2

سوال، شعور اور خوف کی سیاست

  • نیوز کوڈ : 2938
  • 11 May 2026 - 23:16
سوال، شعور اور خوف کی سیاست

سوال، شعور اور خوف کی سیاست

بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم۔

اللھم صل علی محمد وآل محمد و عجل فرجھم اجمعین

سید جہانزیب عابدی

انسانی تاریخ میں سب سے بڑی کشمکش ہمیشہ حق اور باطل کے درمیان صرف نظریاتی سطح پر نہیں رہی بلکہ “خوف” اور “شعور” کے درمیان بھی رہی ہے۔ ہر وہ فکر، نظام یا روایت جو اپنے اندر اعتماد، وسعت اور حقیقت کی طاقت رکھتی ہے، وہ سوال سے نہیں ڈرتی بلکہ سوال کو اپنے زندہ ہونے کی علامت سمجھتی ہے۔ اس کے برعکس وہ افکار جو اندر سے کمزور، غیر منطقی یا صرف سماجی جبر کے سہارے قائم ہوں، وہ ہمیشہ سوال سے خوفزدہ رہتے ہیں، کیونکہ انہیں محسوس ہوتا ہے کہ اگر لوگوں نے سوچنا شروع کر دیا تو ان کی مصنوعی ساختیں بکھر جائیں گی۔

اصل مسئلہ اکثر “سوال” نہیں ہوتا بلکہ “تحفظِ اقتدار” ہوتا ہے۔ بہت سے مذہبی، سیاسی یا سماجی نظام اس وقت خوفزدہ ہو جاتے ہیں جب نئی نسل سوال اٹھاتی ہے، کیونکہ سوال انسان کو صرف معلومات نہیں دیتا بلکہ شعور دیتا ہے، اور شعور انسان کو اندھی اطاعت سے نکال کر زندہ ادراک کی طرف لے جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تاریخ میں بہت سی طاقتیں عوام کو سوچنے کے بجائے صرف ماننے کی تربیت دیتی رہی ہیں۔ کیونکہ جو انسان صرف مانتا ہے، اسے کنٹرول کرنا آسان ہوتا ہے، لیکن جو انسان سوال کرتا ہے، وہ ہر دعوے کے پیچھے حقیقت تلاش کرتا ہے۔

لیکن یہاں ایک نہایت اہم فرق سمجھنا ضروری ہے۔ ہر سوال حق کی تلاش کے لیے نہیں ہوتا، اور ہر روایت باطل بھی نہیں ہوتی۔ انسانی تہذیب صرف بغاوت سے نہیں چلتی بلکہ تسلسل، تجربے اور اجتماعی حکمت سے بھی چلتی ہے۔ اس لیے اصل مسئلہ “سوال یا روایت” کا نہیں بلکہ “جمود یا شعور” کا ہے۔ جب روایت شعور سے خالی ہو جائے تو وہ بت بن جاتی ہے، اور جب سوال اخلاق و حقیقت سے کٹ جائے تو وہ محض انتشار میں بدل سکتا ہے۔ حقیقی بلوغت وہاں پیدا ہوتی ہے جہاں سوال کا مقصد انکار نہیں بلکہ حقیقت تک رسائی ہو۔

ایک زندہ مذہبی فکر کبھی سوال سے خوفزدہ نہیں ہوتی۔ اگر کوئی دینی تصور واقعی حق پر مبنی ہو، عقلِ سلیم، فطرتِ انسانی اور اخلاقی حقیقت سے ہم آہنگ ہو، تو سوال اسے کمزور نہیں بلکہ زیادہ واضح اور مضبوط بناتا ہے۔ قرآنِ مجید کا اسلوب خود اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ قرآن بار بار انسان کو غور، فکر، تدبر، تعقل اور مشاہدے کی دعوت دیتا ہے۔ “أفلا تعقلون”، “أفلا تتفكرون”، “أفلا يتدبرون” جیسے سوالات دراصل انسان کو فکری حرکت دینے کے لیے ہیں، نہ کہ اسے ذہنی جمود میں رکھنے کے لیے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وحی ایک مردہ ذہن نہیں بلکہ ایک بیدار شعور چاہتی ہے۔

اسی طرح تاریخ میں بڑے دینی مجددین، مصلحین اور حقیقی اہلِ علم وہی لوگ تھے جنہوں نے سوال اٹھانے کی جرأت کی۔ انہوں نے روایت کو توڑا نہیں بلکہ اس کی روح کو زندہ کیا۔ جب بھی مذہبی فکر صرف رسم، خوف یا سماجی کنٹرول میں محدود ہوئی، اس کے اندر روح کمزور ہونے لگی۔ پھر دین حقیقت کی تلاش کے بجائے شناختی تعصب یا رسمی تکرار بننے لگتا ہے۔ یہی مقام خطرناک ہوتا ہے، کیونکہ یہاں انسان دین کے ظاہری ڈھانچے کو تو محفوظ رکھتا ہے مگر اس کی روح کھو دیتا ہے۔

