بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم۔
سید جہانزیب عابدی
انسانی علم کا سفر صرف معلومات جمع کرنے کا عمل نہیں بلکہ نفس، شعور، اخلاق اور روح کی تربیت کا سفر بھی ہے۔ جتنا انسان علم میں آگے بڑھتا ہے اتنا ہی اس کے اندر ایک خطرناک اور نازک امتحان شروع ہوتا ہے، کیونکہ علم انسان کو صرف طاقت نہیں دیتا بلکہ اس کے نفس کو بھی وسعت دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ علم رکھنے والے لوگ دو بڑی انتہاؤں کا شکار ہو سکتے ہیں۔ ایک انتہا وہ ہے جہاں انسان اپنے علم کو اپنی ذات کی برتری کا ذریعہ بنا لیتا ہے، اور دوسری انتہا وہ ہے جہاں انسان مسلسل اپنی کمزوری اور نااہلی کے احساس میں اس قدر ڈوب جاتا ہے کہ علم اس کے اندر عمل، ذمہ داری اور قیادت پیدا کرنے کے بجائے ایک دائمی تاخیر اور نفسیاتی فرار بن جاتا ہے۔ قرآنِ مجید نے دونوں کیفیتوں کی مثالیں مختلف انداز میں بیان کی ہیں، کیونکہ دونوں انسان کو حقیقت کے اعتدال سے دور لے جاتی ہیں۔
پہلی انتہا غرورِ علم کی ہے۔ جب انسان کو علم، ذہانت، مال، قوت یا فکری برتری حاصل ہوتی ہے تو اس کے اندر ایک خاموش احساس پیدا ہونے لگتا ہے کہ وہ دوسروں سے مختلف اور بلند ہے۔ اگر یہ احساس اللہ، حق اور ذمہ داری کے شعور سے نہ جڑا ہو تو آہستہ آہستہ علم عبادت کے بجائے انا کی غذا بن جاتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں انسان حقیقت کو اپنی ملکیت سمجھنے لگتا ہے۔ قرآن میں قارون کی مثال اسی نفسیات کی علامت ہے۔ اس نے اپنی دولت اور علم کو اللہ کی عطا سمجھنے کے بجائے اپنی ذاتی قابلیت اور استحقاق کا نتیجہ سمجھا۔ “إِنَّمَا أُوتِيتُهُ عَلَىٰ عِلْمٍ عِندِي” دراصل صرف مال کا غرور نہیں بلکہ اس ذہنیت کا اظہار ہے جہاں انسان یہ سمجھنے لگتا ہے کہ جو کچھ اس کے پاس ہے وہ صرف اس کی ذہانت، اس کے علم اور اس کی برتری کا نتیجہ ہے۔ یہاں علم بندگی سے کٹ کر خودپرستی میں بدل جاتا ہے۔
یہ غرور صرف مالدار یا حکمران انسان میں نہیں آتا بلکہ عالم، محقق، دانشور اور مذہبی راہنما بھی اس کا شکار ہو سکتے ہیں۔ جب انسان اپنے علم کو دوسروں پر فوقیت، تحقیر یا کنٹرول کا ذریعہ بنا لے تو وہ حقیقت سے دور ہونے لگتا ہے۔ اس کی زبان میں عاجزی باقی رہ سکتی ہے مگر اس کے باطن میں ایک پوشیدہ تکبر پیدا ہو جاتا ہے۔ پھر وہ سیکھنے کے بجائے صرف ثابت کرنے میں دلچسپی لینے لگتا ہے۔ وہ سوال سننے کے بجائے اپنی برتری قائم رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس مقام پر علم روشنی کے بجائے پردہ بن جاتا ہے، کیونکہ انسان علم کے ذریعے خدا کے قریب جانے کے بجائے اپنی ذات کا قلعہ تعمیر کرنے لگتا ہے۔
اسی طرح ابلیس بھی اس پہلی انتہا کی ایک گہری مثال ہے۔ وہ عبادت گزار تھا، علم رکھتا تھا، مگر جب حقیقتِ اطاعت سامنے آئی تو اس نے اپنی عقلی برتری اور اپنی تخلیقی اصل کو معیار بنا لیا: “أَنَا خَيْرٌ مِنْهُ”۔ یہاں علم اور شعور بندگی کے بجائے انا کی غذا بن گئے۔
