3

*حجت خدا ! امام زمانہ عج یا فقیہ*

  • نیوز کوڈ : 2955
  • 12 May 2026 - 1:12
*حجت خدا ! امام زمانہ عج یا فقیہ*

*حجت خدا ! امام زمانہ عج یا فقیہ*

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔

سید جہانزیب عابدی

جب یہ سوال اٹھایا جائے کہ اگر امامِ معصومؑ پردۂ غیبت میں ہیں تو امت کی عملی، فکری، سیاسی، فقہی اور اجتماعی رہنمائی کون کرے گا؟ کیا مسلمان صرف انفرادی عبادات تک محدود رہیں یا اجتماعی زندگی، حکومت، عدالت، دفاع، تعلیم، معیشت اور تہذیبی بقا کیلئے بھی کوئی دینی نظام موجود ہے؟ اسی پس منظر میں “نیابتِ عامہ”، “مرجعیت”، “ولایتِ فقیہ” اور “حجت” جیسے مفاہیم زیرِ بحث آتے ہیں۔ ان مباحث کا مقصد معصوم امامؑ کے مقام کو کم کرنا نہیں ہوتا بلکہ یہ واضح کرنا ہوتا ہے کہ امامؑ کی غیبت کے باوجود اللہ نے امت کو بے راہنما اور بے نظام نہیں چھوڑا، بلکہ ہدایت اور رہبری کا ایک سلسلہ جاری رکھا ہے۔

شیعہ عقیدے میں “حجت” کا مفہوم نہایت عمیق اور وسیع ہے۔ حجت صرف اُس ہستی کو نہیں کہا جاتا جو ظاہری طور پر ہر مسئلہ خود آکر حل کرے، بلکہ حجت اُس الٰہی مرکز کو کہتے ہیں جس کے ذریعے اللہ بندوں پر اپنی ہدایت، حقانیت اور نظامِ عدل کو قائم کرتا ہے۔ ائمہ اہل بیتؑ چونکہ اللہ کی کامل حجت ہیں، اس لیے وہ صرف عبادات کی تعلیم دینے والے افراد نہیں بلکہ انسانی زندگی کے ہر شعبے کیلئے معیارِ ہدایت ہیں۔ لیکن جب امامؑ غیبت میں ہوں تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ معاشرہ اپنی اجتماعی زندگی کیسے چلائے؟ کیا دین صرف چند انفرادی احکام کا نام رہ جائے یا ایک زندہ اور متحرک نظام کے طور پر باقی رہے؟ یہی وہ مقام ہے جہاں فقہاء کی نیابت اور ولایت کا تصور سامنے آتا ہے۔

اگر انسان اپنی روزمرہ زندگی پر غور کرے تو واضح ہوتا ہے کہ اللہ نے دنیا کو “نظامِ اسباب” پر قائم کیا ہے۔ اللہ ہی شفا دینے والا ہے مگر علاج ڈاکٹر کے ذریعے ہوتا ہے۔ اللہ ہی رزق دینے والا ہے مگر انسان کھیتی، تجارت اور محنت کے ذریعے رزق حاصل کرتا ہے۔ اللہ ہی حفاظت کرنے والا ہے مگر انسان اپنے گھر کی حفاظت کیلئے دروازے، تالے، محافظ اور قانون کا انتظام کرتا ہے۔ اسی طرح اللہ ہی حقیقی ہادی ہے مگر ہدایت انبیاء، ائمہؑ، علماء اور صالح رہنماؤں کے ذریعے انسانوں تک پہنچتی ہے۔ لہٰذا یہ تصور کہ امامؑ کی غیبت کے بعد کوئی نمائندہ نظام نہ ہو، دراصل سنتِ الٰہی کے عمومی اصول کے خلاف ہے۔

