42

خاموشی یا قیام؟ — تشیع کی سیاسی حکمت اور غیبت کا راز

  • نیوز کوڈ : 2501
  • 07 January 2026 - 18:42
خاموشی یا قیام؟ — تشیع کی سیاسی حکمت اور غیبت کا راز

خاموشی یا قیام؟ — تشیع کی سیاسی حکمت اور غیبت کا راز

 تحریر : سید جہانزیب عابدی

بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم۔

یہ سوال کہ شیعہ قیادت کو ظالم کے سامنے کس انداز سے رہنا چاہیے؟ دراصل محض سیاسی حکمتِ عملی کا نہیں بلکہ تشیع کے پورے فکری، فقہی اور تاریخی شعور کا سوال ہے۔ ظالم حکومت کے ساتھ بظاہر قربت، خاموشی یا ہم نوائی کو اگر سطحی انداز میں دیکھا جائے تو اسے فوراً نفاق، دنیا پرستی یا خوف پر محمول کر دیا جاتا ہے، مگر شیعی مکتب میں اس مسئلے کی جڑیں تقیہ، حفظِ دین، حفظِ حجت اور تاریخی ذمہ داری کے نہایت دقیق تصور میں پیوست ہیں۔

تقیہ شیعہ فکر میں کسی ذاتی کمزوری یا اخلاقی فرار کا نام نہیں بلکہ ایک اجتماعی و دینی حکمت ہے جس کا مدار اس بات پر ہوتا ہے کہ کسی خاص مرحلے پر حق کی بقا کس صورت میں زیادہ یقینی ہے۔ جب کوئی مرکزی شیعہ سیاسی یا سماجی تنظیم ظالم حکومت کے ساتھ بظاہر نرم رویّہ اختیار کرتی ہے تو اس کا جواز اس وقت پیدا ہوتا ہے جب کھلی مزاحمت کا نتیجہ نہ صرف تنظیم کی نابودی بلکہ دین کی نمائندہ قوت کے مکمل خاتمے کی صورت میں نکلنے کا قوی اندیشہ ہو۔ اگر عوام فکری طور پر منتشر، جذباتی اور سیاسی شعور سے خالی ہوں تو قیادت کی کھلی ٹکراؤ کی حکمت عملی دراصل عوام کو قربان کرنے کے مترادف بن جاتی ہے، نہ کہ انہیں نجات دلانے کے۔

اسی طرح اگر علماء و فقہا کی ایک بڑی تعداد یا تو دنیاوی مفادات میں الجھ جائے یا پھر سادہ لوحی کے ساتھ جابر قوتوں کے بیانیے کا حصہ بن جائے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہر صاحبِ بصیرت فرد بھی خود کو فوراً تصادم کی آگ میں جھونک دے۔ تشیع میں ہمیشہ ایک خطِ امامت رہا ہے اور ایک خطِ علماء؛ جب علماء کا بڑا حصہ انحراف کا شکار ہو جائے تو ذمہ داری ختم نہیں ہو جاتی بلکہ اور زیادہ نازک ہو جاتی ہے۔ ایسے ماحول میں تقیہ کبھی کبھی اس لیے اختیار کیا جاتا ہے کہ اصل خطِ امامت، اصل فکر اور اصل منصوبہ تاریخ کے سیلاب میں بہہ نہ جائے۔

یہاں ایک بنیادی مغالطہ بار بار دہرایا جاتا ہے کہ ہر دور میں امام حسینؑ کے قیام کو واحد نمونہ بنا کر پیش کیا جائے۔ امام حسینؑ کا قیام تشیع کی روح ہے، مگر تشیع کا پورا جسم نہیں۔ اگر ہر امام کا فریضہ صرف ظاہری قیام ہوتا تو امام حسنؑ کا صلح کرنا، امام سجادؑ کا دعا اور تربیت کے ذریعے معاشرہ بنانا، امام باقرؑ و امام صادقؑ کا علمی تحریک چلانا اور ائمہؑ کا طویل تقیہ اختیار کرنا سب غیر فطری نظر آتا۔ حقیقت یہ ہے کہ امام حسینؑ کا قیام ایک خاص تاریخی مرحلے میں حجتِ خدا کو مکمل کرنے کے لیے تھا، نہ کہ ہر زمانے کا یکساں فارمولا۔