سیاست میں بھی یہی کیفیت بار بار سامنے آتی ہے۔ وہ سیاسی نظام جو اپنے اندر فکری اعتماد رکھتے ہیں، وہ تنقید، سوال اور مکالمے کو برداشت کرتے ہیں، کیونکہ انہیں معلوم ہوتا ہے کہ طاقت صرف جبر سے نہیں بلکہ شعوری قبولیت سے پیدا ہوتی ہے۔ لیکن وہ نظام جو صرف خوف، پروپیگنڈا یا شخصیت پرستی پر قائم ہوں، وہ سوال سے ڈرتے ہیں۔ انہیں ہر آزاد ذہن خطرہ محسوس ہوتا ہے، کیونکہ آزاد شعور طاقت کے مصنوعی بیانیوں کو چیلنج کر سکتا ہے۔

رسم و رواج کے میدان میں بھی یہی نفسیات کام کرتی ہے۔ بہت سی سماجی روایات صرف اس لیے قائم رہتی ہیں کیونکہ لوگ ان پر سوال اٹھانے سے خوفزدہ ہوتے ہیں۔ اگر کوئی نوجوان پوچھ لے کہ “یہ رسم کیوں ہے؟”، تو بعض اوقات پورا ماحول دفاعی ہو جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ نہیں کہ ہر رسم ضروری طور پر غلط ہے، بلکہ اس لیے کہ بہت سے لوگ خود بھی اس کے پیچھے موجود حکمت نہیں جانتے۔ انہوں نے روایت کو شعور کے ساتھ نہیں بلکہ عادت کے ساتھ اپنایا ہوتا ہے۔ اسی لیے سوال انہیں اپنی فکری کمزوری کا احساس دلاتا ہے۔

لیکن یہاں ایک اور گہری حقیقت بھی ہے۔ انسان کے اندر ایک فطری اخلاقی و وجودی شعور موجود ہوتا ہے جسے قرآن “فطرت” اور “نفسِ لوامہ” جیسے تصورات سے بیان کرتا ہے۔ انسان صرف بیرونی قوانین سے نہیں چلتا بلکہ اس کے اندر ایک داخلی گواہی بھی موجود ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب کوئی فکر، نظام یا روایت انسانی فطرت، عدل، عقل اور اخلاق کے خلاف جاتی ہے تو انسان کے اندر کہیں نہ کہیں اضطراب پیدا ہوتا ہے، چاہے وہ اسے زبان نہ دے سکے۔ اسی لیے وہ افکار جو واقعی حق، عدل اور فطرت سے ہم آہنگ ہوں، وقت کے ساتھ زیادہ مضبوط ہو جاتے ہیں، جبکہ مصنوعی اور جابرانہ افکار آہستہ آہستہ ٹوٹنے لگتے ہیں۔

نئی نسل کو تخلیقی، منطقی اور مثبت سوالات اٹھانے دینا دراصل معاشرے کی کمزوری نہیں بلکہ اس کی صحت کی علامت ہے۔ جو معاشرہ سوال سے ڈرتا ہے، وہ اندر سے غیر محفوظ ہوتا ہے۔ لیکن جو معاشرہ سوال کو برداشت کرتا ہے، مکالمہ پیدا کرتا ہے، اور دلیل و حکمت کے ذریعے جواب دیتا ہے، وہ زیادہ مضبوط اور پائیدار بنتا ہے۔ کیونکہ وہاں لوگ صرف inherited beliefs پر نہیں بلکہ شعوری یقین پر کھڑے ہوتے ہیں۔

البتہ آزاد سوچ کا مطلب یہ بھی نہیں کہ ہر روایت، ہر authority یا ہر اجتماعی تجربے کو فوراً رد کر دیا جائے۔ تخلیقی ذہن اگر ادب، اخلاق اور حقیقت پسندی سے کٹ جائے تو وہ بھی انا، انتشار اور nihilism کا شکار ہو سکتا ہے۔ اسی لیے سوال کے ساتھ ذمہ داری، اور آزادی کے ساتھ اخلاقی شعور ضروری ہے۔ جب سوال سچائی کی تلاش کے لیے ہو، نہ کہ صرف خودنمائی یا انکار کے لیے، تب وہ تہذیبوں کو زندہ کرتا ہے۔

حقیقت میں مضبوط فکر وہ نہیں جو سوال کو روک دے، بلکہ وہ ہے جو سوال کو اپنے اندر جذب کر کے مزید واضح، عمیق اور مضبوط ہو جائے۔ کیونکہ حق کو اندھی حفاظت کی ضرورت نہیں ہوتی۔ حق جتنا زیادہ شعوری، منطقی اور تخلیقی مکالمے سے گزرتا ہے، اتنا ہی زیادہ نکھرتا ہے۔ خوف ہمیشہ وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں انسان کو اپنے اندر کمزوری محسوس ہو۔ لیکن جہاں حقیقت، عدل، عقل اور فطرت کی بنیاد مضبوط ہو، وہاں سوال دشمن نہیں بلکہ ارتقا کا ذریعہ بن جاتا ہے۔

مختصر لنک: https://www.siraat-times.com/?p=2938

ٹیگز

تبصرے