35

تفسیر قرآن / صدقہ اور عزت نفس ! سورہ البقرہ آیت 264

  • نیوز کوڈ : 1154
  • 10 March 2025 - 8:01
تفسیر قرآن / صدقہ اور عزت نفس ! سورہ البقرہ آیت 264

صراط ٹائمز / تفسیر المیزان (علامہ سید محمد حسین طباطبائیؒ) کے مطابق سورۃ البقرہ کی آیت 264 میں صدقے کے صحیح انداز اور اُس کے روحانی اثرات کی نشاندہی کی گئی ہے۔ ذیل میں تفسیر المیزان کی روشنی میں اس آیت کے اہم نکات کی وضاحت پیش کی جا رہی ہے:۔ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا […]

صراط ٹائمز / تفسیر المیزان (علامہ سید محمد حسین طباطبائیؒ) کے مطابق سورۃ البقرہ کی آیت 264 میں صدقے کے صحیح انداز اور اُس کے روحانی اثرات کی نشاندہی کی گئی ہے۔ ذیل میں تفسیر المیزان کی روشنی میں اس آیت کے اہم نکات کی وضاحت پیش کی جا رہی ہے:۔

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُبْطِلُوا صَدَقَاتِكُمْ بِالْمَنِّ وَالْأَذَىٰ كَالَّذِي يُنفِقُ مَالَهُ رِئَاءَ النَّاسِ وَلَا يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ۖ فَمَثَلُهُ كَمَثَلِ صَفْوَانٍ عَلَيْهِ تُرَابٌ فَأَصَابَهُ وَابِلٌ فَتَرَكَهُ صَلْدًا ۖ لَا يَقْدِرُونَ عَلَىٰ شَيْءٍ مِّمَّا كَسَبُوا ۗ وَاللَّهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْكَافِرِينَ۔
(سورہ البقرہ: 264)

ترجمہ

اے ایمان والو! اپنے صدقات کو احسان جتا کر اور تکلیف پہنچا کر ضائع نہ کرو، اس شخص کی طرح جو لوگوں کو دکھانے کے لیے اپنا مال خرچ کرتا ہے اور اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان نہیں رکھتا۔ اس کی مثال اس چکنے پتھر کی مانند ہے جس پر مٹی ہو، پھر اس پر زور کا مینہ برسے اور اسے بالکل صاف کر دے۔ ایسے لوگ اپنے اعمال میں سے کسی چیز پر قدرت نہیں رکھتے، اور اللہ کافروں کو ہدایت نہیں دیتا۔

صدقہ کی نیت اور اس کی قبولیت:۔

صدقہ اللہ کی رضا کے لیے دیا جانا چاہیے۔اگر صدقہ احسان جتانے یا دوسروں کو اذیت دینے کے ساتھ دیا جائے، تو وہ اللہ کی بارگاہ میں مردود ہو جاتا ہے۔ریاکاری (دکھاوے) سے دیا گیا صدقہ بھی باطل ہے، کیونکہ یہ خلوصِ نیت سے خالی ہوتا ہے۔

“المن” اور “الأذى” کے نقصانات:۔

آیت میں صدقہ کو ضائع کرنے کی دو وجوہات بیان کی گئی ہیں: “المن” (احسان جتانا): صدقہ دے کر بار بار یاد دلانا اور دوسروں کو اپنی سخاوت جتلانا۔ “الأذى” (اذیت دینا): صدقہ دے کر دوسروں کو شرمندہ کرنا یا ان کی عزت نفس مجروح کرنا۔ المیزان کی وضاحت: اگر کوئی شخص غریب کی مدد کر کے اسے شرمندہ کرے یا خود کو برتر سمجھے، تو اس کا صدقہ اللہ کی نظر میں بے قیمت ہو جاتا ہے۔

صدقہ دینے والے کی نیت اور “ریاکاری” کی مذمت:۔

اگر کوئی شخص لوگوں کو دکھانے کے لیے صدقہ دے اور اس کی نیت صرف شہرت ہو، تو اس کا صدقہ باطل ہو جاتا ہے۔ریا کارانہ صدقہ کی مثال:جیسے ایک چمکدار پتھر (صفوان) پر مٹی ہو، اور پھر بارش آ کر اسے دھو ڈالے، ویسے ہی ریاکار کا عمل برباد ہو جاتا ہے۔آلودہ ہو، وہ کسی روحانی فائدے سے محروم رہتا ہے۔

صدقہ کے لیے خالص نیت کی ضرورت:۔

صدقہ ایک پاکیزہ عبادت ہے، اس میں اخلاص ضروری ہے۔اگر کوئی شخص اللہ پر ایمان نہیں رکھتا اور ریاکاری میں صدقہ دیتا ہے، تو اس کا انجام سراسر خسارہ ہے۔اس آیت میں ان لوگوں کی مثال دی گئی ہے جو صرف دنیاوی مفاد کے لیے صدقہ دیتے ہیں، مگر آخرت میں کچھ نہیں پاتے۔

حقیقی نیکی اور صدقہ کی اصل روح:۔

حقیقی صدقہ وہی ہے جس میں عاجزی اور خلوص ہو۔صدقہ دینے سے پہلے وصول کنندہ کی عزت نفس کا خیال رکھنا ضروری ہے۔مالی امداد کا مقصد مدد کرنا ہے، نہ کہ دوسروں کو کمتر محسوس کروانا۔صدقہ اور ہدایت کا باہمی تعلق اللہ ایسے لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا جو نیکی کو غلط نیت سے کرتے ہیں۔

مالی عبادات میں ایمان اور خلوص بنیادی شرط ہے۔: صدقہ دینا صرف مالی عمل نہیں بلکہ روحانی آزمائش بھی ہے۔ احسان جتانے، تکلیف پہنچانے اور ریاکاری سے صدقہ برباد ہو جاتا ہے۔خالص نیت سے دیا گیا صدقہ دنیا و آخرت میں کامیابی کا ذریعہ بنتا ہے۔

مختصر لنک: https://www.siraat-times.com/?p=1154

ٹیگز

تبصرے