بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم۔
سید جہانزیب عابدی
انسانی تاریخ کا ایک گہرا مطالعہ یہ حقیقت آشکار کرتا ہے کہ قومیں صرف ہتھیاروں، دولت، صنعت یا سیاسی نعروں سے زندہ نہیں رہتیں بلکہ ان کے باطن میں موجود فکری و اخلاقی قوت ہی دراصل ان کی اصل طاقت ہوتی ہے۔ جب کسی معاشرے کے اندر یہ داخلی قوت مرنے لگتی ہے تو بظاہر وسائل، آبادی اور مادی ترقی کے باوجود وہ قوم اندر سے کھوکھلی ہونے لگتی ہے۔ اس کے برعکس اگر کسی قوم کے اندر ایک زندہ شعور، اعلیٰ مقصد، اخلاقی مرکز اور قربانی کا جذبہ موجود ہو تو وہ شدید کمزوری، فقر، جبر اور استبداد کے باوجود تاریخ کا رخ موڑ سکتی ہے۔
دنیا کی بڑی تبدیلیاں ہمیشہ پہلے انسان کے ذہن اور روح میں پیدا ہوئی ہیں، بعد میں سیاسی و معاشی نظام تبدیل ہوئے ہیں۔ کسی بھی ظالمانہ نظام کی اصل قوت صرف اس کے ہتھیار، فوج یا سرمایہ نہیں ہوتے بلکہ اس سے زیادہ اہم یہ ہوتا ہے کہ محکوم قوم اندر سے کتنی منتشر، خود غرض، خوف زدہ یا فکری طور پر بے سمت ہوچکی ہے۔ جب ایک قوم اپنے وجود کا مقصد کھو دیتی ہے تو وہ آسانی سے مادی لذتوں، نسلی تعصبات، ذاتی مفادات اور وقتی آسائشوں میں بکھر جاتی ہے۔ ایسے معاشروں میں اجتماعی مزاحمت کی قوت کمزور پڑ جاتی ہے کیونکہ ہر فرد اپنی انفرادی بقا کو اجتماعی حق پر ترجیح دینے لگتا ہے۔
اسی لیے حقیقی آزادی کا آغاز ہمیشہ فکری و اخلاقی بیداری سے ہوتا ہے۔ انسان اگر صرف مادی ضرورتوں کو اپنی زندگی کا محور بنا لے تو وہ جلد یا بدیر طاقتور طبقات کے ہاتھوں استعمال ہونے لگتا ہے، کیونکہ مادّی خواہشات انسان کو خوف اور لالچ دونوں کے ذریعے قابو میں لانے کا آسان ذریعہ بن جاتی ہیں۔ لیکن جب انسان کی شخصیت کسی بلند مقصد، ابدی معنویت اور اخلاقی ذمہ داری سے جڑ جاتی ہے تو اس کے اندر ایک ایسی استقامت پیدا ہوتی ہے جو محض معاشی دباؤ یا سیاسی جبر سے نہیں ٹوٹتی۔ یہی وہ مقام ہے جہاں نظریہ، بصیرت اور worldview محض فکری مباحث نہیں رہتے بلکہ اجتماعی بقا اور مزاحمت کی روح بن جاتے ہیں۔
تاریخ میں وہی اقوام بڑی تبدیلیاں لا سکیں جنہوں نے اپنے افراد کے اندر یہ احساس پیدا کیا کہ انسان کی زندگی صرف ذاتی مفاد، آرام اور حیوانی آسائش کے لیے نہیں بلکہ ایک بڑی اخلاقی ذمہ داری کے لیے ہے۔ جب قومیں اپنے آپ کو کسی اعلیٰ مقصد سے وابستہ سمجھتی ہیں تو ان کے اندر قربانی ایک بوجھ نہیں بلکہ اعزاز بن جاتی ہے۔ یہی وہ کیفیت ہے جس میں انسان اپنی جان، مال، وقت اور صلاحیت کو ایک بڑے اجتماعی نصب العین کے لیے استعمال کرنے پر آمادہ ہوتا ہے۔ ایسی قوموں کے سامنے ظالم قوتیں بظاہر طاقتور ہونے کے باوجود اندر سے کمزور پڑنے لگتی ہیں، کیونکہ ظلم کی بنیاد خوف پر ہوتی ہے جبکہ بیدار قوم کی بنیاد یقین پر قائم ہوتی ہے۔