لیکن دوسری انتہا بھی کم خطرناک نہیں۔ بعض لوگ علم کے سفر میں مسلسل اپنے آپ کو اتنا ناقص، کمزور اور “ابھی نااہل” سمجھتے رہتے ہیں کہ وہ کبھی عمل، ذمہ داری یا خدمت کے میدان میں داخل ہی نہیں ہوتے۔ بظاہر یہ کیفیت عاجزی محسوس ہوتی ہے مگر بعض اوقات اس کے پیچھے ایک نفسیاتی خوف چھپا ہوتا ہے۔ انسان اس خوف سے کہ کہیں غلطی نہ ہو جائے، کہیں تنقید نہ ہو جائے، یا کہیں اس پر ذمہ داری نہ آ جائے، ہمیشہ “میں ابھی طالب علم ہوں” کے مرحلے میں رہنا چاہتا ہے۔ یہ کیفیت ابتدا میں تو تواضع معلوم ہوتی ہے مگر اگر مسلسل جمود بن جائے تو یہ بھی ایک قسم کی نفسیاتی خودمحفوظی بن جاتی ہے۔
قرآن میں اس کیفیت کی مختلف جھلکیاں ملتی ہیں جہاں انسان حق کو جان لینے کے باوجود عمل سے پیچھے ہٹتا ہے۔ بعض لوگ مسلسل مزید علم کے انتظار میں رہتے ہیں مگر علم کو زندگی میں نافذ نہیں کرتے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ انسان کبھی مکمل نہیں ہوتا۔ اگر عمل کے لیے “کامل علم” کی شرط لگا دی جائے تو انسان پوری زندگی تیاری ہی کرتا رہ جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ حقیقی اہلِ علم وہ ہیں جو سیکھتے بھی رہتے ہیں اور جو جان چکے ہیں اس پر عمل بھی کرتے رہتے ہیں۔
دوسری انتہا یعنی دائمی کم تری، عمل سے فرار یا ذمہ داری سے پیچھے ہٹنے کی مثال بنی اسرائیل کے بعض رویوں میں نظر آتی ہے۔ جب انہیں جہاد اور عمل کا حکم دیا گیا تو انہوں نے کہا: “فَاذْهَبْ أَنتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَا إِنَّا هَاهُنَا قَاعِدُونَ” یعنی “آپ اور آپ کا رب جا کر لڑیں، ہم تو یہیں بیٹھے ہیں۔” یہاں صرف بزدلی نہیں بلکہ ایک نفسیاتی جمود بھی موجود ہے۔ حق کو جاننے کے باوجود میدانِ عمل سے پیچھے ہٹ جانا۔ اسی طرح قرآن ان لوگوں کا بھی ذکر کرتا ہے جو مسلسل بہانے بناتے رہے، کبھی اپنی کمزوری کا، کبھی حالات کا، اور کبھی اپنی نااہلی کا، یہاں تک کہ علم اور ہدایت ان کے اندر حرکت پیدا نہ کر سکے۔ یہ کیفیت بعض اوقات بظاہر عاجزی لگتی ہے مگر حقیقت میں ذمہ داری سے فرار بن جاتی ہے۔
ایک اور گہری مثال وہ شخص ہے جسے قرآن نے “آیات” دی تھیں مگر وہ زمین کی خواہشات کی طرف جھک گیا، یعنی بلعم باعورا کے حوالے سے مفسرین جو مثال بیان کرتے ہیں۔ یہاں مسئلہ صرف غرور نہیں بلکہ یہ بھی ہے کہ علم عمل اور ذمہ داری میں تبدیل نہ ہو سکا۔ انسان جانتا تھا مگر اس کا شعور اس کی خواہشات کے بوجھ تلے دب گیا۔
یہ دوسری انتہا اس وقت زیادہ خطرناک ہو جاتی ہے جب انسان عاجزی کے نام پر اپنی ذمہ داری سے فرار اختیار کرنے لگتا ہے۔ وہ خود کو مسلسل حقیر ظاہر کرتا ہے مگر حقیقت میں وہ میدان میں اترنے کے خوف سے بچ رہا ہوتا ہے۔ بعض لوگ علم کو زندگی کی تبدیلی کے بجائے ایک دائمی تیاری میں بدل دیتے ہیں۔ وہ ہمیشہ مطالعہ کرتے رہتے ہیں، مزید سیکھنے کی بات کرتے رہتے ہیں، مگر کبھی اپنے علم کو معاشرے، تربیت، اصلاح یا قیادت میں منتقل نہیں کرتے۔ اس طرح علم حرکت پیدا کرنے کے بجائے ایک نفسیاتی پناہ گاہ بن جاتا ہے۔
اعتدال کا راستہ ان دونوں انتہاؤں کے درمیان ہے۔ حقیقی عالم نہ قارون کی طرح اپنے علم پر مغرور ہوتا ہے اور نہ اپنی ذمہ داری سے بھاگنے کے لیے دائمی کم تری کا شکار رہتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ علم اللہ کی امانت ہے، ذاتی ملکیت نہیں۔ اسی لیے اس کے اندر اعتماد بھی ہوتا ہے اور عاجزی بھی۔ وہ اپنی صلاحیتوں کو پہچانتا ہے مگر انہیں اپنی ذات کی مطلق برتری نہیں سمجھتا۔ وہ یہ بھی جانتا ہے کہ انسان محدود ہے، اس لیے وہ مسلسل سیکھتا رہتا ہے، مگر ساتھ ہی یہ بھی سمجھتا ہے کہ جو حق اس پر واضح ہو چکا ہے اس پر عمل اور خدمت بھی ضروری ہے۔
