیقی علمی تنقید کی جگہ جذباتی ردِعمل لے لیتا ہے۔ اسی لیے اس موضوع کا سنجیدہ تجزیہ جذبات یا نعروں سے نہیں بلکہ تاریخی، فلسفیانہ اور تہذیبی تناظر سے کرنا ضروری ہے۔
یہ حقیقت ہے کہ Charles Darwin کے نظریۂ ارتقاء کے بعد مغرب میں ایک ایسا intellectual shift پیدا ہوا جس نے مذہبی تصوراتِ تخلیق کو شدید چیلنج کیا۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ خود ڈارون کا اصل حیاتیاتی نظریہ بعد میں بعض سیاسی، معاشی اور سامراجی قوتوں کے ہاتھ میں ایک ideologically weaponized concept بن گیا۔ “Survival of the fittest” کو سرمایہ دارانہ استحصال، نوآبادیاتی قبضوں، نسلی برتری اور سوشل ڈارونزم کے لیے استعمال کیا گیا۔ یورپی استعمار نے افریقی، ایشیائی اور مقامی اقوام کو “کم تر ارتقائی درجے” کے انسان قرار دے کر ان پر قبضے کو فطری اور “سائنسی” ثابت کرنے کی کوشش کی۔ یہاں سازش کا پہلو محض خفیہ میٹنگوں یا پوشیدہ تنظیموں تک محدود نہیں بلکہ اس فکری استعمال میں ظاہر ہوتا ہے جہاں سائنس کو طاقتور طبقات نے اپنے سیاسی مفادات کے لیے استعمال کیا۔
انیسویں اور بیسویں صدی میں بعض مغربی مفکرین نے نظریۂ ارتقاء کو اس انداز سے پیش کیا کہ انسان محض ایک ترقی یافتہ حیوان ہے، جس کے اخلاق، روحانیت، محبت، قربانی اور مذہب تک کو صرف حیاتیاتی survival mechanisms قرار دیا گیا۔ اس تعبیر نے مذہب کو “غیر ضروری” اور وحی کو “قدیم ذہن کی نفسیاتی پیداوار” ثابت کرنے کی کوشش کی۔ یہی مقام ہے جہاں کئی مذہبی اور تہذیبی مفکرین نے کہا کہ مسئلہ صرف سائنسی data کا نہیں بلکہ اُس worldview کا ہے جو اس data کے ذریعے انسانوں پر مسلط کیا جا رہا ہے۔ ان کے نزدیک اصل “سازش” یہ تھی کہ انسان کی الٰہی شناخت ختم کرکے اسے محض consumer، worker اور biological unit میں تبدیل کر دیا جائے۔
بعض اسلامی اور خصوصاً مذہبی حلقے یہ بھی سمجھتے ہیں کہ جدید سیکولر تعلیمی نظاموں میں نظریۂ ارتقاء کو بعض اوقات اس انداز سے پڑھایا گیا کہ گویا خدا کا تصور اب غیر ضروری ہو چکا ہے۔ ان کے نزدیک یہ محض سائنس نہیں بلکہ ایک تہذیبی narrative تھا، جس نے نوجوان نسل کو آہستہ آہستہ metaphysical realities سے دور کیا۔ یہی وجہ ہے کہ کچھ مفکرین اسے “soft ideological engineering” کہتے ہیں، یعنی ایسا تدریجی فکری عمل جس میں انسان کو اس کی روحانی بنیادوں سے کاٹ کر صرف مادی دنیا کا قیدی بنا دیا جائے۔
لیکن دوسری طرف ایک اہم نکتہ بھی ہے جسے نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ ہر سائنسی نظریے کو عالمی خفیہ سازش قرار دینا خود ایک غیر علمی رویہ بن سکتا ہے۔ کیونکہ نظریۂ ارتقاء کے حق میں حیاتیات، جینیات، fossil records اور comparative anatomy میں کافی سائنسی مواد موجود ہے۔ اس لیے سنجیدہ علمی دنیا میں اصل بحث یہ نہیں کہ “ارتقاء ہوا یا نہیں”، بلکہ یہ ہے کہ “ارتقاء کی حدود کیا ہیں؟”، “کیا یہ مکمل توضیح ہے؟”، “کیا شعور اور اخلاق صرف مادے سے پیدا ہو سکتے ہیں؟” اور “کیا سائنس کو metaphysical claimsمابعد الطبیعاتی دعوے کرنے چاہییں؟”
بعض شیعہ اور اسلامی مفکرین اس مسئلے کو زیادہ متوازن انداز میں دیکھتے ہیں۔ ان کے نزدیک ممکن ہے کہ حیاتیاتی ارتقاء ایک حقیقی تکوینی process ہو، لیکن اسے الحاد، اخلاقی نسبیت یا روح کے انکار کے لیے استعمال کرنا ایک فکری انحراف ہے۔ یعنی مسئلہ “ارتقاء” نہیں بلکہ “ارتقاء کی مادّی تعبیر” ہے۔ اس زاویے سے دیکھا جائے تو سازش کسی حیاتیاتی تحقیق میں نہیں بلکہ اس فکری تعبیر میں ہوسکتی ہے جو انسان کو خدا سے آزاد، مقصد سے خالی اور صرف طاقت و خواہش کے تابع وجود کے طور پر پیش کرے۔
مزید سازش شناس پیمانوں کے زاویوں سے دیکھا جائے تو نظریۂ ارتقاء کے گرد اصل جنگ biological data کی نہیں بلکہ worldview کی جنگ ہے۔ ایک worldview انسان کو “خلیفۃ اللہ” سمجھتا ہے، جبکہ دوسرا اسے “advanced animal” قرار دیتا ہے۔ ایک انسان کی اصل کو روح، اخلاق اور الٰہی غایت سے جوڑتا ہے، دوسرا اسے صرف genetic competition میں محدود کر دیتا ہے۔ اسی لیے بہت سے مذہبی مفکرین کے نزدیک خطرہ نظریۂ ارتقاء کے سائنسی حصے سے کم اور اُس تہذیبی و فلسفیانہ narrative سے زیادہ ہے جو اس کے نام پر تشکیل دیا گیا۔
