35

تفسیر قرآن / سورہ الصف آیت 2

  • نیوز کوڈ : 1138
  • 09 March 2025 - 3:53
تفسیر قرآن / سورہ الصف آیت 2

صراط ٹائمز / علامہ طباطبائیؒ اپنی تفسیر المیزان میں اس آیت کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ یہ آیت ان لوگوں کو مخاطب کر رہی ہے جو زبانی دعوے تو بڑے کرتے ہیں لیکن جب عمل کرنے کا وقت آتا ہے تو وہ پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لِمَ تَقُولُونَ مَا […]

صراط ٹائمز / علامہ طباطبائیؒ اپنی تفسیر المیزان میں اس آیت کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ یہ آیت ان لوگوں کو مخاطب کر رہی ہے جو زبانی دعوے تو بڑے کرتے ہیں لیکن جب عمل کرنے کا وقت آتا ہے تو وہ پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لِمَ تَقُولُونَ مَا لَا تَفْعَلُونَ

ترجمہ:”اے ایمان والو! وہ بات کیوں کہتے ہو جو کرتے نہیں ہو؟”

تفسیر المیزان میں اس آیت کی وضاحت

قول و فعل میں تضاد کی مذمت : ۔

علامہ طباطبائیؒ فرماتے ہیں کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ ایمان والوں کو خبردار کر رہا ہے کہ وہ کسی بات کا دعویٰ کرنے سے پہلے اس پر عمل کرنے کی صلاحیت رکھیں۔ اگر کوئی شخص زبانی دعوے کرے لیکن عملی طور پر اس کے برعکس عمل کرے تو یہ ایک ناپسندیدہ اور نفاق کے قریب تر رویہ ہے۔

اس آیت کا عمومی مفہوم:.۔

بعض مفسرین کا کہنا ہے کہ یہ آیت خاص طور پر ان لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی جو جہاد کے بارے میں بڑے بڑے دعوے کرتے تھے، لیکن جب موقع آتا تو پیچھے ہٹ جاتے تھے۔ لیکن علامہ طباطبائیؒ اس آیت کے مفہوم کو عام قرار دیتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ یہ ہر اس موقع پر لاگو ہوتی ہے جہاں کوئی شخص کسی نیکی کا زبانی دعویٰ کرے مگر عملی طور پر اس پر کاربند نہ ہو

اخلاص کی اہمیت

اسلام میں صرف الفاظ کی نہیں بلکہ نیت اور اخلاص کے ساتھ عمل کی بھی اہمیت ہے۔ قول اور فعل میں تضاد نفاق کی علامت بن سکتا ہے اور یہ ایک کمزور ایمان کی نشانی ہے

قرآن کا عمومی اسلوب :۔

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کئی مقامات پر ایسے لوگوں کی مذمت فرماتا ہے جو قول اور فعل میں تضاد رکھتے ہیں۔ مثلاً، سورۃ البقرہ میں فرمایا گیا:۔

“أَتَأْمُرُونَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَتَنسَوْنَ أَنفُسَكُمْ”

ترجمہ : کیا تم لوگوں کو نیکی کا حکم دیتے ہو اور خود اپنے آپ کو بھول جاتے ہو؟

(البقرہ: 44)

خلاصہ

تفسیر المیزان کے مطابق، یہ آیت مسلمانوں کو اس بات کی نصیحت کرتی ہے کہ وہ محض زبانی دعوے نہ کریں بلکہ اپنے عمل سے بھی ان باتوں کی تصدیق کریں۔ قول اور فعل میں تضاد اللہ کی ناراضگی کا باعث بن سکتا ہے اور ایمان کی کمزوری کی علامت ہے۔ اس لیے مسلمان کو چاہیے کہ جو کچھ کہے، اس پر عمل بھی کرے۔

مختصر لنک: https://www.siraat-times.com/?p=1138

ٹیگز

تبصرے