قرآن کی تعلیمات میں یہی متوازن شخصیت مطلوب ہے۔ حضرت موسیٰؑ جیسے عظیم نبی کو بھی “وَفَوْقَ كُلِّ ذِي عِلْمٍ عَلِيمٌ” کی حقیقت سکھائی جاتی ہے تاکہ علم کے باوجود عاجزی باقی رہے۔ دوسری طرف انبیاءؑ صرف طالب علم بن کر نہیں بیٹھے رہے بلکہ انہوں نے اپنے علم کو عمل، قیادت، دعوت اور اصلاح میں بدلا۔ یہی اصل اعتدال ہے کہ انسان نہ خود کو خدا سمجھے اور نہ خود کو ہمیشہ کے لیے بے کار طالب علم۔ موسیٰ ع ایک عظیم مثال ہیں۔ ان کے پاس وحی، قیادت اور معجزات تھے، مگر جب انہیں ایک اور علم کی طرف رہنمائی ملی تو انہوں نے تکبر نہیں کیا بلکہ کہا: “هَلْ أَتَّبِعُكَ عَلَىٰ أَن تُعَلِّمَنِ” یعنی “کیا میں آپ کے ساتھ رہ سکتا ہوں تاکہ آپ مجھے سکھائیں؟” یہ حقیقی علم کی عاجزی ہے۔ نہ غرور، نہ فرار۔ وہ عظیم نبی ہونے کے باوجود سیکھنے کے لیے تیار ہیں، مگر ساتھ ہی اپنی نبوی ذمہ داری سے بھی پیچھے نہیں ہٹتے۔
اسی طرح حضرت سلیمان ع اعتدال کی ایک اور عظیم مثال ہیں۔ انہیں بادشاہت، علم، قوت اور اختیار دیا گیا، مگر جب انہوں نے نعمت دیکھی تو کہا: “هَٰذَا مِن فَضْلِ رَبِّي” یعنی “یہ میرے رب کا فضل ہے۔” یہاں طاقت بھی ہے، علم بھی ہے، قیادت بھی ہے، مگر انا نہیں۔ وہ نہ اپنی صلاحیت سے انکار کرتے ہیں اور نہ اسے اپنی ذاتی خدائی سمجھتے ہیں۔
حضرت یوسف ع بھی اسی متوازن راہ کی مثال ہیں۔ وہ قید سے نکل کر اقتدار تک پہنچتے ہیں، اپنی صلاحیت کو پہچانتے بھی ہیں: “إِنِّي حَفِيظٌ عَلِيمٌ”، مگر اس صلاحیت کو ذاتی غرور کے بجائے اجتماعی خیر اور عدل کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ یہاں خوداعتمادی بھی ہے، ذمہ داری بھی، مگر تکبر نہیں۔
نفسیاتی طور پر یہ اعتدال اس وقت پیدا ہوتا ہے جب انسان اپنی ذات کو “مرکز” کے بجائے “امانت دار” سمجھے۔ یعنی علم نہ تو اس کی انا کی ملکیت ہے اور نہ اس کے فرار کا بہانہ۔ وہ اپنے علم کو خدمت، اصلاح اور قربِ الٰہی کا ذریعہ سمجھتا ہے۔ اسی لیے اس کے اندر ایک عجیب توازن پیدا ہوتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ وہ سب کچھ نہیں جانتا، مگر جو جانتا ہے اس کی ذمہ داری بھی قبول کرتا ہے۔ وہ سوال بھی کرتا ہے، سیکھتا بھی ہے، مگر ساتھ ہی میدانِ عمل میں بھی اترتا ہے۔
حقیقی تواضع یہ نہیں کہ انسان مسلسل اپنی نفی کرتا رہے، بلکہ یہ ہے کہ انسان اپنی صلاحیت کو اللہ کی عطا سمجھتے ہوئے اسے حق کے لیے استعمال کرے۔ اسی طرح حقیقی اعتماد یہ نہیں کہ انسان خود کو بے خطا سمجھنے لگے، بلکہ یہ ہے کہ انسان اپنی محدودیت کو جانتے ہوئے بھی حق کی خدمت سے پیچھے نہ ہٹے۔ یہی اعتدال انسان کو علم کے غرور سے بھی بچاتا ہے اور علم کے نام پر جمود اور فرار سے بھی۔ قرآن کی روشنی میں اعتدال یہی ہے کہ انسان اپنے علم، صلاحیت اور مقام کو اللہ کی امانت سمجھے۔ نہ وہ قارون کی طرح “یہ سب میری وجہ سے ہے” کہے، اور نہ اس خوف میں زندگی گزارے کہ “میں ابھی کچھ نہیں، اس لیے کبھی آگے نہ بڑھوں”۔ بلکہ وہ یہ سمجھے کہ “میں محدود ہوں مگر ذمہ دار بھی ہوں، میں سیکھنے والا بھی ہوں اور جواب دہ بھی”۔ یہی وہ متوازن شعور ہے جو انسان کو خدا کے قریب بھی لے جاتا ہے اور اسے انسانوں کے لیے نفع بخش بھی بناتا ہے۔
