54

تفسیر قرآن / سورہ القدر

  • نیوز کوڈ : 1285
  • 21 March 2025 - 3:46
تفسیر قرآن / سورہ القدر

صراط ٹائمز / سورۂ قدر قرآن مجید کی ایک نہایت اہم اور بابرکت سورت ہے، جو شبِ قدر کی فضیلت، قرآن کے نزول، فرشتوں کے نزول اور اس رات کی عظمت کو بیان کرتی ہے۔ علامہ طباطبائی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی معروف تفسیر “المیزان” میں اس سورت کی گہری تشریح کی ہے، جو شبِ […]

صراط ٹائمز / سورۂ قدر قرآن مجید کی ایک نہایت اہم اور بابرکت سورت ہے، جو شبِ قدر کی فضیلت، قرآن کے نزول، فرشتوں کے نزول اور اس رات کی عظمت کو بیان کرتی ہے۔ علامہ طباطبائی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی معروف تفسیر “المیزان” میں اس سورت کی گہری تشریح کی ہے، جو شبِ قدر کی حقیقت اور اس کی معنوی اہمیت کو واضح کرتی ہے۔

نزولِ قرآن اور شبِ قدر

اللہ تعالیٰ سورۂ قدر کی پہلی آیت میں فرماتا ہے:۔

بے شک ہم نے اسے (قرآن) شبِ قدر میں نازل کیا

تفسیر المیزان کے مطابق، یہ آیت اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ قرآن کریم یکبارگی لوحِ محفوظ سے عالمِ ناسوت میں نازل کیا گیا۔ اس نزول کی مزید وضاحت سورۂ دخان کی آیت “ہم نے اسے ایک بابرکت رات میں نازل کیا” سے بھی ہوتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ شبِ قدر میں قرآن کا نزول ایک عظیم اور الٰہی فیصلہ تھا جو پوری انسانیت کے لیے ہدایت اور رشد و کمال کا ذریعہ بنا۔

شبِ قدر کی عظمت اور فضیلت

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:”اور آپ کو کیا معلوم کہ شبِ قدر کیا ہے؟ شبِ قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔

علامہ طباطبائی کے مطابق، یہاں اللہ تعالیٰ شبِ قدر کی عظمت کو سوالیہ انداز میں بیان کر کے اس کے غیر معمولی مقام کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ پھر واضح کیا کہ یہ رات ہزار مہینوں (تقریباً 83 سال) سے زیادہ فضیلت رکھتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو عبادت، دعا، ذکر اور استغفار اس رات میں کیا جائے، وہ ہزار مہینوں کی عبادت سے بڑھ کر اجر رکھتا ہے۔

فرشتوں اور روح کا نزول

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:”اس رات میں فرشتے اور روح اپنے رب کے حکم سے ہر کام کے ساتھ نازل ہوتے ہیں۔

تفسیر المیزان کے مطابق، یہاں “روح” سے مراد حضرت جبرائیل علیہ السلام ہیں، جو اللہ کے خاص فرشتے ہیں اور جو شبِ قدر میں زمین پر نازل ہوتے ہیں۔ اس نزول کا مقصد مومنین کے لیے برکتیں، رحمتیں اور اللہ کے خاص فیصلوں کا ابلاغ ہے۔

یہ نزول صرف نزولِ قرآن کے زمانے تک محدود نہیں، بلکہ ہر سال شبِ قدر میں یہ سلسلہ جاری رہتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آج بھی شبِ قدر میں فرشتے نازل ہوتے ہیں اور اللہ کے احکامات کو زمین پر پہنچاتے ہیں۔

تقدیر کے فیصلے

تفسیر المیزان میں اس بات کی وضاحت کی گئی ہے کہ شبِ قدر میں اللہ تعالیٰ آئندہ سال کے لیے مخلوقات کی تقدیر کے فیصلے کرتا ہے۔ ان فیصلوں میں زندگی، موت، رزق، خوشحالی، مشکلات اور دیگر امور شامل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ شبِ قدر میں دعا، استغفار اور اللہ کے حضور توبہ کا خاص اہتمام کرنا چاہیے تاکہ انسان کے مقدر میں بھلائی لکھی جائے۔

شبِ قدر، سراسر سلامتی کی رات

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:”یہ رات سراسر سلامتی ہے، صبح کے طلوع ہونے تک۔

تفسیر المیزان کے مطابق، یہاں “سلام” کا مطلب ہے کہ شبِ قدر میں اللہ کی رحمت عام ہوتی ہے اور یہ رات شیطانی اثرات سے محفوظ ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے خاص لطف و کرم کے باعث یہ رات امن، برکت اور ہدایت کی رات بن جاتی ہے۔

نتیجہ: شبِ قدر سے استفادہ کیسے کریں؟

تفسیر المیزان میں سورۂ قدر کی روشنی میں درج ذیل اہم اعمال کی سفارش کی گئی ہے:۔

قرآن کی تلاوت – کیونکہ یہ وہ رات ہے جس میں قرآن نازل ہوا۔

استغفار اور توبہ – شبِ قدر میں گناہوں کی معافی طلب کرنا بے حد اہم ہے۔

دعا اور مناجات – اللہ سے خیر، برکت اور رحمت طلب کریں۔

امام زمانہ (عج) سے توسل – کیونکہ شبِ قدر میں زمین پر اللہ کے خاص نمائندے کے وسیلے سے رحمتیں نازل ہوتی ہیں۔

مظلومین کے لیے دعا – کیونکہ یہ رات اجتماعی فلاح اور خیر کی رات ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں اس مقدس رات کی برکتوں سے زیادہ سے زیادہ استفادہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

مختصر لنک: https://www.siraat-times.com/?p=1285

ٹیگز

تبصرے