بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم۔
سید جہانزیب عابدی
ولایتِ فقیہ کا تصور شیعہ فقہ و اصول میں کوئی جدید سیاسی ایجاد نہیں بلکہ اس کی جڑیں امامیہ فقہ کی پوری علمی روایت میں پائی جاتی ہیں۔ البتہ یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ “ولایتِ فقیہ” ہمیشہ ایک باقاعدہ ریاستی نظام یا ایک عالمی قیادت کی صورت میں موجود نہیں رہی، بلکہ یہ مختلف ادوار میں فقہی استنباط اور اجتماعی ضرورت کے مطابق “فقہاء کے عمومی اختیارات” کی شکل میں عملی طور پر موجود رہی ہے۔ یعنی امام خمینیؒ سے پہلے بھی فقہاء کو مختلف دینی، قضائی، مالی اور اجتماعی امور میں ولایت حاصل تھی، مگر وہ ایک مرکزی سیاسی حکومت کی شکل میں منظم نہیں تھی۔
اگر تاریخی تسلسل کو دیکھا جائے تو غیبتِ کبریٰ کے آغاز کے بعد سب سے پہلے جن فقہاء نے امامؑ کی نیابتِ عامہ کو علمی طور پر واضح کیا، ان میں شیخ مفیدؒ نمایاں ہیں۔ انہوں نے اپنی کتاب المقنعہ اور دیگر کتب میں یہ بات بیان کی کہ فقہاء کو حدود، قضاوت اور دینی احکام میں امامؑ کی طرف سے نیابت حاصل ہے۔ ان کے بعد سید مرتضیٰ علم الہدیٰؒ اور سید رضیؒ نے فقہاء کے دائرۂ اختیار کو مزید منظم انداز میں بیان کیا اور اجتماعی امور میں ان کی ذمہ داریوں کو واضح کیا۔
اس کے بعد شیخ طوسیؒ نے اپنی کتب تهذيب الأحكام اور المبسوط میں فقہی نظام کو ایک باقاعدہ علمی ساخت دی اور یہ اصول واضح کیا کہ فقہاء نہ صرف عبادات بلکہ معاشرتی اور عدالتی نظام میں بھی امامؑ کے نائب ہیں۔ اس دور میں اگرچہ کوئی “ایک مرکزی ولی فقیہ” نہیں تھا، لیکن بڑے فقہاء جیسے شیخ طوسیؒ خود بغداد و نجف میں شیعہ علمی و قضائی مرجع کی حیثیت رکھتے تھے اور عملاً امت کے لیے ایک مرکزی دینی اتھارٹی کا کردار ادا کر رہے تھے۔
بعد کے ادوار میں علامہ حلیؒ نے تذكرة الفقهاء اور دیگر فقہی آثار میں ولایتِ فقہاء کو مزید تفصیل سے بیان کیا اور اسے عبادات سے آگے بڑھا کر اجتماعی نظم تک وسیع کیا۔ صفوی دور میں جب ایران میں شیعہ حکومت قائم ہوئی تو فقہاء کا کردار صرف علمی نہیں رہا بلکہ عملی طور پر ریاستی نظام میں بھی داخل ہو گیا۔ اس دور میں محقق کرکیؒ جیسے فقہاء کو شاہی دربار میں “نائب الامام” کے طور پر رسمی اختیارات دیے گئے، اور فقہی لحاظ سے ان کا مقام ایک طرح کی عملی ولایت کی صورت اختیار کر گیا۔
بعد کے زمانے میں محقق نراقیؒ نے اپنی کتاب عوائد الایام میں ایک نہایت اہم نظریاتی نکتہ پیش کیا کہ جو تمام اختیارات معصوم امامؑ کو حاصل ہیں، ان میں سے وہ امور جو نظمِ معاشرہ اور عدلِ اجتماعی سے متعلق ہیں، وہ جامع الشرائط فقیہ کو بھی بطور نیابت حاصل ہیں۔ یہی وہ علمی بنیاد ہے جس پر بعد میں ولایتِ فقیہ کا سیاسی تصور زیادہ واضح ہوا۔
قاجار دور اور اس کے بعد کے زمانے میں شیخ انصاریؒ کو فقہِ شیعہ میں مرجعِ اعلیٰ سمجھا جاتا ہے۔ ان کی کتاب المکاسب اور الرسائل میں اگرچہ “ولایتِ فقیہ” کا سیاسی تصور ایک منظم ریاستی نظریہ کے طور پر نہیں ملتا، لیکن “حکومتِ شرعیہ”، “قضاوت”، “اموالِ شرعیہ” اور “نظمِ اجتماعی” میں فقہاء کے اختیارات کو تفصیل سے قبول کیا گیا ہے۔ اس دور میں مرجعیت ایک “علمی قیادت” کی شکل میں موجود تھی اور ہر بڑے فقیہ کو اپنے زمانے میں دینی مرکزیت حاصل تھی، جیسے شیخ انصاریؒ، آیت اللہ بروجردیؒ وغیرہ۔
لہٰذا اگر اس سوال کو تاریخی طور پر دیکھا جائے کہ امام خمینیؒ سے پہلے ولایتِ فقیہ کس کے پاس تھی تو اس کا جواب یہ ہے کہ ولایتِ فقیہ کسی ایک شخص کے پاس محدود نہیں تھی بلکہ ہر جامع الشرائط فقیہ کو اپنے دائرۂ اختیار میں نیابتِ امامؑ حاصل تھی۔ البتہ وہ ولایت مختلف فقہاء کے درمیان علمی مرجعیت کی صورت میں تقسیم تھی، نہ کہ ایک سیاسی مرکزی حکومت کی صورت میں۔ امام خمینیؒ نے اسی بکھرے ہوئے فقہی اصول کو ایک منظم ریاستی نظریے کی شکل دی اور اسے عملی نظامِ حکومت میں تبدیل کیا۔
اس کے بعد انقلابِ اسلامی کے بعد یہ تصور ریاستی سطح پر نافذ ہوا، اور امام خمینیؒ کے بعد یہ قیادت فقہی اصول کے مطابق اگلے جامع الشرائط فقیہ کی طرف منتقل ہوئی۔ شیعہ نظریے کے مطابق یہ تسلسل فردی نہیں بلکہ اصولی ہے، یعنی ولایت کسی شخص کی ذاتی ملکیت نہیں بلکہ “فقاہت، عدالت اور تقویٰ” کے معیار پر قائم ایک دینی منصب ہے جو ہر زمانے میں اہلِ شرائط فقیہ میں سے کسی کو حاصل ہوتا ہے۔
