2

پاکستان میں شیعہ قیادت کی مکی حکمتِ عملی سے قومی بیداری کا سفر

  • نیوز کوڈ : 2941
  • 11 May 2026 - 23:20
پاکستان میں شیعہ قیادت کی مکی حکمتِ عملی سے قومی بیداری کا سفر

پاکستان میں شیعہ قیادت کی مکی حکمتِ عملی سے قومی بیداری کا سفر

بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم۔

سید جہانزیب عابدی

اگر موجودہ دور میں پاکستانی شیعہ اقلیت کی حالت کو مکی دور کے تناظر میں دیکھا جائے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ شیعہ صرف مظلومیت کا بیانیہ اختیار کریں، بلکہ اس سے اصل سبق یہ لینا چاہیے کہ جب کوئی حق پر مبنی مکتب سیاسی و عددی اعتبار سے کمزور ہو تو اس کی پہلی ترجیح فوری اقتدار نہیں بلکہ انسان سازی، فکری بیداری، اخلاقی برتری، سماجی خدمت، اور رائے عامہ کی تدریجی تشکیل ہوتی ہے۔ مکہ میں رسول اکرم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے ابتدا میں ریاست قائم کرنے کے بجائے ایسے انسان تیار کیے جو بعد میں مدینہ کی طاقت کی بنیاد بنے۔ اسی اصول کی روشنی میں پاکستانی شیعہ قیادت کو بھی اپنی حکمت عملی کو محض ردعمل، احتجاج یا انتخابی سیاست تک محدود نہیں رکھنا چاہیے بلکہ ایک طویل المدتی تہذیبی و فکری منصوبہ تشکیل دینا چاہیے۔

اس مرحلے میں سب سے اہم کام “تشیع کی درست علمی و اخلاقی تصویر” کو عام کرنا ہے۔ پاکستان میں شیعہ کے بارے میں عوام کی بڑی تعداد کا تصور یا تو مخالف پروپیگنڈے سے بنا ہے یا پھر محض رسومات تک محدود ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ شیعہ علما، خطبا، اساتذہ، دانشور، ڈاکٹرز، وکلا، صحافی، یوٹیوبرز، سوشل میڈیا ایکٹیوسٹس، اور تاجر طبقہ مل کر ایک ایسا تعارفی و دعوتی و تبلیغی ماحول بنائیں جس میں تشیع کو صرف ایک فرقہ نہیں بلکہ عدل، عقل، اخلاق، علم، انسانیت اور اہل بیتؑ کی محبت و معرفت کے مکتب کے طور پر پیش کیا جائے۔ اس دعوت میں تصادم، تکفیر اور اشتعال کے بجائے حکمت، استدلال، کردار اور خدمت کو بنیاد بنایا جائے، کیونکہ مکی دور کی سب سے بڑی طاقت اخلاقی برتری تھی۔

اس وقت شیعہ قوم کو اپنے اندر علمی انقلاب کی ضرورت ہے۔ مجالس، مدارس اور تنظیمی اجتماعات کو صرف جذباتی ابحاث، علامتوں شہادتوں کے روایتی محافل  تک محدود رکھنے کے بجائے انہیں فکری تربیت کے مراکز بنانا ہوگا۔ نوجوان نسل کو فلسفہ، تاریخ، میڈیا، نفسیات، معیشت، قانون، سیاسیات، سائنس، اور جدید تہذیبی چیلنجز کے حوالے سے تربیت دینا ہوگی تاکہ وہ صرف اپنے عقائد کے محافظ نہ ہوں بلکہ معاشرے کے فکری رہنما بن سکیں۔ اگر ایک شیعہ نوجوان یونیورسٹی، میڈیا، عدالت، ہسپتال، کاروبار، اور سوشل پلیٹ فارم پر علمی و اخلاقی اعتبار سے ممتاز ہوگا تو وہ خاموش تبلیغ کا سب سے مؤثر ذریعہ بن جائے گا۔