لیکن صرف جذباتی تحریکیں دیرپا تبدیلی پیدا نہیں کرتیں۔ اگر کسی قوم کے پاس مضبوط اخلاقی و فکری بنیاد نہ ہو تو انقلابی جذبہ بھی جلد انتشار، انتقام، شخصیت پرستی یا نئے استبداد میں بدل سکتا ہے۔ اسی لیے کسی بھی صالح اجتماعی نظام کے لیے دو چیزوں کا جمع ہونا ضروری ہے: ایک اعلیٰ اخلاقی شعور، اور دوسرا علمی و عملی صلاحیت۔ محض نیک نیتی کافی نہیں ہوتی، کیونکہ کمزور اور غیر ماہر قیادت معاشرے کو انتشار میں دھکیل سکتی ہے۔ اسی طرح صرف ذہانت اور مہارت بھی کافی نہیں، کیونکہ اگر علم اخلاقی مرکز سے خالی ہو تو وہ ظلم کو زیادہ مؤثر اور منظم بنا دیتا ہے۔
یہاں تقویٰ کا تصور نہایت اہم ہوجاتا ہے۔ تقویٰ صرف چند ظاہری مذہبی اعمال کا نام نہیں بلکہ انسان کے اندر ایک ایسی باطنی نگرانی اور شعوری ذمہ داری کا پیدا ہونا ہے جو اسے طاقت، شہرت، خوف اور خواہشات کے اندھے استعمال سے روکے۔ یہی داخلی ضبط انسان کی عقل کو توازن دیتا ہے۔ جب علم تقویٰ سے جدا ہوجاتا ہے تو ذہانت مکر، استحصال اور اقتدار کی خدمت میں لگ جاتی ہے، لیکن جب علم کے ساتھ اخلاقی جواب دہی اور روحانی شعور موجود ہو تو وہی علم انسانیت کی تعمیر کا ذریعہ بنتا ہے۔
اسی طرح قوموں کی حقیقی وحدت بھی صرف نسل، زبان یا جغرافیہ سے قائم نہیں رہتی۔ پائیدار اتحاد ہمیشہ مشترک اخلاقی مقصد سے پیدا ہوتا ہے۔ اگر قوم کا ہر فرد صرف اپنے طبقے، جماعت، نسل یا ذاتی مفاد کے گرد گھوم رہا ہو تو وہ معاشرہ اندرونی طور پر تقسیم رہتا ہے، چاہے بظاہر ایک ہی پرچم تلے کیوں نہ کھڑا ہو۔ لیکن جب ایک مشترک اخلاقی وژن قوم کی روح بن جائے تو مختلف طبقات، زبانیں اور گروہ بھی ایک بڑے مقصد کے لیے متحد ہوسکتے ہیں۔
انسانی تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ ظلم صرف بندوق سے نہیں پھیلتا بلکہ فکری انحطاط، اخلاقی زوال اور روحانی کمزوری بھی ظالمانہ نظاموں کی بڑی بنیاد ہوتی ہے۔ جو قومیں اندر سے سچ، عدل، دیانت اور اجتماعی ذمہ داری کھو دیتی ہیں، وہ آہستہ آہستہ ایسے افراد کو اقتدار میں لے آتی ہیں جو انہی داخلی کمزوریوں کا عکس ہوتے ہیں۔ اسی لیے حقیقی اصلاح صرف حکومت بدلنے سے نہیں آتی بلکہ انسان کے اندر کے معیار بدلنے سے آتی ہے۔
بالآخر کسی بھی صالح اجتماعی نظام کی کامیابی اس بات پر منحصر ہوتی ہے کہ آیا وہ انسان کو صرف صارف (consumer) بناتا ہے یا ایک ذمہ دار اخلاقی ہستی۔ اگر معاشرہ انسان کو صرف مادی کامیابی کی مشین بنا دے تو وہ وقتی ترقی کے باوجود اندر سے ٹوٹ جاتا ہے۔ لیکن اگر وہ انسان کے اندر عقل، روح، اخلاق، علم، قربانی اور مقصدیت کو بیدار کرے تو وہی معاشرہ طویل مدت میں ایک زندہ اور باوقار تہذیب کی بنیاد بن سکتا ہے۔
