54

تفسیر قرآن / سورہ تکویر

  • نیوز کوڈ : 1206
  • 15 March 2025 - 0:33
تفسیر قرآن / سورہ تکویر

صراط ٹائمز / تفسیر المیزان کے مطابق سورہ التکاثر کی تشریح:۔ آیت 1: “أَلْهَاكُمُ التَّكَاثُرُ” (تمہیں مال و دولت کی کثرت نے غافل کر دیا)علامہ طباطبائیؒ فرماتے ہیں کہ “التَّكَاثُرُ” کا مطلب مال، اولاد، قبیلے اور دنیاوی وسائل کی کثرت میں ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی کوشش کرنا ہے۔ لوگ دنیاوی چیزوں کے حصول […]

صراط ٹائمز / تفسیر المیزان کے مطابق سورہ التکاثر کی تشریح:۔

آیت 1: “أَلْهَاكُمُ التَّكَاثُرُ” (تمہیں مال و دولت کی کثرت نے غافل کر دیا)علامہ طباطبائیؒ فرماتے ہیں کہ “التَّكَاثُرُ” کا مطلب مال، اولاد، قبیلے اور دنیاوی وسائل کی کثرت میں ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی کوشش کرنا ہے۔ لوگ دنیاوی چیزوں کے حصول میں اس قدر مشغول ہو جاتے ہیں کہ اپنی حقیقی ذمہ داریوں، یعنی آخرت کی تیاری کو بھول جاتے ہیں۔

آیت 2: “حَتَّىٰ زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ” (یہاں تک کہ تم نے قبروں کا رخ کیا)اس کا مطلب یہ ہے کہ لوگ دنیاوی مال و دولت میں اس قدر غرق ہو جاتے ہیں کہ انہیں اس سے نجات کا موقع ہی نہیں ملتا، یہاں تک کہ موت آ جاتی ہے۔ “زرتم” (تم نے قبروں کا دورہ کیا) کا مطلب ہے کہ انسان قبر میں داخل ہو کر وقتی طور پر وہاں رہتا ہے، کیونکہ اصل زندگی آخرت میں ہے۔

آیت 3-4: “كَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُونَ، ثُمَّ كَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُونَ” (ہرگز نہیں! تم عنقریب جان لو گے، پھر ہرگز نہیں! تم جلد جان لو گے)یہاں “کَلَّا” تنبیہ اور جھنجھوڑنے کے لیے ہے، یعنی یہ دنیاوی دوڑ تمہیں دھوکے میں نہ ڈالے، بہت جلد تمہاری حقیقت تم پر آشکار ہو جائے گی۔

آیت 5: “كَلَّا لَوْ تَعْلَمُونَ عِلْمَ الْيَقِينِ” (اگر تم یقینی علم رکھتے)علامہ طباطبائیؒ فرماتے ہیں کہ اگر انسان دنیا کی حقیقت کو علم الیقین کے درجے میں سمجھ لے، تو وہ ہرگز دنیاوی چیزوں کے پیچھے نہیں بھاگے گا بلکہ اپنی آخرت کی تیاری کرے گا۔

آیت 6-7: “لَتَرَوُنَّ الْجَحِيمَ، ثُمَّ لَتَرَوُنَّهَا عَيْنَ الْيَقِينِ” (تم یقینا جہنم کو دیکھو گے، پھر تم اسے یقین کی آنکھ سے دیکھو گے)یہاں “عین الیقین” کا مطلب ہے کہ وہ جہنم کو اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے، یعنی کوئی شک باقی نہیں رہے گا۔ تفسیر المیزان میں علامہ طباطبائیؒ نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اس سے مراد آخرت کے حقائق کا ایسا مشاہدہ ہے جو کسی شک و شبہ کے بغیر ہوگا۔

آیت 8: “ثُمَّ لَتُسْأَلُنَّ يَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِيمِ” (پھر اس دن تم سے نعمتوں کے بارے میں ضرور پوچھا جائے گا)قیامت کے دن ہر شخص سے اس کے ملنے والی نعمتوں کے بارے میں سوال کیا جائے گا کہ انہیں کہاں اور کیسے استعمال کیا؟ تفسیر المیزان میں وضاحت کی گئی ہے کہ یہاں “نعمت” سے مراد دنیاوی نعمتیں بھی ہو سکتی ہیں جیسے مال، صحت، علم اور وقت، اور دینی نعمتیں بھی جیسے ایمان اور ہدایت۔

حاصلِ تفسیر1 دنیاوی مال و دولت اور شہرت کی دوڑ میں لگ کی انسان آخرت کو بھول جاتا ہے۔

۔2. یہ دنیاوی مصروفیت موت تک جاری رہتی ہے، اور انسان اس حقیقت کو مرنے کے بعد سمجھتا ہے۔

۔3. قیامت کے دن ہر شخص جہنم کو اپنی آنکھوں سے دیکھے گا۔

۔4. اللہ تعالیٰ ہر انسان سے ان نعمتوں کے بارے میں سوال کرے گا جو اسے دنیا میں عطا کی گئیں تھیں۔

یہ تفسیر، تفسیر المیزان کے اصول کے مطابق قرآن کی آیات کی روشنی میں کی گئی ہے، جس میں علامہ طباطبائیؒ نے قیامت اور دنیاوی غفلت کی حقیقت کو واضح کیا ہے۔

مختصر لنک: https://www.siraat-times.com/?p=1206

ٹیگز

تبصرے