“حجت” کا مفہوم صرف یہ نہیں کہ امامؑ ہر کام براہِ راست آکر انجام دیں، بلکہ اللہ اپنی حجت کے “نظام” کے ذریعے معاشرے کی ہدایت، حفاظت اور رہبری کا انتظام فرماتا ہے۔ غیبت کے دور میں یہی نظام “نیابتِ عامہ” اور “ولایتِ فقیہ” کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ اس لیے اگر کسی فقیہِ جامع الشرائط کو “حجتِ خدا” کہا جائے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ معصوم امامؑ کے برابر ہے، بلکہ یہ کہ وہ امامؑ کی طرف سے دین، عدالت اور امت کی رہبری کیلئے حجت اور مرجعِ رجوع ہے۔

مثالوں سے بات زیادہ واضح ہو جاتی ہے۔

جیسے انسان بیماری میں ڈاکٹر کے پاس جاتا ہے۔ کیا امام زمانہؑ براہِ راست آکر ہر مریض کا علاج کرتے ہیں؟ نہیں۔ مگر اللہ نے شفا کا نظام اسباب کے ذریعے رکھا ہے۔ ڈاکٹر، حکیم، دوا، ہسپتال — یہ سب وسیلہ بنتے ہیں۔ اسی طرح روحانی، اجتماعی اور سیاسی بیماریوں میں فقیہِ عادل امامؑ کی نیابت میں رہنمائی کرتا ہے۔

اسی طرح عدالت کے نظام کو دیکھیں۔ اگر معاشرے میں ظلم ہو، خونریزی ہو، لوگوں کے حقوق غصب ہوں، تو کیا ہر مقدمے میں امام زمانہؑ ظاہر ہوکر فیصلہ کریں گے؟ غیبت کے دور میں قاضی، فقیہ اور اسلامی نظامِ عدالت امامؑ کی نیابت میں فیصلے کرتے ہیں تاکہ معاشرہ فساد سے محفوظ رہے۔ اگر کوئی فقیہ نہ ہو تو ہر شخص دین کی اپنی تشریح شروع کردے گا اور امت انتشار کا شکار ہو جائے گی۔

اقتصادی میدان میں بھی یہی صورت ہے۔ خمس، زکات، بیت المال، محروموں کی کفالت، دینی اداروں کی سرپرستی — یہ سب کون انجام دے گا؟ اگر کوئی مرکزی دینی قیادت نہ ہو تو مالی نظام بکھر جائے گا، دینی مراکز کمزور ہو جائیں گے اور دشمن آسانی سے امت کو خرید لے گا۔ فقیہ اس نظام کو امامؑ کی امانت سمجھ کر چلاتا ہے۔

اسی طرح دفاعی اور سیاسی میدان میں دیکھیں۔ اگر دشمن اسلامی سرزمینوں پر حملہ کرے تو کیا امت بغیر قیادت کے جنگ لڑ سکتی ہے؟ ہر گروہ اپنی الگ رائے رکھے گا اور نتیجہ تباہی ہوگا۔ ولی فقیہ امت کو متحد کرکے دشمن کے مقابلے میں حکمتِ عملی دیتا ہے، جیسے ایک سپہ سالار فوج کو منتشر ہونے سے بچاتا ہے۔ غیبت کے دور میں یہ وحدتِ قیادت امت کیلئے ناگزیر ہوتی ہے۔

ثقافتی اور فکری میدان میں بھی فقیہ کی ضرورت واضح ہے۔ آج میڈیا، سوشل میڈیا، فلمیں، تعلیمی نظام اور عالمی طاقتیں نوجوانوں کے عقائد، اخلاق اور شناخت پر اثرانداز ہو رہی ہیں۔ اگر کوئی دینی و فکری رہبر نہ ہو تو نسلیں آہستہ آہستہ اپنی دینی شناخت کھو دیتی ہیں۔ ولی فقیہ صرف سیاسی رہبر نہیں بلکہ فکری محافظ بھی ہوتا ہے جو امت کو فکری یلغار سے بچاتا ہے۔

اسی طرح بین الاقوامی سطح پر امتِ مسلمہ کو ایک اجتماعی شعور اور موقف دینا بھی فقیہ کی ذمہ داری بنتی ہے۔ اگر ہر ملک اور ہر گروہ صرف اپنے مفاد میں سوچے تو امت ایک جسم کے بجائے بکھرے ہوئے جزائر بن جاتی ہے۔ ولی فقیہ امت کو ایک بڑی دینی ذمہ داری اور عالمی شعور کی طرف متوجہ کرتا ہے۔