یہی نکتہ ہمیں امام زمانہؑ کی غیبت کی حقیقت تک لے جاتا ہے۔ غیبت محض دشمن کے خوف کا نتیجہ نہیں بلکہ امت کی عدمِ اہلیت کا اعلان بھی ہے۔ روایات میں بار بار اس حقیقت کی طرف اشارہ ملتا ہے کہ اگر امامؑ ظہور کرتے تو لوگ ان کے ساتھ وہی سلوک دہراتے جو سابقہ ائمہؑ کے ساتھ کیا گیا۔ امام مہدیؑ اگر ظاہر ہوتے اور عوام، خواص، علماء اور طاقت کے مراکز آمادہ نہ ہوتے تو نتیجہ یا تو ایک اور شہادت ہوتا یا پھر امامؑ کی تعلیمات کو مسخ کر کے انہیں ایک رسمی، بے ضرر علامت بنا دیا جاتا۔

یہ سوال کہ کیا امام مہدیؑ بھی شہید ہو جاتے اور پھر اماموں کا تسلسل چلتا رہتا، دراصل امامت کے فلسفے کو سمجھے بغیر اٹھایا جاتا ہے۔ امام مہدیؑ آخری حجت ہیں، ان کے بعد امامت کا تسلسل نہیں بلکہ تاریخ کا اختتام اور عدلِ الٰہی کا ظہور ہے۔ اگر وہ بھی سابقہ ائمہؑ کی طرح شہید ہو جاتے تو گویا خدا کی طرف سے قائم ہونے والی آخری حجت بھی ناکام قرار پاتی، جو امامت کے مقصد کے خلاف ہے۔ اسی لیے غیبت دراصل امامؑ کی حفاظت سے زیادہ انسانیت کے امتحان کا نام ہے۔

عوامی کردار یہاں مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ غیبت کا تسلسل اس بات کا اعلان ہے کہ امت ابھی اس قابل نہیں ہوئی کہ حق کو اس کی پوری سختی اور عدل کے ساتھ برداشت کر سکے۔ ظہور کسی ایک دن کا معجزہ نہیں بلکہ ایک طویل اخلاقی، فکری اور سیاسی تیاری کا نتیجہ ہے۔ جب عوام شعوری طور پر حق کے بوجھ کو اٹھانے کے قابل ہوں گے، جب تقیہ خوف نہیں بلکہ حکمت سے نکل کر آمادگی میں بدل جائے گا، تب غیبت کا پردہ خود بخود ہٹنے لگے گا۔

جب کہا جاتا ہے کہ عوام فکری طور پر منتشر ہیں تو اس سے مراد یہ نہیں ہوتی کہ لوگ بالکل سوچنے کی صلاحیت سے محروم ہو چکے ہیں، بلکہ یہ کہ ان کی سوچ کسی ایک جامع تصور، واضح مقصد اور مشترک ترجیح کے گرد منظم نہیں ہو پاتی۔ ایسے معاشرے میں حق و باطل کے بنیادی تصورات تو موجود ہوتے ہیں مگر وہ ایک ہم آہنگ فکری نقشے میں ڈھل نہیں پاتے۔ لوگ ظلم سے نفرت بھی کرتے ہیں اور اسی ظلم کے پیدا کردہ وقتی فوائد سے وابستگی بھی رکھتے ہیں۔ وہ بیک وقت انقلاب کے نعرے بھی لگاتے ہیں اور اس کے لازمی نتائج سے خوف زدہ بھی ہوتے ہیں۔ یہ داخلی تضاد فکری انتشار کی اصل علامت ہے، جہاں سوچ کے اجزا آپس میں جڑے نہیں ہوتے بلکہ بکھرے ہوئے ردِعمل کی صورت اختیار کر لیتے ہیں۔

جذباتیت سے مراد یہ نہیں کہ عوام میں احساس، درد یا غیرت موجود نہیں بلکہ یہ کہ جذبات عقل، حکمت اور طویل المدت نتائج کے تابع نہیں رہتے۔ جذباتی معاشرہ فوری نعروں، خطیبانہ جملوں، وقتی مظلومیت یا وقتی فتح کے مناظر سے متحرک ہو جاتا ہے مگر جیسے ہی حالات پیچیدہ ہوتے ہیں، قربانی کا مرحلہ آتا ہے یا مشکلات طول پکڑتی ہیں، وہی جذبات کمزوری، مایوسی یا باہمی الزام تراشی میں بدل جاتے ہیں۔ ایسے ماحول میں قیادت اگر کھلی ٹکراؤ کی راہ اختیار کرے تو عوام جوش کے عالم میں ابتدا میں ساتھ تو دیتے ہیں مگر مسلسل استقامت، نظم، ضبط اور خاموش قربانی کے مرحلے پر پہنچ کر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتے ہیں۔ جذبات یہاں قوت نہیں رہتے بلکہ غیر متوازن ایندھن بن جاتے ہیں جو تحریک کو آگ تو دیتے ہیں مگر سمت نہیں۔