اسی طرح شیعہ قیادت کو صرف شیعہ مسائل کی جماعت بننے کے بجائے قومی مسائل کی آواز بننا ہوگا۔ جب وہ مہنگائی، کرپشن، بے روزگاری، تعلیمی تباہی، منشیات، فحاشی، خاندانی نظام کے بحران، صحت کے مسائل، اور ظلم کے خلاف بات کریں گے تو عام سنی، بریلوی، دیوبندی، اہل حدیث، عیسائی، ہندو، اور حتیٰ کہ سیکولر طبقہ بھی انہیں ایک ذمہ دار اور مخلص قوت کے طور پر دیکھے گا۔ یہ حکمت عملی مکی دور کی اس روش سے قریب ہے جہاں رسول اکرم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صرف مسلمانوں کے داخلی مسائل نہیں بلکہ پورے معاشرے کی اخلاقی اصلاح کو اپنا ہدف بنایا تھا۔

شیعہ تنظیموں کو رفاہی اور سماجی میدان میں بھی اپنی موجودگی مضبوط کرنی چاہیے۔ فری کلینکس، تعلیمی ادارے، یوتھ ٹریننگ سینٹرز، خواتین کی تربیتی مجالس و محافل، فیملی کونسلنگ، ذہنی صحت کے مراکز، اور غریبوں کی کفالت جیسے منصوبے نہ صرف قوم کو مضبوط کریں گے بلکہ رائے عامہ کو بھی بدلیں گے۔ لوگوں کے دل صرف مناظروں سے نہیں بلکہ خدمت سے جیتے جاتے ہیں۔ اگر کسی علاقے میں شیعہ ادارہ وہاں کے ہر غریب، ہر مریض، اور ہر ضرورت مند کے لیے امید بن جائے تو فرقہ وارانہ نفرت خود کمزور پڑنے لگتی ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ میڈیا اور ڈیجیٹل دنیا کو نظر انداز کرنا خودکشی کے مترادف ہوگا۔ آج رائے عامہ منبر سے زیادہ موبائل اسکرین پر بنتی ہے۔ لہٰذا علمی، مہذب، مختصر مگر مؤثر مواد تیار کرنا، ڈاکیومنٹریز، پوڈکاسٹس، علمی گفتگو، تاریخی حقائق، اور اخلاقی پیغامات کو جدید زبان اور جدید میڈیا کے ذریعے عام کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ اس میدان میں جذباتی نعروں سے زیادہ معیاری فکر کی ضرورت ہے۔

دیگر مذہبی اور سیکولر طبقات کے ساتھ تعلقات میں بھی تصادم کے بجائے “مشترک انسانی و اخلاقی اقدار” کی بنیاد پر حکمت عملی اپنانا ضروری ہے۔ شیعہ قیادت کو یہ دکھانا ہوگا کہ وہ صرف اپنے حقوق نہیں بلکہ پورے معاشرے میں عدل، آزادی، اخلاق، تعلیم، اور انسانی وقار کی حامی ہے۔ اس طرح شیعہ قوم ایک “بند فرقہ” کے بجائے ایک “مثبت فکری و اخلاقی قوت” کے طور پر ابھر سکتی ہے۔

امام زمانہؑ کے ظہور کی حقیقی زمینہ سازی بھی یہی ہے کہ ایک ایسی باشعور، بااخلاق، علمی، منظم، خدمت گزار، اور حکیم امت تیار ہو جو ظلم کے خلاف کھڑی ہو مگر فساد پیدا نہ کرے، جو اپنے عقائد پر مضبوط ہو مگر دوسروں کے لیے رحمت بنے، اور جو وقتی سیاست سے بلند ہو کر ایک طویل تہذیبی جدوجہد کا حصہ بن جائے۔ مکی دور ہمیں یہی سکھاتا ہے کہ اقلیت ہونے کے باوجود اگر فکر، اخلاق، شعور، صبر، تنظیم، اور دعوت مضبوط ہو تو تاریخ کا دھارا بدلا جا سکتا ہے۔

*فدائیان قائد ملت جعفریہ*

مختصر لنک: https://www.siraat-times.com/?p=2941

ٹیگز

تبصرے