آیت اللہ العظمیٰ سید علی الحسینی سیستانی کا عراق کی سیاسی صورتحال پر بیانیہ
ماڈرن ایجوکیشن اور حضرت امیر المؤمنین علی (ع)
انتظارکا مطلب یہ ہے کہ موجودہ زندگی کو عصرِ ظہوکی خصوصیات کے مطابق گزارا جائے / مدرسہ علمیہ امام صادق (ع) کے مدیر:
لوگ اپنی غلطی کیوں تسلیم نہیں کرتے اور اصلاح کیوں نہیں کرتے
ایرانی سپریم لیڈر کے ملک چھوڑنے کی خبریں گمراہ کن، دشمن کی سازش ہیں: ایرانی سفیر
انسانیت، مزاحمت اور حق کی قیادت
خاموشی یا قیام؟ — تشیع کی سیاسی حکمت اور غیبت کا راز
آیت اللہ حائری شیرازی
یہ نکات دعائے عہد کے گہرے مفاہیم کو واضح کرتے ہیں اور امام زمانہ (عج) سے حقیقی وابستگی اور عملی طور پر منتظر رہنے کی راہ دکھاتے ہیں۔
“شہیدہ آمنہ صرف ایک ادیبہ یا خطیبہ نہیں تھیں بلکہ وہ ایک مکمل انقلابی خاتون تھیں۔ ان کی حیات سے ہمیں یہ سیکھنا چاہیے کہ دین کی خدمت ہر میدان میں ممکن ہے، چاہے وہ تعلیم ہو، ادب ہو یا سیاسی شعور۔”
آیتاللہ حائری شیرازی کی یہ تعلیمات ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ ترقی، شعور اور ہدایت کا راستہ ہمیشہ اپنے اندر بہتری کی تلاش، عاجزی، اور مستقبل کی فکر سے جُڑا ہوا ہے۔ جو انسان رکا نہیں، وہی منزل پر پہنچتا ہے۔
اس مومن کی کامیابی اس کے عمل میں بھی ظاہر ہوتی ہے۔ وہ علم حاصل کرتا ہے تاکہ بصیرت پیدا ہو، وہ زبان اور قلم سے حق کی بات کرتا ہے، لوگوں میں امید، اخلاص، اور انتظار کا شعور بیدار کرتا ہے۔
یہ آیت ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ صرف ظاہری دعووں پر اعتماد نہیں کرنا چاہیے، بلکہ اعمال اور نیتوں کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ اصلاح کے نام پر فساد پھیلانے والے افراد اور گروہوں سے ہوشیار رہنا چاہیے۔
لوگ اس چیز کے دشمن ہوتے ہیں جسے وہ نہیں جانتے۔
یہ ملاقات دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور خطے میں امن و استحکام کے فروغ کی جانب ایک اہم قدم کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔
پس یہ فرض ہے کہ ہم قرآن کی روشنی میں دنیا کے حالیہ استعماری نظام کا تجزیہ کریں، طاغوتی سازشوں کو پہچانیں، ان کے خلاف علمی، اخلاقی، اور عملی سطح پر جہاد کریں، اور یقین رکھیں کہ انجام کار اللہ کا وعدہ سچا ہے، اور مکر و فریب کی بنیادوں پر قائم نظام فنا ہونے والا ہے۔ حق ہمیشہ غالب رہنے والا ہے، کیونکہ وہ رب کی سنت ہے جس میں کوئی تبدیلی نہیں آتی۔
صہیونی ریاست جس تسلسل سے فلسطینی عوام پر حملہ آور ہے، اس کے انداز، نظریات، اور طریقہ کار کو دیکھتے ہوئے یہ سوال بے وجہ نہیں کہ: کیا ہم تاریخ کے کسی نئے “مغولی دور” میں داخل ہو چکے ہیں؟