سیاسی شعور اور بصیرت سے خالی ہونے کا مطلب یہ ہے کہ عوام طاقت کے اصل مراکز، ریاستی ڈھانچوں، عالمی مفادات، معاشی دباؤ اور داخلی و خارجی سازشوں کی پیچیدگی کو سمجھنے سے قاصر ہوں۔ وہ سیاست کو محض خیر و شر کے سادہ اخلاقی خانوں میں دیکھتے ہیں اور یہ ادراک نہیں رکھتے کہ ظالم حکومتیں صرف ظلم سے نہیں بلکہ انتظامی مہارت، خوف، مفادات، بیانیے اور بین الاقوامی توازن سے قائم رہتی ہیں۔ ایسے عوام فوری تبدیلی کی توقع رکھتے ہیں، مگر تدریجی حکمتِ عملی، صبر، تنظیم سازی اور فکری تیاری کو بزدلی سمجھ لیتے ہیں۔ نتیجتاً وہ یا تو قیادت پر حد سے زیادہ توقعات لاد دیتے ہیں یا ناکامی کی پہلی علامت پر اسی قیادت کو غدار قرار دے دیتے ہیں۔

جب یہ تینوں کیفیات ایک ساتھ جمع ہو جائیں تو قیادت اور عوام کے درمیان ایک خطرناک خلا پیدا ہو جاتا ہے۔ قیادت اگر حالات کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے حکمتِ عملی اختیار کرے تو عوام اسے مفاہمت یا کمزوری سمجھتے ہیں، اور اگر قیادت عوامی جذبات کے دباؤ میں آ کر تصادم کا راستہ اختیار کرے تو عوام خود اس تصادم کے اخلاقی، معاشی اور جانی نتائج برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ اس صورت میں کھلی ٹکراؤ کی حکمتِ عملی دراصل عوام کو اس امتحان میں جھونک دینا بن جاتی ہے جس کے لیے وہ ذہنی، فکری اور اخلاقی طور پر تیار ہی نہیں ہوتے۔

شیعہ تاریخ میں یہی نکتہ بار بار سامنے آتا ہے کہ قیام صرف ظلم کی موجودگی سے واجب نہیں ہوتا بلکہ ظلم کے مقابلے میں کھڑے ہونے والے معاشرے کی اہلیت سے مشروط ہوتا ہے۔ امام حسینؑ کے مقابلے میں کوفہ کے عوام کا المیہ یہی تھا کہ وہ ظلم کو پہچانتے تھے مگر اس کے نتائج اٹھانے کی فکری و اخلاقی صلاحیت نہیں رکھتے تھے۔ اسی لیے تشیع میں عوام کی تربیت، بصیرت کی تشکیل اور شعوری ارتقا کو ہمیشہ قیام پر مقدم رکھا گیا۔ جب یہ بنیاد موجود نہ ہو تو قیادت کا کھلا تصادم عوام کو نجات نہیں دیتا بلکہ انہیں ایسے طوفان میں دھکیل دیتا ہے جہاں سب سے پہلے خود وہی غرق ہوتے ہیں جنہیں بچانا مقصود ہوتا ہے۔

یوں فکری انتشار، غیر متوازن جذباتیت اور سیاسی بصیرت کی کمی دراصل عوام کی اخلاقی یا دینی کمزوری نہیں بلکہ ایک اجتماعی ناپختگی کی علامت ہے۔ جب تک یہ ناپختگی دور نہ ہو، خاموشی، تدریج اور تقیہ بسا اوقات بزدلی نہیں بلکہ عوام کو قربانی کے نام پر ضائع ہونے سے بچانے کی آخری ذمہ دارانہ صورت بن جاتی ہے۔

لہٰذا ظالم حکومت کے ساتھ بظاہر قربت ہر حال میں نہ حرام ہے اور نہ جائز؛ یہ ایک عارضی، مشروط اور نہایت خطرناک حکمتِ عملی ہے جس کا فیصلہ نعروں سے نہیں بلکہ نتائج سے کیا جاتا ہے۔ تشیع نہ دائمی خاموشی کا مذہب ہے اور نہ دائمی تصادم کا، بلکہ وہ تاریخ کے ہر موڑ پر یہ سوال پوچھتا ہے کہ اس لمحے حق کی بقا کس راستے میں زیادہ محفوظ ہے۔ یہی سوال امام حسینؑ کے قیام کے پیچھے تھا، یہی سوال امام حسنؑ کی صلح میں تھا، یہی سوال غیبتِ امام زمانہؑ میں پوشیدہ ہے، اور یہی سوال آج ہر مرکزی شیعہ قیادت کے سامنے کھڑا ہے۔

مختصر لنک: https://www.siraat-times.com/?p=2501

ٹیگز

تبصرے