اہم نکتہ یہ ہے کہ شیعہ عقیدے میں اصل “حجتِ مطلق” صرف معصوم امامؑ ہیں۔ مگر معصومؑ اپنی غیبت میں ایسے افراد کو امت کیلئے مرجعِ رجوع بناتے ہیں جو دین کے عالم، عادل، مدیر اور باصلاحیت ہوں۔ اسی لیے روایات میں آیا ہے کہ فقہاء “حجتی علیکم” یعنی “تم پر میری حجت” ہیں۔ اس کا مطلب نمائندگی اور نیابت ہے، نہ کہ مقامِ عصمت یا امامت میں برابری۔

حدیث توقیع ایک اہم حدیث ہے جو شیعہ عقائد میں امام مہدی (عج) کی غیبت اور ان کی نمائندگی کے حوالے سے خاص اہمیت رکھتی ہے۔ یہ حدیث غیبتِ صغریٰ کے آخری سفیر، حضرت علی بن محمد سمری (رح) کے انتقال کے قریب کے وقت صادر ہوئی اور اس میں امام مہدی (عج) نے غیبتِ کبریٰ کے آغاز اور آئندہ کے لیے علماء کی ذمہ داریوں کو واضح کیا۔

 حدیث توقیع کی تفصیل:

امام مہدی (عج) کے چوتھے نائب، علی بن محمد سمری (رح) کو امام (عج) کی طرف سے ایک خط (توقیع) موصول ہوا جس میں ان کی وفات کے بارے میں خبر دی گئی اور بتایا گیا کہ ان کے بعد کوئی اور خاص نائب مقرر نہیں ہوگا۔ امام مہدی (عج) نے اس توقیع میں کہا:

> “بسم الله الرحمن الرحیم

 اے علی بن محمد سمری، خدا تجھے 6 دن میں وفات دے گا۔ اس لیے اپنے امور کو انجام دے لے اور کسی کو اپنا جانشین مقرر نہ کر، کیونکہ تمہاری وفات کے بعد غیبت کبریٰ شروع ہوگی اور اب میرا کوئی خاص نائب نہیں ہوگا۔ اس وقت تک جب تک اللہ کا حکم نہیں آجائے گا اور وہ مجھے ظاہر نہیں کرے گا۔ اور اس دوران جو بھی میرا نائب ہونے کا دعویٰ کرے گا، وہ جھوٹا اور افترا پرداز ہوگا۔”

 اور فرمایا:

فَأَمَّا الْحَوَادِثُ الْوَاقِعَةُ فَارْجِعُوا فِيهَا إِلَى رُوَاةِ حَدِيثِنَا فَإِنَّهُمْ حُجَّتِي عَلَيْكُمْ وَأَنَا حُجَّةُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ” 

ترجمہ: “جب نئے مسائل پیش آئیں تو ان میں ہمارے حدیث بیان کرنے والوں (علماء) کی طرف رجوع کرو کیونکہ وہ تم پر میری حجت ہیں اور میں ان پر خدا کی حجت ہوں۔”

لہٰذا جب کوئی امام خامنہ ای جیسے ولی فقیہ کو “حجتِ خدا” کہتا ہے تو اگر اس سے مراد یہ ہو کہ وہ امامِ معصومؑ کے قائم مقام اور دینِ خدا کے نفاذ و دفاع کیلئے حجت ہیں، تو یہ مفہوم روایاتِ نیابتِ فقہاء کے مطابق سمجھا جا تا ہے۔ لیکن اگر کوئی اس لفظ سے معصوم امامؑ کے برابر مستقل الٰہی حجت مراد لے تو پھر یہ درست نہیں ہوگا، کیونکہ شیعہ عقیدے میں مطلق و کامل حجت صرف امامِ معصومؑ ہوتے ہیں۔

مختصر لنک: https://www.siraat-times.com/?p=2955

ٹیگز

تبصرے